یہ زید ہے کون ؟

سچ اور حقیقت پر مبنی تحریریں لوگوں کو نہیں بھاتی ہیں سوچا فسانہ ہی لکھا جائے کیونکہ فسانے لوگ بڑے مزے لے لے کر پڑھتے ہیں اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں اور ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اگر اس میں کہیں سچ نظر آئے تو اسے ایک نئے موڑ کی طرف لے جانا نہایت ہی آسان ہوتا ہے،کوئی بھی فرضی نام لکھیں اور کہانی شروع کریں کسی کی مجال نہیں کہ آپ پر اعتراض کرے۔دیکھنا کہیں میں سچ تو نہیں لکھ رہاکاشف کا فرضی نام لیکر یہ کاشف کون ہے میں بھی نہیں جانتا۔ بس یہ کہانی ہے اس معاشرے کی اور یہ کہانی کاشف سے ہی شروع ہوتی ہے اور یہ کاشف کا فسانہ ہے ۔اگر اس فسانے میں کوئی حیقت نظر آئے تو مجھے معاف کرنا۔ اگر کسی کا نام کا شف ہے تو اس میں میرا قصور نہیں کاشف تو کئی افراد کا نام ہو سکتا ہے۔اب جو میں نے کاشف کے نام سے کہانی لکھنی شروع کی تو کاشف نام کے جتنے دوست تھے وہ سب کے سب مجھ سے خفا ہوئے۔۔ارے یہ کیا ہوا ۔بھول ہوئی کاشف تو فرشتہ تھا سارا کام وکیل خان کی وجہ سے خراب ہوا اب جو وکیل خان کی کہانی آگے بڑھنے لگی تو وکیل خان نام کے سارے طیش میں آئے اور یوں یہ کہانی آگے نہ بڑھ سکی ۔سوچا کیوں نہ صحافت صدیق کے بارے کچھ لکھا جائے صحافت صدیق کی سچائی کے بارےبس تین جملے ہی بیان کر سکا تھا کہ صحافت صدیق کے ترجمان میدان میں کود پڑے اور اپنا احتجاج بلند کیا ۔گھبرا کر جلدی میں شاگرد علی اور معلم خان کی ذمہ داریوں پر اپنی عقل استعمال کرتے ہوئے کچھ نقل ہی کیا تھا شاگرد علی اور معلم خان نے اسے اپنی بے عزتی گردانا ۔ ذہن نے سوچا کسی اور معاشرتی پہلوپر طبع آزمائی کی جائے۔فوراً ہی کامرانی کے جھنڈے گاڑھنے والا تعصب کامران ذہن میں آیا ۔اوہو یہ تعصب کامران پر کچھ کہنا تو آگ سے کھیلنے کے مترادف ہوگا۔چلیں کوئی بات نہیں چند سلجھے ہوئے الفاظ کا انتخاب کرتے ہیں اس سوچ کے ساتھ ہی دو حرف لکھے ہی تھے کہ تعصب کامران کے ساتھیوں نے تعصب کامرانی علم بلند کرنے شروع کر دئے اور دو حرف بھیجنے شروع کر دئے۔اب عقل دوڑانے کا وقت آگیا تھا اور ہم نے اپنی عقل ٹھکانے لگانے کی کوشش کرتے ہوئےمعاشرے کے ان تمام سچے ، کھرے اور فرشتوں کے نام چھوڑ کرفرضی نام زید کی کہانی پر اکتفا کرنا مناسب سمجھا اور فسانے کو نیا موڑ دیتے ہوئے اپنی کہانی کو ان الفاظ پر ختم کیا کہ اس معاشرے میں سب فرشتے ہیں سوائے زید کے مگر یہ زید ہے کون ۔اسی زید کو تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

Short URL: http://tinyurl.com/gsvhs9a
QR Code: