بلوچستان میں صحافی عدم تحفظ کاشکار۔۔۔۔ تحریر: محمدصدیق مدنی،چمن

Mohammad Siddiq Madni

ویسے تو صحافت کو ریاست کا چھوتا ستون کہا جاتا ہے مگر ریاست کے اس چھوتے ستون کو اس وقت بلوچستان اورخیبرپشتونخوا میں حقیقی معنوں میں جن خطرات کا سامنا ہے وہ ایک مسلمہ حقیقت ہے جس سے انکار کسی کو ممکن نہیں ہے اگر ہے تووہ صرف ان لوگوں کو ہوسکتا ہے جو یہاں سے دور اور یہاں کے معاملات سے نابلد ہو ں ،اور صحیح معنوں میں یہاں کے جغرافیائی عوامل سے آگاہی نہ رکھتا ہو،ان علاقوں میں عوام کے آواز کو اٹھانے والے اس وقت سخت عدم تحفظ کا شکار ہے جہاں خیبر پشتونخوا کے مختلف علاقوں میں صحافیوں کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانوں کے نذرانے دینے پڑیں وہاں بلوچستان میں صحافی آزادی کے نام پر لڑی جانے والی جنگ میں خون میں نہلا دیئے گئے ،یعنی دوسروں کی خبر دینے والے ایک دن خود ہی خبر بن گئے ،حقائق چھاپنے پر انہیں قتل کی دھمکیاں کوئی نئی بات نہیں ہے ،یوں توں بلوچستان میں صحافت کا آغاز 1900کے عرصے سے کچھ پیشتر ہوا ،مگر موجودہ وقت یہاں کے صحافیوں کیلئے امتحان اور کڑا وقت ہے صرف گزشتہ چند سالوں کے دوران میں صوبے کے مختلف علاقوں میں 30کے لگ بھگ صحافی گولی کا نشانہ بن چکے ہیں جن میں سے کئی صحافیوں کے قتل کی ذمہ داری مختلف تنظیموں کی جانب سے قبول بھی کی گئی مگر شاید ہی کسی صحافی کے قاتل گرفتار ہوسکے ہیں اب سوال یہ ہے کہ کیا ایسے حالت میں اس سے وابستگی ممکن ہے ،میرے خیال میں شاید ہرکسی کا جواب نفی میں ہوگا،یہاں کے کھٹن اور مشکل حالات میں کوئٹہ کے علاوہ صوبے کے دوردرازعلاقوں کے صحافی کسی واقعہ کی رپورٹ کرتے ہوئے سوچھتا ہے کہ یہ ان کیلئے مسائل کا باعث تو نہیں بنے گا،صوبے میں جہاں صحافیوں کو آزادی پسند تنظیموں سے خطرات درپیش ہے وہاں صوبے کے پشتون علاقوں میں خاص کر پاک افغان بارڈرسے متصل اضلاع اور علاقوں سیاسی ومذہبی تنظیموں سمیت قبائلی رہنماؤں اورایف سی پولیس اور دیگر اداروں سے دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے اکثر اوقات ایف سی یا قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کیخلاف حقائق پرمبنی خبروں پر انہیں دھمکیاں ملتی ہے ،قبائلی جھگڑوں یا ان سے ملے جلے واقعات میں بھی مقامی صحافی عتاب کا شکار رہتے ہیں ،حد تویہ ہے کہ ان علاقوں میں صحافیوں کو سماج دشمن عناصر یا پھر ان کے سرغنوں سے بھی دھمکیاں ملتی ہے جن کی اطلاع اکثر اوقات صحافی انتظامیہ کو بھی دیتے ہیں مگر انتظامیہ کاروائی سے گریزاں رہتی ہے ایسا ہی ایک واقعے کا سامنا خودراقم کو بھی ہواہے،
صحافیوں کو جہاں ایک طرف یہ خطرات لاحق ہے وہاں انہیں دوسری طرف اپنے اداروں کی جانب سے بھی انہیں نظر انداز کیا جارہاہے اور ان کا تحفظ کرنے میں ناکام ہے اسی وجہ سے کئی صحافی مسلسل عدم تحفظ کی بناء پر صحافت کو خیر باد بھی کہہ چکے ہیں ،یہ بھی امکان ہے کہ صوبے کے پشتون علاقوں میں مستقبل قریب میں وزیرستان اور خیبر پشتونخواکے طرز پر طالبانائزیشن کا سلسلہ شروع ہوجائیں ،اگریہ سلسلہ شروع ہوا تو صحافیوں کو جو پہلے سے ہی کھٹن حالات اور دباؤ میں کام کررہے ہیں کو مزید مشکلات اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑیں گا اس لیئے صوبے کے حالات کی نزاکت اور حساسیت کو دیکھتے ہوئے صحافیوں کیلئے کام کرنے والی تنظیموں کو سنجیدگی سے اپنا موثر اور دیرپا کردار ادا کرنا ہوگا ،ویسے تو صحافیوں کیلئے کام کرنے والی مختلف تنظیموں /ادارے قابل گرفت ہے جو اپنے ٹریننگ میں ایسے افراد کو بلاتے ہیں جن کا صحافت سے دور کا کوئی تعلق نہیں ہوتا ،جس کی وجہ سے حقیقی صحافی خطرناک علاقوں میں کام کرنے سے آگاہی حاصل نہیں کرپاتے،اس لئے ضروری ہے کہ میڈیا کے اداروں سے تصدیق کریں تاکہ حقیقی صحافی ہی کو بلایا جاسکے،
صوبے کے سینئر صحافی شہزادہ ذوالفقارصوبے میں صحافیوں اور صحافت کودرپیش صورتحال کے متعلق کہتے ہیں کہ یہاں صحافیوں کوہرطرف سے شدیدخطرات لاحق ہے صوبے کے کئی علاقوں جیسے خضدار،کوہلواور ڈیرہ بگٹی میں تو صحافت نام کی کوئی چیز نہیں ہے یہاں اگرکوئی واقعہ ہوتا ہے تو اصل حقائق کوئی بتا نہیں سکتااور نہ سامنے لانے کی جراء ت کرسکتا ہے ،صحافی کسی کا ترجمان نہیں ہوتا بلکہ وہ لوگوں کی آواز ہے اگر کسی ادارے یا تنظیم کو ان سے کوئی شکایت ہوتو وہ صحافیوں کے تنظیموں کوآگاہ کریں ان کیمطابق جہاں صوبے کے بلوچ علاقوں میں صحافیوں کو مشکلات درپیش ہے وہاں پشتون علاقوں میں بھی صحافی مشکلات کا شکار ہے اور انہیں مختلف جانب سے دباؤ کا سامنا کرنا پڑرہاہے اور وہاں ہونے والی سرگرمیوں کو منظر عام پر نہیں لاسکتے ہیں اگر کوئی ایسا کریگا تو ان کی زندگی خطرے میں ہے،
صحافیوں کو درپیش چلنجز میں سے ایک اہم چلنج یہ بھی ہے کہ بے شمارلوگ جو خود کو صحافی ظاہر کرتے ہیں مگر ان کا دور سے صحافت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ،ان میں سے اکثر ایجنٹ یا پھر سیاسی ورکر ہوتے ہیں ان عناصر نے بھی نہ صرف صحافیوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ یہ ایک بدنما داغ بھی ہے کسی بھی ادارے کیلئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے نمائندوں کی سیاسی یا دیگر وابستگیوں پر خاص نظر رکھے تاکہ اس مقدس شعبے کی حیثیت پامال نہ ہو کیونکہ سیاسی وابستگی سے ذمہ دارانہ رپورٹنگ ممکن نہیں اور صحافی اکثر اوقات غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتا ہے ،کئی علاقوں میں صحافی صورتحال سے بے خبر ہوکررپورٹنگ کرکے اپنے لیئے مسائل پیداکرتے ہیں ، صحافیوں کی جانب سے غیرذمہ داری اور ضابطہ اخلاق سے عدم شنا سائی سے بھی مسائل جنم لے رہے ہیں ۔اس لئے ضروری ہے کہ صحافیوں کیلئے کام کرنے والے ادارے صوبے کے صحافیوں کومستقبل میں درپیش چلنجز اور خطرات سے نمٹنے کیلئے مکمل آگاہی فراہم کرکے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں تاکہ صحافی بلاخوف وخطر اس اہم کام کو جاری رکھ سکے۔

Short URL: http://tinyurl.com/jjqtu9h
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *