مستقبل کے حکمران! اَژدھے۔۔۔۔ تحریر :ڈاکٹراحسان باری ، ہارون آباد

Dr. Ehsan Bari

جعلی مینڈیٹ والے موجودہ و سابقہ کرپٹ و بد کردار حکمرانوں کے دور میں ان کی انتہائی بد انتظامیوں اور لاپرواہیوں کی وجہ سے قصابوں نے ہمیں گدھے تک کا گوشت کھلا ڈالا ہے جبکہ سابق ادوار میں توکتا ذبح کرتے ہوئے بھی افرادرنگے ہاتھوں پکڑے جاچکے ہیں عوام کو حرام و انتہائی بد بودار گوشت کھا کر سابقہ اور مو جودہ سبھی حکمران ٹولوں کے نزدیک پھٹکنے سے انتہائی بدبوکے ببھوکے محسوس ہوتے ہیں مہنگائی کی یہی صورتحال رہی توآئندہ لوگ عید قربان پربکروں کی جگہ وڈیروں،سودخورسرمایہ داروں اور انگریز کے پھٹو جاگیردارو ں کو ہی قربان ہوتا دیکھنے پر مجبور ہوں گے کہ سارے ملک کا سرمایہ توفی ایک ہزار افراد میں سے صرف ایک شخص کے پاس جمع ہوتا چلا جارہا ہے۔ نابأہ عصرو عقبرئ اسلام مولا نا سید ابو الاعلیٰ مودودی جن کی تحریریں اور کتب میرے لکھے گئے پمفلٹ”آئینہ مرزائیت “کی طرح دنیا میں سب سے زیادہ زبانوں میں ترجمہ ہو کر پڑھی جاتی ہیں نے پاکستان بننے سے قبل ہی دنیا بھر کے جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کو انتباہ کرتے ہوئے کہاتھا کہ اب سرمایہ داری کا دور لد چکا ۔روپے کی خدائی کا تخت متزلزل ہے ناجائز جمع کردہ سرمایہ کو اب بہر حال جانا ہے ایک ہاتھ وہ ہے جو آپ کے سرمایہ کے ساتھ آپ کو بھی لے ڈوبے گا اور دوسرا ہاتھ وہ ہے جو جب بھی اٹھے گا انصاف کے لیے اٹھے گااور آپ سے اتنا ہی چھینے گاجتنا آپ نے ناجائز طور طریقوں سے جمع کررکھا ہے بہر حال سرمایہ داری ایک ناسور ہے اور اسلام اس کا نشتر ہے اور سب سے پہلے فوجی ڈکٹیٹر ایوب خان کی چین جاکر ماؤزے تنگ سے ملاقات کاواقعہ تو عوام نہیں بھولے کہ جب چھوٹی سی بیٹھک میں ملاقات شروع ہو ئی تو انھیں گرمی محسوس ہوئی تو سوال کرڈالا کہ آپ کے ہاں پنکھے کس ماہ میں چھتوں پر لٹکائے جاتے ہیں تو فوراً چینی صدر جسے آپ لاکھ بے دین اور کیمو نسٹ کہتے رہیں نے جواب دیا کہ میں پنکھے لگوارہا ہوں ہمارا ملک غریب ہے جب تمام عوام کی چھتوں پر پنکھے لٹک جائیں گے تو آخری پنکھا میں لگوا لوں گا
(mine will be the last fan (
جبکہ67سال سے ہم اللہ اکبر اور لا الہ الا اللہ کے نعروں کوبھلا کر ڈالروں کی گنتی کی تسبیحاں کرتے چلے آرہے ہیں حکمران ہو ش کے ناخن لیں کہ تمہارے پلازے ،جنگلہ بسیں اور کھلی سڑکیں انسانوں کے لیے خوراک اور پیاس کا متبادل نہیں ہیں تم خزانوں پر سانپ بن کر بیٹھے ہو اور ان کواپنے اللے تللے کاموں پر لٹا رہے ہوقوم تمہیں کبھی معاف نہیں کرے گی جاگ چکی ہے ظلم و اندھیرے کی رات کی کوکھ سے صبح ضرور جنم لے گی اور شاید تمہارے رائے ونڈی و زرداری محلات سے تمہار ے ہیلی کاپٹروں کو بھی اڑنے کا موقع نہ مل سکے ہمہ قسم استحصال ، مہنگائی ، بیروز گاری ، بدامنی کے لیے مؤثر پلان بنا ڈالو وگرنہ ؂سب ٹھاٹھ پڑا رہ جائے گا ۔جب لاد چلے گا بنجارا۔