![]()
تحریر: پروفیسر شمشاد اختر
موجودہ حالات جو پوری دنیا میں اس وقت پیدا ہو چکے ہیں ان میں مخلوق خدا کی خدمت کر نا ہی وقت کا اہم تقاضا ہے بہت سے سفید پو ش لوگ مو جودہ حا لا ت کے ہا تھوں مجبور ہیں مگر وہ اپنی مجبوری کسی کے سامنے بیان نہیں کر سکتے ایسے حا لات میں ان کی دل جو ئی کرنا گویا اللہ کو را ضی کر نا ہے بقول مولانا رومؒ۔۔۔۔
دل بدست آور کہ حج اکبر است
از ہزاراں کعبہ یک دل بہتر است
کعبہ بنگاہ خلیل آزر است
دل گزر گاہ جلیل اکبراست
(کسی کی دلجو ئی کرو کہ حج اکبر ہے اورہزار ہا کعبے سے ایک دل افضل ہے، کعبہ حضر ت ابرہیمُ ؑکی تعمیر ہے جبکہ دل اللہ تعالی کی گزر گاہ ہے)صوفیا نہ لٹریچر میں ایک روایت ملتی ہے اس بحث سے قطع نظر کہ یہ روایت کس قدر مستند ہے؟ کو ن اس کا راوی ہے؟ کس کتاب میں منقول ہے؟اور اس کی صحت الفاظ کا کیا عالم ہے؟بات بہرحال سولہ آنے درست اور دل لگتی ہے کہ ایک با ر مو سیؑ نے کوہ طور پر اللہ تعالی سے کہاکہ جبل طور تو وہ جگہ ہے مو لا جہاں صرف تجھ سے ہمکلا می کا شرف حاصل ہو سکتا ہے کیا کو ئی ایسا مقام بھی ہے جہاں میں تجھے مل سکوں؟اللہ تعالی نے جوابََا ارشاد فر مایا ”انا عبد منکسرۃالقلوب“ کہ میں اجڑے اور ٹوٹے ہو ئے دلوں میں بستا اور ملتا ہوں“،اہل دنیا کا طرز زیست اس سے مختلف رہا،ان کے نزدیک عزت کے لا ئق وہ ہے جس کا دنیوی اور سرکا ری مر تبہ فا ئق ہو، وہ قا بل تو جہ اسے سمجھتے ہیں جس کی جیب گراں ہے، وہ عقیدت اس سے ظا ہر کر تے ہیں جس سے کو ئی ضرو رت پو ری ہو تی ہو،ان کا مرکز محبت وہ ہو تاہے جس سے ان کی حا جت وا بستہ ہو ِوہ قابل قدر اسے جا نتے ہیں جو اہل زر ہو رہ گیا کو ئی محتا ج اور غریب تو اہل دنیا کے لئے یہ بڑا عجیب ہو گا کہ وہ اسے قریب آنے دیں یا خود اس کے قریب ہوں اور لطیفہ یہ کہ یہی اہل دنیا نمازیں پڑھیں گے،روزے رکھیں گے،حج کر یں گے، چلے کا ٹیں گے کہ شائد ہمیں خدا کا قرب نصیب ہو،جبکہ خدا کا مسکن نہ دیر و حرم ہے نہ مکتب و خا نقاہ،، بلکہ وہ اپنی تمام تر شان لا مکا نی کے ساتھ اگر کہیں رہتا ہے اور کہیں ملتا ہے تو کسی شکستہ دل میں، کسے صد پا رہ پارہ سینے میں، کسے غریب کے اجڑے دیار میں،کسی یتیم کی آہ نار سا میں،کسی مسکین کے خا لی دا من میں، کسی بے وسیلہ کی تشنہ داد فریاد میں،لیکن عجیب ما جرا ہے ایک شیشہ ٹوٹے تو غل مچ جا تا ہے لیکن کسی غریب کا پیما نہ دل ٹوٹ کر بکھر بھی جا ئے، تو کو ئی ترچھی نگا ہ ڈالنا بھی