بریکنگ نیوز

ظلم کی مخالفت ہی ”درس کربلا“ ہے

Prof. Dr. Shamshad Akhter

Loading

تحریر: ڈاکٹر شمشاد اختر

امام حسین ؓ نے مدینہ سے مکہ کی طرف ہجرت فرمائی اور اپنے اہل و عیال کو ساتھ لیا جس میں ہر عمر کے لوگ تھے، عورتیں تھیں۔ جب امام حسین ؑ کا قافلہ مکہ پہنچاتو حج کے لئے احرام باندھ لئے۔اب حالات یہ ہیں کہ اپنا شہر، اپنے نانا کا شہر مدینہ امام کے لئے غیر محفوظ بن گیا تو ہجرت کر کے خدا کے گھر مکہ آئے ہوئے ہیں ۔یہاں معلوم ہوا کہ یزید نے کچھ حاجیوں کو امام حسین ؓ کے قتل کا حکم دے رکھا ہے کہ دوران ِطواف ان پر حملہ کر دیا جائے ۔امام حسین ؓ جانتے تھے کہ ان کی شہادت ہونی ہی ہے،وہ چاہتے تو وہیں حج جاری رکھتے تو بھی تو خدا کی راہ میں جان دیتے لیکن نہیں!وہ نواسہ رسول ﷺتھے،وہ تو اس اعلی مرتبے کی ہستی تھے کہ ہماری سوچ ان کی عظمت کا اندازہ نہیں کر سکتی۔ اپنے بھائی عباس علمدار ؓ کو کہتے ہیں کہ عباس ؓ! احرام کھول دو۔ ہم حج نہیں کریں گے، عمرہ کر کے یہاں سے چلے جائیں گے! پھر وہاں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: ”میں دیکھ رہا ہوں کہ یہاں کچھ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے احرام میں تلواریں چھپا رکھی ہیں، وہ میرے قتل کے لئے آئے ہیں۔ میں حسین ابن علی ؓ اپنی موت سے نہیں ڈرتا بلکہ خانہ کعبہ کی حرمت خون خرابے سے پامال نہ ہو اس لئے یہاں سے جا رہا ہوں“۔
اب اس بات سے یہ سبق ملتا ہے کہ نماز، روزہ، حج تب ہی قبول ہوگا جب نیت اللہ کی خوشنودی ہو گی اور جب حضرت محمد ﷺاور انکی آل کے ساتھ وفاداری ہوگی۔ جو نماز اہل بیت پر درود و سلام بھیجے بغیر مکمل ہی نہیں ہوتی وہی اہل بیت حج چھوڑ کر جا رہے ہیں۔اب جب امام حسین ؓ کا قافلہ کربلا پہنچاتو وہیں اپنے خیمے لگا لئے۔ اب یہاں جو درس ہے وہ ہے تسلیم و رضا کا۔ جب سات محرم سے اہل بیت پر پانی بند کر دیا گیاتو اس وقت ان کے صبر کا امتحان شروع ہوا۔آب کوثر جن کی میراث ہے وہ پیاسے تھے،اگر چاہتے تو ان کے لئے آسمان بارش برسا دیتا اور زمین پانی کے چشمے بہا دیتی لیکن سید شہداء صبر کے عروج پر تھے۔وہ خدا کی رضا پر راضی تھے۔صبر کے پیکر تھے۔فرمانے لگے ”رضا اللہ رضا اھل البیت“یعنی جو اللہ کی رضا ہے وہی ہم اہل بیت کی رضا ہے۔
۹ محرم الحرام کو عمروابن سعد نے یزید کا پیغام آسنایا کہ آپ بیعت کر لیں ورنہ آپ کے قتل کی تیاری مکمل ہو چکی ہے۔امام نے حجت تمام کی اور ان کو ایک بار پھر راہ راست کی طرف بلایالیکن انہوں نے جنگ کا اعلان کر دیا۔ امام عالی مقام نے اپنے ساتھیوں کو اکٹھا کیا اور اپنے بیٹے علی اکبر ؓ کو کہا چراغ گل کردو اور اعلان کیا جو جانا چاہتا ہے واپس بغیر ندامت کے چلا جائے کیونکہ لشکر یزید کا مقصد میرا قتل ہے۔جو چلا بھی جائے میں روز محشر اس کی شفاعت کی ضمانت دیتا ہوں۔ کچھ دیر بعد حضرت عباس کو صدا دی کہ عباس! چراغ جلا دو۔ جب دیکھا تو سب ہی اپنی جگہ پر موجود تھے۔ یہاں وفاداری کا درس ملتا ہے کہ اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر سب امام کے ساتھ کھڑے تھے۔
۰۱محرم الحرام کا دن شروع ہوا جو کہ یوم ِ عاشور تھا۔سخت گرمی، بھوک اور پیاس کے عالم میں امام اور اس کے ساتھی لشکر یزید کا سامنا کرنے کے لئے تیار تھے۔ کہیں دوستی کی ایک بہترین مثال ملتی ہے جو امام کے بچپن کے دوست حضرت حبیب ابن مظاہر ؓ نے قائم کی۔ جیسے ہی انہیں کوفہ میں امام حسین ؓ کا خط ملا تو وہ تڑپ اٹھے کہ جلد از جلد امام کے پاس پہنچ سکیں وہ نصرت حق کے لئے اپنا گھر بار چھوڑ آئے اور امام کی طرف سے لڑتے ہوئے جام ِ شہادت نوش کیا۔تو کہیں ضعیفی میں بھی راہ خدا میں شہادت کا جذبہ رکھنے والے مسلم ابن عوسجہ کی مثال ملتی ہے کہ جنکے ہاتھوں میں رعشہ ضرور تھالیکن حوصلہ جوان تھا۔ فرماتے ہیں قسم بخدا! اگر مجھے اس بات کا علم ہو جائیکہ میں قتل ہو جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر مجھے جلا کر خا کستر کر دیا جائے اور ایسا ستر مرتبہ کیا جائے گا تو بھی میں آپ سے جدا نہیں ہوں گا یہاں تک کہ آپ کی نصرت میں شہادت کے درجے پر فائز ہو جاؤں۔تو کہیں حر نے یہ درس دیا کہ اگر گناہ جتنے بھی ہوں توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔ندامت کی پٹی باندھ کر مولا کے حضور آئے۔ مولا حسین ؓ نے حر کو گلے لگا لیا۔ حر ّ نے اذن جہاد کی اجازت لی اور جام شہادت نوش فرما کر اہل دنیا کو ابدی پیغام سنا گئے کہ ہم حر ّ ہیں، دنیا میں بھی آخرت میں بھی! یہ حسین ؓ کی درسگاہ ہے۔ یہاں حر بنائے جاتے ہیں۔ پھر وہب کلبی آتے ہیں اور پیغام حریت دے جاتے ہیں کہ دیکھو ضمیر زندہ رہنا چاہیے تاکہ حق قبول کرنے میں مذہب و ملت دامن گیر نہ ہو۔آپ عیسائی مذہب سے تعلق رکھتے تھے لیکن جونہی صدائے حق کا علم بلند ہوا، امام حسین ؓ کی نصرت کو چلے آئے اور امام کے قدموں میں اپنی جان نچھاورکر کے حریت کی اعلی مثال قائم کردی۔ سیدہ زینب ؓ کے چھوٹے بیٹوں نے شہادت کا رتبہ پایا۔پھر قاسم ؓ نے جب مولا حسین ؓ نے پوچھا موت تمہارے نزدیک کیسی ہے؟ جناب قاسم ؓ جواب دیتے ہیں، شہد سے بھی شرینی!
حضرت عباس ؓ نے اپنے دونوں بازوں کٹوا کر بھی وفاداری اور عقیدت کا درس دیا۔عقیدت کا یہ عالم تھا کہ امام حسین ؓ کو کبھی بھائی کہہ کر نہ پکارا ہمیشہ مولا کہا اور آخری وقت میں بھی صدا تھی، مولا غلام کاآخری سلام قبول کریں۔ پھر اپنے بیٹے امام علی اکبر ؓ کو اپنے ہاتھوں سے تیار کیا انہوں نے بھی جام شہادت نوش کیا اور آخر میں اپنے چھ ماہ کے بیٹے علی اصغر ؓ کو بھی بارگاہ خدا میں قربان کر دیا۔ اب کوئی نہیں بچا سوائے امام حسین ؓ کے۔ خیموں میں جا کے سب سے رخصت لی اور امام زین العابدین ؓ سے کہاابھی تمہیں بہت سی مشکلات اٹھانی ہیں لیکن ہر قدم پر میرے نانا کی رسالت کی گواہی دیتے رہنا۔پھر گھوڑے پر سوار ہو کر یزیدی لشکر سے ٹکرائے اور جام شہادت نوش کیا۔
اس واقعہ سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ کربلا کا درس صبر اور رضائے الہی میں راضی ہو نا ہے ، ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا ہے ، عزت، وفا اور محبت کا درس ہے۔اور یہ بتایا گیا ہے کہ مسلمان ہونے کے تقاضے کیا ہیں۔اللہ ہمارے دلوں کو محبت اہل سے سرشار رکھے اور ہمیں حسینیت کے درس سمجھنے اور عمل کرنے والا بنائے۔

اپنا تبصرہ لکھیں