تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی تاریخ عالم کا دامن قربانیوں اور ثابت قدمی کی لازوال ایمان افروز داستانوں سے بھرا پڑا ہے ۔ حضرت موسٰی ؑ کو دربار فرعون سے کس کس طرح کی اذیت اور اہانت کا سامنا نہیں کرنا
تحریر: عائشہ احمد،فیصل آباد دس محرم الحرام کو حضرت امام حسینؓ اور ان کے خاندان کی شہادت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ آپؓ نے اپنے نانا حضرت محمد ﷺکے دین کی سر بلندی کے لیے جان کا نذرانہ
تحریر: حافظ کریم اللہ چشتی، پائی خیل قتلِ حسین اصل میں مرگِ یزیدہے اسلام زندہ ہوتاہے ہرکربلاکے بعد ارشادباری تعالیٰ ہے ۔ترجمہ “بلاشبہ جنہوں نے کہاہمارارب اللہ ہے پھراس پرثابت قدم رہے ان پرفرشتے اترتے ہیں اور(بشارت دیتے ہیں)کہ نہ
تحریر: شاہ فیصل نعیم یہ زمان و مکاں کی وسعتوں سے ورا ایک ایسی انوکھی داستان ہے کہ جہاں آکر وقت ٹھہر جاتا ہے ، عقل حیران ہے، الفاظ میں اتنی وقعت نہیں کہ وہ اس کو بیان کر سکیں،
تحریر : رانا اعجاز حسین چوہان افضل ہے کل جہاں سے گھرانہ حسینؓ کا نبیوں کا تاجدار ہے نانا حسینؓ کا اک پل کی تھی بس حکومت یزیدکی صدیاں حسینؓ کی ہیں زمانہ حسینؓ کا اسلامی کیلنڈر کا آخری مہینہ
تحریر: حافظ کریم اللہ چشتی، پائی خیل حسینؓ منزلِ حق ہیں توحق نمازینبؓ وہ ابتدائے شہادت توانتہازینبؓ محرم الحرام کامہینہ شروع ہوتے ہی ہمارے دلوں میں اس واقعے کی یادتازہ ہوجاتی ہے جسے تاریخ “سانحہ کربلا “کے نام سے یادکرتی