بریکنگ نیوز

چِٹا کٹھہ جھیل

Loading




پیر پنجال  کا مغربی ہمالیہ  میں واقع   پہاڑ  “دیامر”کوہ ہندوکش کا پہاڑ “پریان زون” تبت میں واقع “چھگوری” پہاڑ   ہو یا “سر والی” چوٹی  شونٹر۔ماضی کی طرح  آج بھی لوگ  ان پہاڑوں کو پریوں کا مسکن جن دیو کی آمجگاہ سمجھے ہیں ۔ “دیامر “شینا لفظ جس کے معانی پریوں کا مسکن،” پریان زون “کھوار زبان کا لفظ جس کے معانی  پریوں کا دیس اوراسطرح  “چھوگوری” بلتی زبان کا لفظ  جس کے معانی دیو ہیکل کے ہیں جبکہ نیلم میں موجود “سروالی” چوٹی   سب سے بڑی اور سر کے تاج  کی مانند کھڑی  نمایاں اور منفرد  چیز کے معانوں میں استعمال  لائے جانے والے الفاظ ہیں  ۔ ان پہاڑوں سے جڑے دیو مالائی قصوں کو لیکر بیٹھا جائے تو داستانوں کا ایک انبار اور نہ ختم ہونے والا سلسلہ ایسے ہی شروع ہوگا جیسے ان پہاڑوں  کے بیچ   ایک سے بڑھ کر ایک  دلکش، پرکشش، دل آویز  منظر  بلکہ یوں کہیں  ہر منظر اپنے اندر ایک “چٹ پٹا” ذائقہ سموئے ہوئے ہے۔جس کو قرطاس میں سمونے  سے  میں قاصر ہوں ۔”دیامر “سے مراد “نانگا پربت”، “پریان زون” سے  “ترچ میر ” “چھوگوری “سے “کے ٹو “اور “سروالی “چوٹی  نیلم  کے مقامی نام ہیں ۔ اردو کا ایک محاورہ ہے کچا چھٹا  جہاں اس کے دیگر مطالب  ہیں وہاں ایک مطلب صحیح اور حقیقی صورت حال کا واضح الفاظ میں بیان کرنا  بھی ہے لیکن  بدقسمتی کی صورت حال یہ ہے  کہ ان پہاڑوں کے درمیاں  رہنے والے سب کے سب ایسے گوہر نایاب  ہیں   جو    خود  کو بھی انسان کے بجائے  “دیامر”، “پریان زون”،”چھوگوری “اور”سروالی چوٹی  “کے پریوں اور جن دیو  سمجھے ہوئے ہیں   اور خیالوں کی  ایک ایسی دنیا  میں بستے ہیں جس کا حقیقت  اور حقیقی دنیا سے کوئی ربط نہیں اور نہ کوئی تعلق ۔ حقیقت سے دور  دیو مالائی  قصوں  موجود  فرضی  اور خودساختہ  کہانیوں کو اپنی تاریخ سمجھتے ہیں   جس کی  کوئی مثال  جدید دور میں کہیں بھی دکھائی نہیں  دیتی ۔گلگت  بلتستان کی فضا  کچھ ایسی بن گئی ہیں کہ وہ ہر بات کو مسلمان جن اور مسلمان پری  ہندو جن اور ہندو پری   اور دنیا کو اب بھی بیل  کے سینگ  پر  اٹھائے رکھنے   کے مضبوط اور  ٹھوس  عقیدے پر قائم ہیں ۔ اس سے ہٹ کر  کسی بات کو ماننا یا آگے کا سفر طے کرنا گناہ سمجھتے ہیں ۔آپ یہ بھی  نہ سمجھنا  کہ یہ بات صرف عام آدمی کے ذہن میں ہے ۔ نہیں نہیں یہ بات عام آدمی سے زیادہ  ابیلیسی علم  رکھنے والے عالموں اور دانشوروں میں  زیادہ پائی جاتی ہے جو بات کو الٹا رنگ د ینے میں ایک سکینڈ کا وقت بھی ضائع نہیں کرتے تاکہ ان کی چودھراہٹ اور  فرعونیت  قائم  ودائم رہے ۔ یہی وجہ ہے کہ  نہ ہم ذاتی   بن سکے اور جو خود اپنے نہیں بن سکتے    ان کا قوم   بننا    “ہنوزدلی دور است ” والی بات  ہے ۔ رہی بات  مذہب کی تو اس میں اللہ کا فضل و کرم ہے   جس کے تحت  75000 ہزار کے جعلی نوٹوں  سے دو بکرے  ہتھیا لیتے ہیں ۔اب اس کو کوئی چور کی داڑھی میں تنکا سمجھے تو اس میں لکھنے والے کا کیا قصور ۔ قلم اگر آپ کا تگڑا ہے تو قلم خود بخود  کچا چھٹا لکھ دیتا ہے  نہیں تو وہ قمیض کی سامنے والی جیب میں “پارکر “پن بن جاتا ہے  اور بوقت ضرورت کام آجاتا ہے ۔بات چلی تھی پیر پنجال  مغربی ہمالیہ کی یہ بیچ میں کچے چھٹے لفظ نے رخ کہیں اور موڑا جبکہ ہم “چِٹا کھٹہ  “جھیل  شونٹر  جو “دیامر “اور “سروالی “چوٹی کے درمیان واقع ہے  کی سیر کرنا چا رہے تھے ۔ شونٹر کو پہلے میں نے شینا میں تلاش کیا لیکن کوئی  خاص کامیابی حاص نہیں ہوئی  بلتی زبان کی طرف  دھیان دیا تو وہاں سے “شینگ” کا لفظ ملا جس کے معانی لکڑی کے بنتے ہیں لیکن یہ لفظ شونٹر سے میل نہیں کھاتا  پر ایک تحریر سے یہ بات معلوم ہوئی کہ تریشنگ گائوں جو تحصیل شونٹر  میں واقع ہے  دو الفاظ  تری ۔یعنی نمی(اردو)   بلتی شینگ (لکڑی) سے اخذ کیا گیا ہے  اس میں کتنی صداقت ہے  اللہ جانے ترشنگ گائوں میں سکونت پذیر  اس پر بہتر روشنی ڈال سکتے ہیں ۔وادی  کشمیر اور گلگت بلتستان  وادی میں موجود مشترکہ شونٹر وادی     ترشنگ  گائوں کو یہاں چھوڑ دیتے ہیں    اور آگے کا سفر طے کرتے “چِٹاکھٹہ جھیل  کو  دیکھتے ہیں اس کے اندر کیا کہانی ہے   اس  جھیل  کی کہانی  بالکل شفاف    ہر قسم کی الائشوں سے محفوظ  حسن  کی پیکر  سفیدی   اور اجلے پن  سے معمور۔  جی جی بالکل صحیح سمجھے  ان ہی خوبیوں کی بدولت اسے “چِٹا کٹھہ” جھیل کا نام دیا گیا ہے۔”کچے چھٹے” سے “چِٹا  کٹھہ “جھیل تک تو  پہنچا ہوں پر شونٹر پاس  ٹنل  جس کی خوش خبری تو سنائی گئی ہے لیکن  اس پر کام کے آثار کوئی نظر نہیں آتے۔آئیں تھوڑا ماضی کو کھنگالتے ہیں جب سڑکیں نہیں تھیں  نقل و حمل  اور آمد ورفت  جان جوکھوں کا کام تھا  اس وقت بھی  یہ جوقدرتی راستے ہیں ان میں  انسانوں  کے نقش پا مل جاتے ہیں ۔ ذرا تصور کریں جدید ریاست جموں و کشمیر و تبتہا 1846 سے  پہلے کے حالات جس کی کڑیاں قبل مسیح سے ملتی ہیں  ان علاقوں تک لوگ کیسے پہنچے اور ان کا ربط کس طرح سے قائم رہا ۔ قبل مسیح  سے جدید ریاست  کی طرف  جس کا سفر 1846 سے شروع ہوتا ہے پولیٹکل   علاقہ جات سمیت گلگت تا کشمیر اور بلتستان تا لداخ تبت  سب ایک لڑی کے موتی  تھے ۔ایسے میں انگریز  مہم جو جنہوں نے ان علاقوں  پر نہ صرف تحقیق کی بلکہ یہاں کی تہذیب و تمدن کو بھی  آشکار کیا۔ان  کی تحریروں سے یہ بات معلوم ہوجاتی ہے کہ لفظ شونٹر جوکشمیر اور گلگت بلتستان والے  استعمال کرتے ہیں وہ اصل میں  شونٹر نہیں بلکہ انگریزی لفظ۔شنٹیڈ ہے جس کے معانی دوشہروں کے درمیان  ربط اور بنا کسی رکاوٹ کے ایک دوسرے کے ہاں آنا جانا  رہتا ہو ۔ اب سوال یہ ابھرتا ہے کہ  کشمیر اور گلگت بلتستان  کے درمیان ایک دوسرے کے ہاں آنا جانا کب سے رہا ہے  تو  بات  شاہ میر تک پہنچ جاتی ہے جس کا ذکر شینا لوک گیتوں میں بھی پایا جاتا ہے ۔  یہ کچا چھٹا  میرے ذہن میں اسوقت آیا  جب  حسن کی ملکہ  ،زمین پر شمبالا،  شنگریلا  یا زمین پر جنت کی تلاش کرتے ہوئے خوبصورت  برفانی جھیل “چٹا کٹھہ”  شونٹر وادی میں  گھومتی ناچتی اٹھکلیاں کرتی ہوئی پریاں پانی کی جلترنگ  میں مدہوش تھیں  اورمیں دم بخود(تصور میں) خود کو  راجہ پرستان سمجھ رہا تھا  اسی وقت بیگم نے آوازدی ہدایت  یہ لو  چائے چھُپٹی  کے ساتھ  نوش کرو  لکھنا بند کردو ۔اچھا خدا حافظ

ہدایت اللہ اختر

Marital Status: Married Interests: Health,Education& Environment Research work,Traveling Hunting,Fishing & photography are Relaxation About Me: Introduction: Hidayatullah Akhtar (Urduہدایت اللہ آختر‎) is a columnist, writer, poet, social worker and Ex Govt servant from Gilgit Pakistan. He has written many Urdu columns for various Urdu-language newspapers in Gilgit Pakistan. He has also served as Manager IDBP Gilgit,ADBP Islamabad and Regional Manager SME Bank in Gilgit Hidayatullah Akhtar is also Founder member of the Halqa eArbab Zoq and Krakrum Writers Fourm Gilgit Career and education: Hidayatullah Akhtar received a Master's degree in Master of Business Administration from Punjab University, Lahore. He has served as Regional Manager SME Bank Gilgit Pakistan. He received and attended various seminars and workshops within Pakistan and Project Supervision course certificate from PDCP (Private Development Corporation Manila Philippines. He is presently Administrator Northland Public Schools Gilgit and is over all in charge of community as partner Development Organization. He is also president of DNN (District NGO Net wok Gilgit . Bibliography: Aina-e-Dardistan (An informative Book about Gilgit Baltistan 1987)

اس مصنف کی مزید پوسٹس →

اپنا تبصرہ لکھیں