پٹھان کوٹ حملہ بھارتی خفیہ اداروں پر سوالیہ نشان۔۔۔۔ تحریر: رضوان اللہ پشاوری

Rizwan Ullah Peshawari

پٹھان کوٹ میں بھارتی فضائیہ کے اڈے پر حملے کے بعد ایک طرف تو بھارت کے خفیہ اداروں کی کارکردگی اور دفاعی سکیورٹی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں جبکہ بھارت پاکستان تعلقات کے مستقبل پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
پٹھان کوٹ ایئربیس پر حملے کے خلاف بھارتی سکیورٹی فورسز کی کارروائی کا آج پیر کو تیسرا دن ہے ۔ اس آپریشن میں ایک لفٹنینٹ کرنل سمیت سات سکیورٹی اہلکار ہلاک اور بیس زخمی ہو چکے ہیں۔ حکام نے چار عسکریت پسندوں کو مارنے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ دو شدت پسند اب بھی کہیں چھپے ہوئے ہیں تاہم کوئی بھی اعلیٰ سول یا فوجی افسر واضح طور پر یہ کہنے کو تیار نہیں ہے کہ وہاں ابھی حقیقتاًکتنے حملہ آور موجود ہیں۔ پاکستانی سرحد سے صرف پچیس کلومیٹر دور واقع پٹھان کوٹ ایئر بیس کافی بڑ ے علاقے پر پھیلی ہوئی ہے ۔ وہاں فوجی تنصیبات کے علاوہ فضائیہ کے اہلکاروں کی فیملیز کے رہنے کے لئے رہائشیں اور اسکول وغیرہ بھی ہیں لہذا پورے علاقے اور تمام تنصیبات کی مکمل تلاشی اور جانچ کے بعد ہی آپریشن کے خاتمے کا اعلان کیا جائے گا۔
صورت حال کی سنگینی کے مدنظر رکھتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے گزشتہ رات گئے اعلیٰ سطحی میٹنگ کی، جس میں قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال، سلامتی سے متعلق کابینہ کمیٹی کے اراکین، وزیر دفاع منوہر پریکر ، وزیر خزانہ ارون جیٹلی اور خارجہ سیکریٹری سبرامنیم جے شنکر بھی موجود تھے ۔ سرکاری ذرائع کے مطابق میٹنگ میں پٹھان کوٹ حملے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا اور پاکستان کے ساتھ مستقبل کے تعلقات پر بھی غور و خوض کیا گیا۔ ادھر وزیر خارجہ سشما سوراج نے بھی سفارت کاروں کے ساتھ صلاح و مشورہ کیا اور پاکستان کے سلسلے میں آئندہ کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
خیال رہے کہ آئندہ پندرہ جنوری کو بھارت اور پاکستان کے خارجہ سیکریٹریوں کی ملاقات ہونی ہے ۔گزشتہ پچیس دسمبر کو وزیر اعظم نریندر مودی نے اچانک لاہور جا کر پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کو ان کی سالگرہ پر مبارک باد دی تھی، جس کے بعد دونوں ملکوں کے مابین تعلقات بحال ہونے کی امید پیدا ہوگئی تھی۔ خارجہ سیکریٹریوں کی میٹنگ اس سلسلے کی پہلی کڑی ہے ۔ لیکن پٹھان کوٹ کے تازہ واقعہ کے بعد اس میٹنگ پر بھی سوالیہ نشانات لگ گئے ہیں گوکہ سرکاری طور پر ابھی کسی فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا ہے ۔
پٹھان کوٹ حملے کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت دفاعی پوزیشن میں آگئی ہے ۔ اس لئے امکان ہے کہ وہ پاکستان سے جیش محمد کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کے لئے کہے گی اور اپنے اس موقف کا ایک بار پھر اعادہ کرے گی کہ دہشت گردی اور بات چیت ایک ساتھ نہیں چل سکتے ۔ ادھر وزیر دفاع منوہر پریکر نے ایک تین رکنی انکوائری کمیٹی بنانے کا اعلان کیا، جو یہ پتہ لگائے گی کہ عسکریت ہسندوں کی موجودگی اور حملے سے متعلق خفیہ جانکاری ہونے کے باوجود وہ پٹھان کوٹ ایئربیس میں کس طرح داخل ہوگئے ۔
دریں اثناء دفاعی اور سکیورٹی ماہرین نے پٹھان کوٹ پر حملے کے بعد خفیہ اداروں کی کارکردگی اور بھارتی دفاعی تیاریوں کے حوالے سے سخت نکتہ چینی کی ہے ۔ ایئر وائس مارشل(ریٹائرڈ)کپل کاک نے کہا کہ146146حکومت کے پاس چوبیس گھنٹے پہلے ہی یہ واضح اطلاع پہنچ گئی تھی کہ دہشت گرد حملہ کرسکتے ہیں۔ اس کے باوجود اہم تنصیبات کی سکیورٹی میں اضافہ کیوں نہیں کیا گیا، اگر بروقت سکیورٹی تعینات کر دی جاتی تو ہمارے سات جوانوں کی قیمتی جانیں نہیں جاتیں۔145145 انہوں نے پٹھان کوٹ میں نیشنل سکیورٹی گارڈ بھیجنے کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال کے فیصلے پر بھی سوال اٹھایا اور سات جوانوں کی ہلاکت کو 146سات افراد145کی ہلاکت کہنے پر مرکزی داخلہ سیکریٹری راجیو مہرشی پر بھی نکتہ چینی کی۔ اس سوا ل کے جواب میں کہ کیا اس حملے میں پاکستانی آرمی یا آئی ایس آئی کا ہاتھ ہے ؟ سابق فوجی افسر نے کہا، 146146گوکہ یہ بات بھارتی رائے عامہ کے خلاف ہوگی تاہم میں اپنے تجزیے کی بنیاد پر واضح اور یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اس میں پاکستانی آرمی یا آئی ایس آئی کا ہاتھ نہیں ہے۔145145
یہاں عالمی شہرت یافتہ تعلیمی ادارہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پاکستان اسٹڈیز کے کوآرڈینیٹر پروفیسر اجے درشن بیہرا نے سکیورٹی فورسز کے طریقہ کار پر سوال کرتے ہوئے کہا کہ 146146کل فورسز نے کہا تھا کہ تمام دہشت گردوں کا صفایا کردیا گیا ہے لیکن کئی جوانوں کی ہلاکت کے بعد بھی وہ آج کہہ رہے ہیں کہ آپریشن ابھی جاری ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ کہیں نہ کہیں گڑبڑ ہے ۔145145
موقر ادارہ انسٹی ٹیوٹ فار ڈیفنس اسٹڈیز اینڈ انالسز کے ریسرچ فیلو اشوک بھوریا کا کہنا ہے کہ 146146اس حملے کا مقصد دونوں ملکوں کے مابین مذاکرات کے عمل کو ختم کرنا ہے ۔ یہ حملہ کوئی غیر متوقع نہیں ہے لیکن مجھے حیرت اس بات پر ہے کہ ہماری تیاریاں اتنی کمزور کیوں تھیں۔145145بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی را کے سابق سربراہ اے ایس دلت نے ایک بیان میں کہا کہ 146146 ؤپٹھان کوٹ آپریشن نے سکیورٹی فورسز کی کارکردگی سمیت بہت سارے سوالات پیدا کردیے ہیں۔ آخر دہشت گرد اتنی آسانی سے اور اتنے ڈھیر سارے ہتھیاروں کے ساتھ ایئر بیس میں داخل کیسے ہوگئے ؟
دریں اثنا اپوزیشن کانگریس پارٹی نے داخلی سلامتی کے حوالے سے نریندر مودی حکومت پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو پاکستان کے ساتھ تعلقات کے سلسلے میں اپنے موقف کا از سر نوجائزہ لینا چاہیے ۔

Short URL: http://tinyurl.com/zjpaw94
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *