![]()
تحریر: الیاس محمدحسین
ماضی کے حکمرانوں بارے ہرروز یسے ایسے انکشافات ہورہے ہیں کہ محب وطن پاکستانی حیران بلکہ پریشان ہیں کہ یہ ہوس کے پتلے ،دولت کے پجار ی ہمارے حکمران رہ چکے ہیں آصف علی زرداری کی کرپشن کی درجنوں کہانیاں کی دہائیوں سے زدِ عام ہیں لیکن لگتاہے اپنے آپ کو میڈ ان پاکستان کہلانے والے کرپشن میں سب سے آگے نکل گئے پکی خبرہے کہ شریف فیملی کے گرفتار ملازمین نے بیرون ملک بھاری رقم منتقل کرنے کا انکشاف کیا ہے۔شریف فیملی کے ملازمین نے کئی راز اگل دئیے ہیں جن میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف ، حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کے بیرون ملک پیسہ منتقل کرنے کی تفصیلات سے آگاہ کر دیا ہے۔نیب دستاویزات کے مطابق شریف فیملی کا پیسہ غیر قانونی منی ایکسچینج کے ذریعے منتقل ہوا جس کا مالک قاسم قیوم تھا، قاسم قیوم شریف فیملی کا ملازم بھی ہے اور فضل داد عباسی اسکو نقد رقم لاکر دیتا۔دستاویزات کے مطابق قاسم قیوم نے صادق پلازہ مال روڈ اور علی ٹاورایم ایم عالم روڈ پر آفس بنا رکھا ہے جب کہ قاسم قیوم ماڈل ٹاون K 55 حمزہ اور سلیمان کے آفس سے رقم لے کر بیرون ملک منتقل کرتا تھا۔قاسم قیوم اب تک لاکھوں ڈالرز اور کویتی دینار بیرون ملک منتقل کرچکا ہے۔قاسم قیوم نے اپنے اکانٹ اور ملازمین کے شناختی کارڈ نمبر کے ذریعے غیر قانونی طور پر رقم کی بیرون ملک ترسیلات کیں۔ مزے کی بات ہے یہ لوگ پھر بھی معصوم بنے پھرتے ہیں تازہ ترین ’’ہور‘‘ انکشافات میں سیانوں کا کہنا ہے کہ قومی احتساب بیورو( نیب )نے آمدن سے زائد اثاثہ جات کے الزام میں سابق وزیراعلی شہباز شریف کی اہلیہ نصرت شہبازاور تہمینہ درانی کے خلاف بھی تحقیقات کا فیصلہ کرلیا ہے جس کے بعد نیب نے شہباز شریف کی اہلیہ نصرت شہباز اور تہمینہ دورانی کیخلاف بھی انوسٹی گیشن کی منظوری دے دی ہے۔ نیب ذرائع سے حاصل دستاویزات کے مطابق شہباز شریف نے اپنی اہلیہ نصرت شہباز اور تہمینہ دارانی کو کروڑوں روپے مالیت کے اثاثے تحفے میں دئیے۔معلوم ہواہے کہ شہباز شریف دوران تفتیش اپنی اہلیہ تہمینہ دارنی کو تحفے میں دی جانے والی پراپرٹیز سے متعلق مطمئن نہیں کرسکے۔ شہباز شریف نے اپنی اہلیہ تہمینہ درانی کو 5 کروڑ 57 لاکھ 72 ہزار کی رقم تحفے میں دی۔ سابقہ وزیرِ اعلیٰ کی جانب سے یہ رقم 2013 سے 2018 کے درمیان مختلف ٹرانزیکشن کے ذریعے منتقل کی گئی۔شہباز شریف نے تہمینہ دارانی کو گوادر، مری اور ہری پور میں 6 قیمتی جائیدادیں بھی تحفیمیں دیں۔ شہباز شریف نے تہمینہ دارنی کو ڈی ایچ اے فیز 5 میں ایک لگڑری گھر بھی تحفے میں دیاہے حالانکہ تہمینہ درانی فیشن کے طور پر اکثر غریبوں کی ہمدردیاں سمیٹنے کیلئے بڑی بڑی باتیں کرتی رہتی ہیں لیکن لگتاہے وہ اندر سے فیوڈل لارڈکا سا مجازہی رکھتی ہیں شہباز شریف کی اہلیہ نصرت شہباز 12 کمپنیوں میں 69 لاکھ 56 ہزار 5 سوشئیرز کی مالک ہیں۔ 96 ایچ ماڈل ٹاون اور مری کی رہائش گاہیں بھی سابق وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف کی اہلیہ نصرت شہباز کے نام ہیں، نصرت شہباز کے نام قصور اور فیروز والا میں 810 کنال قیمتی زرعی اراضی بھی ہے ایک اور مخبرکا کہناہے کہ پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز ، ان کے بھائی سلمان شہباز اور سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور اسٹیل ملز کے سابق سربراہ معین آفتاب کے نام بھی ای سی ایل میں شامل کردیئے گئے ہیں۔ گذشتہ دنوں لاہور میں قومی احتساب بیورو ( نیب ) کی ٹیم نے حمزہ شہباز کی گرفتاری کیلئے ان کے گھر پر چھاپہ مارا تھا تاہم نیب ٹیم انہیں گرفتار کرنے میں ناکام رہی۔ نیب نے اعلامییے میں کہا کہ نیب لاہور کی ٹیم حمزہ شہباز کی آمدن سے زائد اثاثہ جات اور مبینہ منی لانڈرنگ کے کیس میں ٹھوس شواہد کی بنیاد پر گرفتاری کے لئے گئی تھی تاہم حمزہ شہباز کے گارڈز کی جانب سے غنڈہ گردی کا مظاہرہ کیا گیا اور نیب ٹیم کو باقاعدہ زدوکوب کیا اور بعض اہلکاروں کے کپڑے پھاڑنے کے علاوہ جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں حالانکہ کرپشن کے علاوہ مسلم لیگ کی حکومت 30ہزار ارب روپے کا قرضہ چھوڑکر گئی میاں شہباز شریف نے 40ارب روپے ذاتی تشہیر پر خرچ کئے، 1200ارب روپے کا خسارہ چھوڑ کر گئے، ان کے دور کے 100ارب روپے کے چیک باؤنس ہوئے، یہ 30 سال حکومت میں رہے، ایک ہسپتال بھی نہیں بنایا جہاں میاں نواز شریف، اسحاق ڈار یا شہباز شریف کے داماد کا علاج ہو سکے ۔بہرحال ماضی میں سفیدو سیاہ کے مالک حکمرانوں کے ساتھ جو کچھ ہورہاہے اسے مکافاتِ عمل بھی کہاجا سکتاہے یہ بھی عبرت کا مقام ہے اور اللہ کی پکڑ یقیناًعبرت کی جاہے تماشہ نہیں اس میں غور فکر کرنے والوں کے لئے نشانیاں پنہاں ہیں پاکستان کو اس قدر نوچا اورلوٹاگیاہے کہ الحفیظ و الامان۔حبیب جالب کی نظمیں پڑھ کر جلسوں میں داد سمیٹنا اور بات ہے عملی طورپر غریبوں جیسے حالات سے سابقہ پڑاہوتو پھر آٹے ڈال کا بھاؤ معلوم ہوجاتاہے پاکستان میں ہمیشہ اسلام کا نام لے کر اسلام اور غریبوں کا نام لے کر غریبوں کا استحصال کیاگیاہے تاریخ بتائے گی کہ یہ کام بھٹو اور شریف فیملی نے جس انداز سے انجام دیاہے عقل حیران رہ جاتی ہے اور عوام ہیں کہ آج بھی زندہ باد اور آوے ای آوے کے نعروں میں مست ہیں۔
