بچوں کو ہنر سکھائیں

Warda Siddiqi
Print Friendly, PDF & Email

تحریر: وردہ صدیقی

بچے جب اپنی جمع کردہ رقم نکالیں تو انہیں زکو ۃکی ٹریننگ لازمی دیں۔ بچوں کو بتائیں کہ زکوۃپانچارکان اسلام میں سے ایک اہم رکن ہے۔ زکوۃ کے فضائل و برکات بتائیے، نہ دینے پر اللہ کی ناراضگی کا بتائیے۔ خود ان کے ساتھ مل کر انہیں کل رقم کا 2.5 فیصد نکالنا سکھائیں۔ اور انہی کے ہاتھ سے کسی مستحق غریب کو وہ پیسے دلوائیں، تاکہ ان کی ابھی سے تربیت ہو سکے۔

ذریعہ معاش کی ٹریننگ دیں

ایک 7ویں کلاس کے بچے نے جب یہ دیکھا کہ اس کے والد نے اپنے گھر کرائے پر دے رکھے ہیں تو ایک روز اپنے جمع شدہ پیسوں سے ایک بلا (Bat) خرید لایا اور محلے کے بچوں کو 20 روپے کرایہ پر کھیلنے کے لیے دینے لگا۔ ایسی ہی ایک بچی اپنی کلاس میٹس کو ٹیوشن دینے اور سمجھانے کی فیس لیا کرتی تھی اور مہندی کا ہنر سیکھ کر عید پر مہندی لگانے کے 50 روپے لیتی تھی۔ بعض بچے دیکھا دیکھی سیکھ جاتے ہیں۔ انہیں خود شوق ہوتا ہے۔
ان میں تجسس ہوتا ہے، ان کا دل کرتا ہے تجربات کرنے کو۔ اس لیے بچوں کو ڈانٹ ڈپٹ کر کے ہر ہر چیز سے منع نہ کریں، بلکہ انہیں اپنے تجربات بھی کرنے دیں، تاکہ ان میں Confidence آئے اور سیکھنے کو ملے۔ پھر پوچھیں بھی کہ کیا سیکھنے کو ملا؟ آئندہ ہمیں کیسے معاملہ کرنا ہے؟ کن باتوں کا خیال رکھنا ہے؟ جشن آزادی کے موقع پر بچوں کو انہی کے پیسوں سے جھنڈیاں اور دیگر سامان لے کر دیں اور خرید و فروخت کرنا سکھائیں، تاکہ انہیں انویسٹمنٹ اور انکم کی سمجھ آئے۔ گرمی کے موسم میں خوب صورت سا جوس اسٹال، سردیوں کے موسم میں موم پھلی اسٹال لگا کر دیں۔ جو منفرد اور پرکشش بھی ہو۔

بچوں کو ہنر سکھائیں

بڑے ہوتے بچوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ ہنر بھی سکھائیں۔ آج کے نوجوان نوکریوں کے لیے جوتے چٹخاتے پھرتے ہیں۔ ایسے وقت میں اگر آپ کے بچے کے پاس ہنر ہے تو وہ کبھی مایوس نہیں ہو گا، بلکہ وہ اپنے ہنر کا استعمال کر کے اپنے پاؤں پر کھڑا ہو جائے گا، لہذا بچے کو زمانے کے مطابق، مستقبل کی مانگ و حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہنر سکھائیں۔ جیسا کہ اب آن لائن کا دور ہے۔ مائیں بچوں کے بے جا موبائل کے استعمال سے پریشان ہیں۔ ایسے میں انہیں آن لائن اسکلز سکھائیں۔ کمپیوٹر، گرافکس ڈیزائننگ، ویڈیو ایڈیٹنگ، ویب ڈیزائننگ، سوشل میڈیا مارکیٹنگ وغیرہ وغیرہ۔
بیٹیوں کو بھی نظر انداز مت کیجئے، انہیں بھی بھرپور تعلیم کے ساتھ دونوں طرح کی اسکلز سکھائیں۔ ہاتھ کا ہنر بھی دیں اور ڈیجیٹل سکلز بھی۔ انہیں بھی معاشی تربیت دیں۔ انہیں ہر قسم کے حالات سے مقابلہ کرنے والا بنائیں۔
بچوں کی ایسی معاشی تربیت سے بچوں میں ذمہ داری کا احساس پیدا ہو گا۔ بچپن میں یہ ہنر اور اسکلز کے سیکھنے سے معاشی طور پر خود کفیل ہو جائیں گے۔ مستقبل میں معاشرے کے مفید فعال شہری ثابت ہوں گے۔ اور ملک و ملت کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

بچوں کو مختلف زبانیں سکھائیں

بچپن میں ہی اپنے بچوں کو مختلف زبانیں بھی سکھائیں۔ اردو اور انگلش لازمی سکھائیں۔ اس کے علاوہ چائنیز، فرنچ اور ترکش وغیرہ بھی سکھائیں، کیونکہ بچپن میں لینگویج سیکھنا بہت آسان ہوتا ہے۔ اب تو انٹرنیٹ کا دور ہے، اس کی مدد سے یہ فن بآسانی سیکھا جا سکتا ہے۔ بالخصوص بچیوں کے لیے لینگویج سیکھنے سے گھر بیٹھے عالمی دنیا کے کسٹمرز کے ساتھ کاروباری ڈیلنگز کرنے میں آسانی ہوگی۔
اگر آپ ایمازون پر کام کر رہے ہیں یا فری لانسنگ کر رہے ہیں اور کسی فارن کسٹمر سے بات کرنی پڑ جاتی ہے۔ ایسے میں آپ کا ذہن فورا ٹرانسلیٹر ایپلیکیشنز کی طرف جاتا ہے، لیکن ان پر سو فیصد اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ جو لوگ استعمال کرتے ہیں، انہیں علم ہو گا کہ اکثر اوقات جو ہم کہنا چاہ رہے ہوتے ہیں، ٹرانسلیٹر بعینہ وہ ترجمہ نہیں کر پاتا، لہذا ان ایپ سے ہم مکمل فائدہ اس وقت اٹھا سکتے ہیں، جب تھوڑا بہت ہم خود بھی جانتے ہوں۔

Short URL: https://tinyurl.com/2nfp4yqg
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *