بریکنگ نیوز

پہلی بین الاقوامی ” تصوف کانفرنس“القادر یونیورسٹی ٹرسٹ پروجیکٹ

Prof. Dr. Shamshad Akhter

Loading

تحریر: پروفیسرڈاکٹر شمشاد اختر

حضرت محمدﷺ سے قبل کی تاریخ کسی ایسے پیغمبر، مصلح یا قائد کو پیش نہیں کرتی جس نے اپنے مشن کو ایک منظم تحریک کی شکل دینے کے لئے کارکنوں کی باقاعدہ تربیت کی ہو یہ شرف و فخر اسی کملی پوش بوریا نشین مزمل و مدثر کو حاصل ہے کہ تیرہ سال تک مکہ مکرمہ کے دار ارقم میں اور پھر ہجرت کے بعد صفہ مسجد نبوی میں انسانوں کی ایک ایسی جماعت تیار کی جس کا ہر فرد کسی نہ کسی میدان عمل کا مخصص بھی تھا اور زندگی کے تمام پہلوؤں پر نظر رکھنے والا ہر فن مولا بھی، یہ لوگ سادگی پسند تھے مگر صفائی کو بھی ایمان کا حصہ تصور کرتے تھے،ان میں سے ہر فرد بلا قید نسل و نسب یا رنگ و جنس ہر عمل کا مرد میدان تھا مگر سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ نگاہ نبوت کی زیر نگرانی ڈھل کر تیار ہونے والے والا ”انسان“ تھا انسانوں کی تعمیر سیرت و شخصیت کا تصور پہلے کہاں تھا؟ تحریکوں کے لئے تربیت یافتہ کارکن تیار کر نے والے اور مختلف جامعات میں تیار ہونے والے کردار کے غازی سب اسی کملی پوش بوریا نشین مزمل و مدثر کے خوشہ چین نہیں تو اور کیا ہیں؟مگر کیا کوئی ایسے انسان تیار بھی کر سکا جیسے دار ارقم اور صفہ میں ہوتے تھے؟۔
انسان تیار کرنا ہر کسی کے بس کا کام نہیں مگر اس ہستی کو تو کوئی پہنچ ہی نہیں سکتا، جو مکہ مکرمہ کے دار ارقم اور مدینہ منورہ کے صفہ مسجد نبوی میں تزکیہ نفوس، توصیہ بالحق و توصیہ بالصبر اور اپنی نگاہ نبوت کیمیا ساز سے گوشت پوست کے انسان کو فولاد، پتھر کو سونا اور سونے کو کندن بنا دیتی ہے، یہ ایک سلسلہ تھا تربیت کا طریقہ تھا سیرت سازی کا جو خیر القرون کے گزرنے اور خلافت راشدہ کی جگہ کاٹ کھانے والی بادشاہت کے آجانے کے بعد ختم ہونے لگا تھا،نظام مصطفی ﷺ کے پر وردہ و تربیت یافتہ ابوذر ؓ و صہیب ؓ اور بلال ؓ و سلیمانؓ کی مثالیں جب مفقود ہو نے لگیں تو حکمت خداوندی نے اس نظام کو بقا ء و دوام عطا کرنے کے لئے صلحائے امت کا ایک گروہ پیدا کردیا جس نے اس نظام مصطفوی کو زندہ و پائندہ رکھنے کا عزم بالجزم کیا اور اپنے رب سے عہد وفا باندھا اور دار ارقم اور صفہ کے نبوی نظام تربیت کو آگے بڑھانے کا کام سنبھال لیا،یہ لوگ تاج و تخت اور دنیائے دوں کے کرو فر سے اسی طرح بے نیاز و دست کش تھے،جس طرح دار ارقم اور صفہ مسجد نبوی کا تاریخ ساز نظام تربیت عطا کرنے والے کملی پوش بوریا نشیں مزمل و مدثر اور مجتبی و مصطفی ﷺ کی سنت طیبہ اہل دین کے سامنے تھی، گردش ایام کے خطرات اور وقت کی آندھیاں بھی ان لوگوں کو اتباع سنت سے متزلزل نہ کر سکیں اور وہ مصطفوی نظام تربیت کے علمبردار بن کر امت کی رہنمائی کے لئے کمر بستہ ہو گئے، یہ لوگ علم و عمل کا مکمل نبوی نمونہ تھے اس لیے اہل اسلام کے دلوں پر حکومت کرنے لگے تھے۔سنت و طریقہ نبوی ﷺ کو اپنانے والے یہی لوگ اصحاب طریقت کہلائے، یہ نان جویں پر گزر بسر کرتے تھے مگر قوت حیدری صرف انہی کا حصہ تھا، یہ صوف قطیٰ کا کھردرا لباس زیب تن کرنے پر قناعت کرتے تھے مگر شاہوں کے اطلس و پرنیاں کے لباس فاخرہ ان کے قدموں کی خاک میں آلودہ ہونے کے لیے بے قراررہتے تھے،یہ لوگ جب اتباع پیغمبر ﷺ میں شب بیداری اور یاد خدا میں مشغول دنیا و ما فیہا سے بے نیاز دیکھتے تو ان کو زاہد کہتے،جب ان کے جسموں پر اون کا کھردرا لباس دیکھتے تو ان کو صوفی کہتے تھے، مگر یہی لوگ جب شمشیر بکف میدان کار زار میں اترتے تو شہسوار ان جہاد فی سبیل اللہ کہلاتے، جب یہ علم و حکمت کے موتی رولتے تو سب بڑے زمانے کے استاد اور عالم باعمل نظر آتے،یہی تو تھے جن کے لیے باللیل رھبان و بالنہار فرسان (راتوں کو راہب اور دن کو شہسوار) بولا جاتا تھا ہاں مگر یہ خود کو جہاد اصغر تک محدود نہیں رکھتے تھے، یہ جہاد اکبر کے نبوی طریق کو اپنائے ہوئے تھے، مجاہدہ نفسی، اصلاح خلق اور خدمت دین و امت ان کے لیے میدان عمل تھا، اعلائے کلمۃ اللہ ان کا نعرہ حق تھا اور راہ حق میں جاں سپاری انکا مقصود تھا، یہی لوگ تھے جو نبوت کے وارث، اشاعت دین کے علمبردار اور خدمت خلق کے دعویدار تھے، انہی کو صوفی، اہل طریقت اور اصحاب تصوف کہا جاتا تھا،قرآ ن کریم اور سنت نبوی ہی ان کا نصاب تعلیم و تربیت تھا، یہی ان کا ضابطہ حیات تھا اور اس سے انحراف و اعراض کو یہ لوگ کفر و ضلالت اور فسق و گمراہی قرار دیتے تھے، یہی وہ حقائق ہیں جو تصوف کی روح ہیں اور عصر حاضر میں روح تصوف کو تازگی بخشنے کے لئے القادر یونیورسٹی ٹرسٹ پروجیکٹ نے ایک بین الاقوامی تصوف کانفرنس جو ۸،۹ مارچ کو انعقاد پذیر ہوگی اس کا اہتمام کیا گیاہے جس میں بین الاقوامی سطح کے اسکالرز تشریف لا رہے ہیں۔اچھی روایت اور اچھی روش ہمیشہ غلط لوگوں کے ہاتھوں بری رسم اور برے طریقوں سے بدل جایا کرتی ہے،تصوف کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا، علم کی جگہ جہالت نے لے لی اور عمل کی جگہ بے عملی بلکہ بد عملی کا دور دورہ ہو گیا، تصوف و طریقت کو خفیہ شریعت بلکہ شریعت سے الگ ”صدری نسخہ“بنا دیا گیا، شعبدہ بازی اور فریب کاری کو کرامات کا نام دے دیا گیا اور دغا باز و ہوس پرست لوگوں نے تصوف کو مشق ستم بنا لیا، راہبوں، بھکشوؤں اور سادھوؤں کی خرافات کو اپنا کر اور ان میں اپنی ہوس پرستی اور عیش کوشی کا نشہ شامل کر کے ایک خاص روش اور لباس اختیار کرلیا، پھر اسے باطنی طریقت کا نام دے کر حرمت اور حلت کی قیود بھی ختم کر دی گئیں، یہ ”تصوف“ اور یہ ”طریقت“ شریعت سے کھلا انحراف و اعراض تھا،یہی روش ہے جسے یورپ و امریکہ کے مستشرقین اسلامی تصوف کا نام دے کر اس کے ڈانڈے یونان و ہند سے ملاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ہے ”اسلامی تصوف“ مقصد یہ کہ پیغمبر اسلام ﷺ سے تعمیر سیرت اور انسان سازی کا جو ورثہ گروہ اولیاء اللہ کے حصے میں آیا اور جو دار ارقم اور صفہ مسجد نبوی میں تربیت کے نظام مصطفوی کا تسلسل ہے اسے بدنام کر کے اپنوں اور غیروں کی نظر میں گرا دیا جائے۔اس سازش کا بے نقاب کر نے کے لئے تصوف کانفرنس القادر یونیورسٹی میں منعقد کی جا رہی ہے جس میں یہ ثابت کیا جائے گا کہ تصوف کوئی دین اسلام سے ہٹ کر نہیں بلکہ روح شریعت،روح دین کا نا م تصوف ہے اور عصر حاضر میں جتنے مسائل ہیں ان کو حل کر نے کے لئے اصحاب تصوف تیار کرنے کی ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں