Posts By: Hidayat Ullah Akhtar

سٹی پارک گلگت میں یوم حسین

آج جب سٹی پارک سے گزر ہوا تو اپنے دوست منظور کشمیری ارے بابا یہ کشمیر کے نہیں ہیں بلکہ گلگتی کشمیری ہیں اور بلدیہ گلگت میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں ۔پر نظر پڑی جو بڑے ہی جوش

سوچ مرگئی

کیا سوچ رہے ہو عنوان کے بارے اچھا اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ کی سوچ زندہ ہے اور مجھے کوس رہے ہو کہ یہ کیا عنوان رکھ دیا۔ٹی وی دیکھتے ہیں آپ جی جی بلکل کیا دکھائی دیتا

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہُ کی تنخواہ

اور جب میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہُ کے بارے پڑھ رہا تھا تو میں معاشرے کا نہیں اپنا جائزہ لے رہا تھا۔ میں اپنے گھر کو اور روزمرہ زندگی کے معمولات کے بارے غور کر رہا تھا۔کتنا جھوٹ

کہانی عقل کی

کہانی ہے تو پرانی پر ہے صدا بہار۔خاص کر آج کل کے لئے تو اس کو آپ انگریزی والا ستائش کا جملہ اے ون کہہ سکتے ہیں ۔لیکن ایک بات کا وسوسہ ہے کہ پتہ نہیں کہ آپ اس کو

خود پسندی اور خود نمائی

انگریزی میں ایک جملہ ہے لُک بیزی ڈُو نتھنگ۔اگر اس کے لفظی ترجمے سے ہٹ کر کوئی بات ہم کر سکتے ہیں تو وہ یہ ہے کہ جو کچھ نہیں کرتے وہ کمال کرتے ہیں ۔اس کمال میں موبائل کیمروں

ہم ابھی لشکر یزید میں ہیں

یہ کیا نماز ہے سجدے میں سر جھکا لینا نماز کہتے ہیں سجدے میں سر کٹانے کو میں اپنے کو کوئی بڑا لکھاری تصور نہیں کرتا اور نہ ہی مجھے اس بات کا دعویٰ ہے کہ میں سب کچھ جانتا

پن لیس

قلم بھی اب ہاتھ سے نکلتا ہوا دکھائی دے رہا ہے آج سےپانچ سال پہلے ایک مضمون پڑھا تھا جس کو پڑھنے کے بعد میں اپنے آپ سے سوال کرنے لگا تھا کہ کیا ایسا ایک زمانہ آئے گا جس

برما۔۔۔کوئی تو چارہ گری کو اترے

عسکریت پسند نام سے سب واقف ہیں ۔پرنٹ میڈیا ہو یا الیکٹرانک یہ لفظ بہ کثرت استعمال ہوتا ہے۔کشمیری ، سواتی، افغانی، عسکریت پسندوں کے ناموں سے کون واقف نہ ہوگا ۔اور اب برمی عسکریت پسندوں کا نام بھی سننے

قربانی کا بکرا اور میں

 میں میں میں ارے یہ کیا  رٹ لگا رکھی ہے میں کی بھائی۔۔۔ یہ میری رٹ نہیں بلکہ بکرے میاں کی فریاد ہے۔کیسی فریاد کیا ہوا بکرے کو ارے ہونا کیا ہے آپ تو جانتے ہیں کہ اگلے کچھ دنوں میں

بانگ

اب یہ نہ پوچھنا کہ مرغا صبح سویرے یا دن کے مختلف اوقات میں بانگ کیوں دیتا ہے۔ ۔ اگر ہمیں سمجھ آتی تو روزانہ کی دی جانے والی بانگوں سے ہم سبق حاصل کرتے۔ اپنی بانگ کب سے بھول