اس گہما گہمی کی دنیا میں ہم نیکی اور گناہ کا فرق بھی بھولتے جا رہے ہیں ، ہم گناہوں کی دلدل میں ڈوبتے ہی جا رہے ہیں لیکن اگر کبھی ہمارا ضمیر ہمیں احساس دلانے ہی لگ جائے کہ
آج صبح سے ہی نجانے طبیعت پہ نجانے کیسا بوجھل پن چھایا تھا کہ کسی کام میں بھی دل نہیں لگ رہا تھا عصر کے بعد کا وقت تھا کہ میں دوسری منزل کی سیڑھیاں چڑھ کے سب سے اوپر
ہم آج کے انسان نجانے کیوں اتنے بے حس ہوتے جا رہے ہیں کہ ہمیں تب تک دوسروں کی تکلیفوں کا اندازہ نہیں ہوتا جب تک ہم خود اس تکلیف کا سامنا نا کر لیں ۔ ہر جگہ ہر مسجد
سورۃالنور آیت نمبر ۰۳ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ مسلمان مردوں کو حکم دو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اگلی آیت میں فرمایا مسلمان عورتوں کو حکم دو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے
کچھ دن پہلے میری ایک عورت سے ملاقات ہوئی جس نے اپنے بچے کو اٹھایا ہوا تھا ، بچہ کیا تھا ہڈیوں کا ایک ڈھانچہ جو غربت کی ایک مکمل داستان بیان کر رہا تھاپھر بھی میں نے پوچھا باجی
کہنے کو تو ہم مسلمان ہیں لیکن ہم یہودیوں کے طور طریقے اپنانے میں فخر محسوس کرتے ہیں جیسے کو ایجوکیشن کے نظام کو لے لیا جائے۔ اسلام میں کو ایجوکیشن سرے سے جائز ہی نہیں ۔ کیوں کہ اللہ
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ متقین لوگ جنت میں جائیں گے اور میں اکثر سوچتی تھی کہ متقین آخر کون لوگ ہوتے ہیں ؟ لیکن مجھے بس اس کا مطلب پتہ تھا کے یہ پرہیزگار ہوتے ہیں ۔۔۔ لیکن