احمد نثار، انڈیا کیا زمانے میں کوئی صاحبِ کردار بھی ہے؟ دلِ نشتر تیری حسرت کا گنہگار بھی ہے کبھی گفتار بھی، بیکار بھی، مکّار بھی ہے عشق میرا تِرے جلؤں... 29 November 2022
احمد نثار، انڈیا غزل: کہاں انسان پائے جارہے ہیں Kahan Insan Paye Ja Rahe Hein Kahan Insan Paye Ja Rahe Hein Kahan Insan Paye Ja Rahe Hein شاعر: احمد... 2 November 2022
احمد نثار، انڈیا غزل: یہ نفرتوں کے پجاری کی راجدھانی رہی جو حال دل کا سنایا تو ہم دیوانے لگےہمارے بول سبھی آپ کو فسانے لگے کھلی فضا میں چہکنے کا... 27 March 2017
احمد نثار، انڈیا مِترو اپنی تقریر میں اک بار کہا تھا مترومیرے چیلوں نے تو تہوار منایا مترو ہوتے ہوتے ہوئے یہ بول بہت... 3 February 2017
احمد نثار، انڈیا اُسی کے نور سے ہم انحراف کر بیٹھے کبھی غرور پہ ہم اعتراف کر بیٹھے محبتوں سے کبھی اختلاف کر بیٹھے کبھی دھنک کے بدن پر لحاف کر... 5 August 2016
احمد نثار، انڈیا چراغِ مردہ سے امیدِ انقلاب نہیں کھلا ہے شمس کہ اس پر کوئی نقاب نہیں حقیقتوں کا ہے منظر کوئی سراب نہیں ہمارے دن میں اندھرا... 13 July 2016
٭کیٹیگری: اسلامی شاعری میرا زندہ اب بھی ضمیر ہے تیری زلف کا جو اسیر ہے وہ زمانے بھر کا امیر ہے جو زمانے بھر کا امیر ہے تیرے در... 25 June 2016
٭کیٹیگری: اسلامی شاعری نعت شریف (احمد نثار، ممبئی، مہاراشٹر) فرشتوں کا ایک جھنڈ سفر پر نکل پڑا! کہکشانوں سے ہوتا ہوا دودھیا راستوں سے گذرتا ہوا... 20 June 2016
٭کیٹیگری: متفرق شاعری نام مٹنے لگے کعبے کے نگہبانوں کے شاعر: احمد نثارؔ، مہاراشٹر، انڈیا حوصلے کیا ہوئے بتلاؤ مسلمانوں کے نام مٹنے لگے کعبے کے نگہبانوں کے نا ہی... 21 May 2016
٭کیٹیگری: متفرق شاعری شرم سے چور ہوگیا شیطاں شاعر: احمد نثارؔ، مہاراشٹر، انڈیا کارِ انساں پہ رو گیا شیطاں کیسے الزام ڈھوگیا شیطاں کام انساں کا نام شیطاں... 13 May 2016