گوارا نہیں کرتا جب کہ اہل دل کہہ گئے ”اک بندے دا دل نہ تو ڑیں ربّ دلاں وچ رہندا“بات کسی پیشہ ور بھکا ری، کسی عادی ما نگت، یا کسی نشئی گدا گر، کسی بہرو پیے سوالی کی نہیں ہو رہی اس یتیم کی ہو رہی جسے با پ کی گر می محبت اور ماں کی لو ری نصیب نہ ہو سکی اور وہ زما نے کی ٹھو کروں پر آگیا،بات اس محتاج کی ہو رہی ہے جو ہڈ چم جلا کر بھی اپنی سفید پو شی کا بھرم رکھنے میں بھی نا کام رہتا ہے، اس مسکین کی ہو رہی ہے جو چہرے پر مسکینی کا اشتہار سجا کر ہر روز با ہر نہیں نکلتا اور عزت نفس کے دام نہیں لگواتا، بات اس ضرورت مند کی ہو رہی ہے جسے دامن پھیلاتے حیا آتی ہے، ہونٹ کھو لنے پر وہ ڈوب مرنے کو ترجیح دیتا ہے، وہ ہاتھ بڑھا نے پر پھا نسی کا پھندا پا نے کو تر جیح دیتا ہے، یہ وہ لو گ ہیں جن پر زمانہ بہت نا مہر با ن سہی ان کا دل خدا کا میزبا ن ہوتا ہے اور خدا ان کا مہمان بنتا ہے، یہی وہ لوگ ہیں جن کی دلجوئی فرض ہی نہیں فرض عین ہے، ان لو گوں کے دل نہ ٹوٹنے پائیں، ان کی آرزوئیں نہ مر نے پا ئیں اور ان کی سانسیں نہ اکھڑنے پا ئیں،جہنم کے شعلوں کا بڑا چرچا ہے،مگر کسی غریب کی آہ خدا نہ کرے سلگ پڑے ورنہ ہر شے بھسم کر دیتی ہے اور سات سمندروں کا بڑا شہرہ ہے مگر ان کے پا نیوں اور انکی مو جوں،لہروں میں وہ شور کہاں جو کسی یتیم کے آنسوؤں میں زور ہوتا ہے، ان کے سا منے عرش الہی بھی بند نہیں با ندھ سکتا، یہ با تیں اس لئے لکھ رہے ہیں کہ ہما رے معاشرے میں کتنی بہن بیٹیوں کے سر ہیں جو محتا ج چادر ہیں،کتنے بیمار ہیں جو محروم علاج ہیں،کتنے پیٹ ہیں جو روٹی سے خا لی ہیں، کتنے ہا تھ ہیں جو بے روزگار ہیں، کتنے گھر ہیں جو بے سہارا ہیں اور کتنے خاندان ہیں جو بے وسیلہ ہیں، کیا ہماری زمین بنجر ہو گئی ہے کہ فصلوں نے اگنا بند کر دیا ہے َ؟یا دریا خشک ہو گئے ہیں کہ زمینوں کو سیراب نہیں کر پا رہے، کیا ملّوں نے کپڑا بُننا چھوڑ دیا ہے کہ ما ئیں بہنیں برہنہ سر ہیں؟نہیں اصل مسئلہ یہ ہے کہ نظام جا برانہ اور وسائل کی تقسیم غیر منصفا نہ ہے، بعض ایسے محل ہیں جو رشک فردوس و ارم ہیں اور کچھ محل ایسے ہیں جو کلبہ حزن و غم ہیں،کروڑوں روپے پتنگ با زی کے شغل کی نذر ہو تے ہیں، عربوں،کروڑوں شادی بیاہ کی بے ہو دہ رسمیں کھا جا تی ہیں،کروڑوں ہی دیگر نما ئشی اقدامات اور فضولیات میں اڑ جا تے ہیں اور تو اور گزشتہ سالوں کی ایک رپوٹ نظر سے گزری کہ عمرے، نفلی حج اور حج بدل پر سالانہ اربوں روپے خرچ ہو تے ہیں،ظاہر ہے کہ یہ کام حصول ثواب اور خدا کے قرب کے لئے ہو تا ہے،پتنگ بازی، رسم مہندی اور سا لگرہ پر اٹھنے والی رقم ہر ایک کے نزدیک عبث اور بیکا ر ہے،اگرچہ یہ سارا سرمایہ غریبوں،محتا جوں،بیماروں اور یتیموں پر خرچ ہو اور اجتماعی نظام کے تحت ہو اور اس سلسلے میں ایک قومی مہم کا آغاز ہونا چا ہیے تاہم نفلی حج یا عمرہ پر خرچ ہو نے والی رقم جو خا لصتََانیکی اور فلاح اخروی کے جذبے کے تحت خرچ ہو تی ہے ضرور نا داروں پر خرچ ہونی چا ہیے، سو حج اور ہزار عمرے ایک طرف۔اگر اس رقم سے کو ئی بیمار شفا یا ب ہو جا ئے تو اس کی دعا ایک طرف نفلی عمرہ یا نفلی حج قبول ہوتا ہے یا نہیں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا مگر کسی بیمار کی دعا رد ہو نے کا سوال ہی پیدا نہیں ہو تا جس خدا کو وہ ملنے کے لئے کعبے کا رخ کرتے ہیں وہی خدا انہیں اپنے گھر پر مل جا ئے گا۔کسے کراہتے بیمار،سسکتے مریض،اور کسی زندگی سے ما یوس شخص کے پارہ پارہ دل پر پھا ہا رکھنے سے بڑھ کر ”حج اکبر“ اور کیا ہو سکتا ہے۔کیو نکہ حدیث قدسی میں ہے کہ قیا مت کے دن اللہ فر مائے گا اے بندے میں بھو کا تھا تو نے کھا نا نہیں کھلایا، میں پیاسا تھا تو نے مجھے پا نی نہیں پلا یا، میں بیمار تھاتو نے میری عیادت نہیں کی بندہ عرض کرے گا اے اللہ تیری ذات تو ان تمام چیزوں سے پاک ہے اللہ فر مائے گا ۰(ہاں تو ٹھیک کہہ رہا ہے) لیکن اگر تو اس بھوکے کو کھانا کھلا تا تو میرے ہا ں اجر پاتا“ اسی طرح پیا سے اور بیمار کا بھی اجر پا تا کیونکہ یہ مخلوق اللہ کا کنبہ ہے جیسے کہ حدیث میں ہے لہذا جو اس کو راضی کر ے گا اللہ اس سے راضی ہو گا،اگر ایک پیاسے کتے کو پانی پلا نے پر ایک فا حشہ عورت کو اللہ جنت دے سکتا ہے تو اس کی اشرف المخلوقات کو کھا نا کھلا نے پہ وہ اللہ کس قدر خوش اور را ضی ہوگا اسی طرح اگر ایک بلّی کو با ندھ کر بھو ک سے مارنے والی عورت جو عبا دت گزار تھی اللہ اس کو جہنم میں پھینک سکتا ہے (بخاری و مسلم) تو جو لوگ ایک عام آدمی سے لے کر حکمران تک عوام کو بھو کے اور پیا سے مار رہے ہیں ان کا حشر قیا مت کے دن کیا ہو سکتا ہے اس واقعہ سے اندا زہ لگا سکتے ہیں۔موجودہ صورتحال میں ہر ایک پر یہ ذمہ داری عا ئد ہو تی ہے کہ وہ اپنے پڑوس سے لے کر ملکی لیول تک اپنی اوقات کے مطا بق بھو کوں، پیا سوں اور بیماروں،ضرورت مندوں پر خرچ کرے تاکہ قرب الہی حاصل ہو،مخلوق خدا راضی تو خدا راضی۔
