Posts By: Hidayat Ullah Akhtar

بانگ

اب یہ نہ پوچھنا کہ مرغا صبح سویرے یا دن کے مختلف اوقات میں بانگ کیوں دیتا ہے۔ ۔ اگر ہمیں سمجھ آتی تو روزانہ کی دی جانے والی بانگوں سے ہم سبق حاصل کرتے۔ اپنی بانگ کب سے بھول

کیا حثیت ہے تمھاری؟

ہفتہ پہلے کی بات ہے ہوا کیا پاکستان کی سب سے بڑی عدالت جسے سپریم کورٹ کہا جاتا ہے ۔جی جی پاکستان کی میں آزاد کشمیر یا گلگت بلتستان کی بات نہیں کر رہا آزاد کشمیر کے باسی شائد سپریم

عورت کا تقدس

تحریک انصاف کی ایک اہم رکن اور ممبر قومی اسمبلی کی پریس کانفرنس نے پاکستانی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ اس پریس کانفرنس سے تحریک انصاف کو جو نقصان پہنچے گا اس کا اندازہ ہر کوئی لگا سکتا ہے

کیا پِدی اور کیا پِدی کا شوربہ

آج مجھے اردو محاورے بڑے یاد آرہے ہیں۔میں اکثر کشمیر اور جی بی کے بارے ایک محاورہ استعمال کرتا ہوں ٓآسمان سے گرا کھجور میں اٹکا۔ایسا کہنے کی وجہ  وہ  حضرات  خوب جانتے ہیں  جو ریاست جموں و کشمیر کی

پانامہ گیٹ فیصلہ۔۔شیر اور بکری

سکول کے زمانے میں ایک کہانی پڑھی تھی دھندلی سی یاد آرہی ہے آگے پیچھے ہوجائے تو معافی۔یہ کہانی شیر اور بکری کی ہے شیر اور بکری کی بہت ساری کہانیاں ہیں ۔یہ کہانیاں بچوں کے لئے لکھی جاتی ہیں

جنازہ سب کا پڑھایا جائے

پانامہ کیس میں کس کی جیت ہوتی ہے کس کی ہار یہ تو وقت اور سپریم کورٹ کا فیصلہ ہی بتائیگا لیکن حالات اور واقعات یہ بتا رہے ہیں کہ حالات نواز شریف کے حق میں نہیں ہیں ۔اس کا

سزا پہلے مقدمہ بعد میں

اب یہ بات تو صاف ہے کہ ملک کے ایک منتخب وزیر آعظم سابق ہوگئے۔ اور پاکستانی تاریخ کے اس فیصلے کے بارے صرف اتنا کہا جا سکتا ہے کہ وہ منصفوں کی رواتیں وہی فیصلوں کی عبارتیں میرا جُرم

گلگت بلتستان میں مذہبی بنادوں پر سکیمیں بننا اور منظور ہونا کب بند ہونگی؟

جینا دوبھر ہونا محاورہ تو سنا ہوگا  آپ نے جی ہاں ایک وقت تھا کہ گلگت میں مذہبی منافرت کے باعث ایسا ہی ہوا تھا ۔ جینا دوبھر تھااور ہر وقت یہی کھٹکا کہ  نہ جانے کس گلی میں زندگی

ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ

ون بیلٹ ون روڈ  کانفرنس جو مئی چودہ اور پندرہ کو چین کے شہر بیجنگ میں منعقد ہوئی ۔جس میں پاکستان کے وزیر آعظم چاروں صوبوں کے وزیر اعلیٰ سمیت شریک ہوئے۔اگرچہ گلگت بلتستان  جو ایک صوبائی سیٹ اپ رکھتا

شائنگ سٹار کفالت سکیم

چترال سے تعلق رکھنے والی ایک بہن اور بیٹی کے بارے کچھ پڑھنے کو ملا لکھنے والے نے یوں لکھا تھا کہ وہ انسانیت کی خدمت کو عبادت سمجھ کر کرتی ہیں ۔وہ غالباً چترال کی واحد وکیل خاتون ہیں