استاد اور فوج

تحریر:علی رضا
استاد اور فوج بہت قابل احترام عہدہ ہے۔استاد اور فوج کی خدمات سے سبھی واقف ہیں۔استاد انسان کو پستی سے اٹھا کر بلندی تک لے جاتا ہے۔بچوں کو سکھاتا ہے پڑھاتا ہے۔والدین کی طرح اساتذہ کا ادب و احترام بھی نہایت ضروری ہے۔والدین تو بچوں کی جسمانی غذا اس کی مناسب نشوونما کا خیال رکھتے ہیں جب کہ استاد انسان کی اعلیٰ تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ اس کی روحانی غذا اور روحانی نشوونما کو پروان چڑھاتا ہے۔استاد کے ادب و احترام و تعظیم کے بارے بہت سے قصے مشہور ہیں۔امام بخاریؒ حدیث میں امیر المومنین سے کسی نے ان کی خواہش پوچھی تو انہوں نے فرمایا کہ میری خواہش بس یہی ہے کہ میرے استاد علی بن مدینی زندہ ہوتے اور میں جا کر ان کی صحبت اختیار کرتا اور ان کی خدمت کرتا۔ابن وہب جو امام مالک کے شاگرد ہیں وہ فرماتے ہیں کہ مجھے جو کچھ ملا میرے استاد امام مالک ؒ کے ادب و احترام سے ملا۔ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا ’’علم سیکھو اور وقار اختیار کرو اور جس سے علم سیکھتے ہو اس کے ساتھ ادب و تواضع سے پیش آؤ۔‘‘جنہوں نے اپنے استاد کا احترام کیا اللہ تعالیٰ نے انہیں بلندیوں تک پہنچایا۔جو قومیں اساتذہ کا ادب نہیں کرتیں وہ کامیاب نہیں ہوتیں وہی قومیں ترقی یافتہ ہیں جو اپنے اساتذہ کرام کا ادب و احترام کرتیں ہیں۔
اس طرح فوج بھی قابل احترام عہدہ ہے۔فوج کا کام سرحدوں کی حفاظت کرنااور ملک کو درپیش مسائل اور ہنگامی حالات کا مقابلہ کرنا ہے۔چاہے جنگ ہو یا سیلاب ہو چاہے کوئی زلزلہ ہو یا قدرتی آفات پاکستانی فوج نے ہر ہنگامی حالات میں ملک و قوم کی مدد کی۔پاکستانی فوج ہر مشکل گھڑی میں ملک و قوم کے کام آتی ہے۔اب مردم شماری کے لیے پولیس کی بجائے فوج کو چنا گیا ہے۔کیونکہ جو ہمارا پولیس کا نظام ہے وہ کمزور ہے جس سے چھوٹے موٹے مجرم نہیں پکڑے جاتے وہ دوسروں کی کس طرح رکھوالی کرے گی۔اگر کسی جگہ دھماکہ ہوتا ہے تو پولیس وہاں موجود ہونے کے باوجود فوج کو طلب کرنا پڑتا ہے۔ مردم شماری کی ڈیوٹی کے لیے بھی بہادر فوجی جوانوں کو چنا گیاہے۔مردم شماری میں بھی فوج کی خدمات لی جارہی ہیں۔فوج کی خدمات کوکسی صورت بھلایا نہیں جا سکتا۔ملک و قوم کی خاطر فوج کا جوان دور پردیس میں نوکری کرتا ہے۔فوج کا جوان اپنی قوم کی خاطر جان قربان کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔آج کئی بہادر بیٹے اپنی ملک و قوم کی خاطر شہادت کا رتبہ پانے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔انہوں نے اپنی قوم کی حفاظت کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ہر فوجی جوان اپنی جانیں وطن کی محبت کے لیے وقف کردیتا ہے۔اب بھی پاکستانی فوج دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے بھرپور جنگ کررہی ہے۔اس لیے افواج پاکستان کا عزت و احترام ہم پر لازم ہے۔
اگر یہ معزز لوگ استاد اور فوج ملک کے لیے خدمات سر انجام دے رہے ہیں تو ہمیں بھی ان کے لیے خدمات سرانجام دینی چاہیے۔فوج ملک کی حفاظت کرتی ہے ملک کے لیے لڑ رہی ہے اس لیے ہمیں بھی استاد اور فوج کے تحفظ اور تعاون کو یقینی بنانا چاہیے۔یہ خیال رکھنا چاہیے کہ انہیں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔لیکن میں دیکھ رہا تھا کہ یہاں مردم شماری کے لیے استاد اور فوج کو دھوپ میں ذلیل و خوار کیا جارہا ہے۔استاد جس کی عزت حضرت علیؓ سے لے کر بڑے بڑے اکابرین امت نے بیان کی انہیں اب گلی گلی محلے محلے میں ہر ایک گھر کا دروازہ کھٹکھٹانے پر لگا دیا ہے۔میں دیکھ رہا تھا کہ جب یہاں پر مردم شماری کا عملہ آتا ہے۔وہ دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں پھردس منٹ گھر کے باہر دھوپ میں کھڑے رہتے ہیں لیکن دس منٹ بعد کوئی بچہ آتا ہے اور کہتا ہے کہ اس کے والد گھر پر نہیں ہیں باہر گئے ہیں اور والدہ پردہ کرتی ہے اور کسی غیر کے سامنے نہیں آ سکتی۔ان بے چاروں کے سر چکرا جاتے ہیں۔جس کی وجہ سے فوج کے جوان اور استاد کو بڑی دقت اٹھانا پڑتی ہے۔ایک گھر پر ان کا بہت سا وقت ضائع ہوجاتا ہے۔اس کا طریقہ کار مقرر ہونا چاہیے اور جس دن مردم شماری کے عملے نے آنا ہو اس دن سے ایک دن پہلے مسجد میں اعلان کروا دینا چاہیے کہ فلاں دن مردم شماری کا عملہ مردم شماری کے لیے آئے گا اور گھر کا سربراہ یا بڑا گھر میں ہی رہے تاکہ انہیں معلومات فراہم کر سکے۔اگر گھر کا سربراہ یا بڑا گھر نہیں ٹھہر سکتا اسے مجبوری ہے کہ اس نے نوکری کے لیے لازمی جانا ہے تو وہ گھر میں موجود ساری معلومات ایک صفحے پر لکھ لے تاکہ جب مردم شماری کا عملہ آئے تو انہیں اس طرح دھوپ میں کھڑے ہو کر انتظار نہ کرنا پڑے اور کسی قسم کی کوئی دقت نہ اٹھانا پڑے۔وہ جب آئیں تو غیر ضروری کام چھوڑ کر پہلے انہیں معلومات فراہم کریں تاکہ انہیں دشواری سامنا نہ کرنا پڑے۔ہمیں عملے کا ساتھ دینا چاہیے کیونکہ جو گلیوں محلوں میں دروازے کھٹکھٹارہے ہیں وہ ہمارے قابل احترام استاد اور فوج کا جوان ہے۔جو ملک و قوم کے لیے خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ہم انہیں دھوپ میں کھڑا نہیں کر سکتے ہیں۔ان کی خدمات اور ان کا ادب و احترام ہم پر فرض ہے۔استاد اور فوج جو ملک و قوم کے لیے خدمات سرانجام دے رہے ہیں اگر ہم ان کی خدمت نہ کریں تو یہ انصاف نہیں ہوگا۔ اس لیے سب کو چاہیے کہ مردم شماری کے عملے کا ساتھ دیں انہیں جو معلومات درکار ہیں وہ فراہم کریں۔اگر ان کو دھوپ میں کھڑا کر کے معلومات دینے کی بجائے غیر ضروری کاموں میں مشغول ہوجائیں تو یہ ہمارے لیے باعث شرمندگی ہوگی۔










Leave a Reply