سود خور کرپٹ حکمران اور نو دولتیے سرمایہ دار پورے ملک کی دولت پر سانپ نہیں اژدھے بنے بیٹھے ہیں ایسے ماحول میں بھوکے سانپوں کوخود ہی ان سے نپٹنا ہو گاکہ عوام تو صرف جعلی نعروں اوروعدوں پرووٹ ہی دینے کے قابل ہیں اور مسلسل دھوکے کھاتے ہیں سابقہ انتخابات میں تو جعلی بینکوں کے چیک دیکر دیہاتیوں سے ووٹ ٹھگ لیے گئے دوسرے امیداوارنے بجلی کے کھمبے بنانے والی فیکٹریوں سے بجلی کے پول منگوا کر چکوک اور ٹبہ آبادیوں پر پھنکوادیے کہ بجلی آپ کے علاقہ میں لگ رہی ہے اور فراڈ کے زریعے ووٹ حاصل کرکے منتخب ہو گئے اور بجلی کے کھمبے اکھاڑ کرواپس فیکٹریوں میں بھجوادیے گئے اورا یسے امیداور بھی منتخب ہو ئے جنہوں نے میٹرک پاس بچیوں کو پی ٹی سی ٹیچر کی تعیناتی کے جعلی لیٹر لا کر دیے اور اسی طرح نمبر داروں اور مؤثر افراد کے بچوں کو کلرک و سرکاری ادروں میں چپڑاسی رکھوانے کے جعلی لیٹر دیکرووٹروں کو الو بنا کر جیت گئے عوام مسلسل دھوکے کھاتی رہی ہے انھیں غربت اور بیروزگاری سر کھجلانے تک کی فرصت نہیں دیتی خدائے عزو جل پاکستان بننے پر لاکھوں شہید ماؤں بہنوں بچوں ،بچیوں کے طفیل اس دفعہ سبھی موجودہ و سابقہ حکرانوں سے جان چھڑوا کر اسی کے پاک نام اور آقائے نامدار محمدمصطفیٰ ﷺ کے صدقے اللہ اکبر کی تحریک کو کا میاب کریں گے کہ لوگ یہ جان چکے ہیں کہ ؂اب ہماری جنگ آخری۔مورچہ چھوڑ نہ جائے کوئی ۔حکمرانو! مستقبل قریب کے حالات سے ڈروجب سنگلاخ چٹانوں اور ویران ریگستانوں میں سانپوں اور اژدھوں کی حکمرانی ہو گی اور بھوکے پیاسے سانپ،بچھو اور اژدھے ہمارے ہی صحراؤں سے نکل کرشہروں کا رخ کر جائیں گے اور میٹھا پانی بالکل دستیاب نہ ہو نے کی وجہ سے آدمی آدمی کے ہی خون کا پیاسا ہو گااور حشرات الا ارض و جنگلی جانوراور بھوکے پیاسے نڈھال کسان پانی کی تلاش میں سرگرداں ہوں گے اور جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا راج ہو گا!ڈاکوؤں ، لٹیروں کے گروہ اور جتھے مختلف علاقوں پر قابض ہو کراپنی حکمرانی کے سکے چلانے لگیں گے دریائے بیاس تو ہندو بنئیے کو بیچ ڈالا گیا تھا اور دریائے ستلج کی گزرگاہ تک صحرائے گوبی کی طرح چولستانی ریگستانوں میں تبدیل ہو چکی ہے ہم پاکستانی ملت نے اپنے آپ کو فرقوں، لسانی گروہوں اور برادریوں میں تو تقسیم کرڈالا ہے مگر بھارت کے ساتھ پانی کی تقسیم میں ناکام ہو چکے ہیں۔ آبی دہشت گرد بھارت چھوٹے بڑے تین درجن سے زائد ڈیم بنا کرہمیں بھوکا پیاسا مارنے کے لیے خوفناک پلان بنا چکا ہے ادھر ہم”ہنوز دلی دور است “کے مصداق اور پنگھوڑے میں پڑے آخری مغل عیاش رنگیلے بادشاہ کی طرح”دے سیراں چوٹا”کا راگ الاپ رہے ہیں فوجی ڈکٹیٹر ہوں یا جمہوری کرپٹ آمر حکمران سبھی اپنا اپنا کردار ادا کرچکے ہیں غریب عوام کے خون پرقائم پاکستانی بینکوں اور خزانوں سے کھربوں روپے لوٹ کربیرون ممالک جمع کیے گئے ہیں اور ان کی اولادیں تک و ہاں صنعتوں کے ایمپائر و پلازے کھڑے کرچکی ہیں اور عوا م کی طرف سے آخری دھکا دینے کی انتظار میں ہیں و گرنہ ان کا تو اس “دیار غیر” میں دل نہیں لگتاوہ بیرون ملکوں کی رنگین راتوں اور شراب و کباب کی محفلوں کے رسیاہیں سیاسی جھٹکا ہوتے ہی سبھی حکمران ٹولوں کی رات کے اندھیروں میں بھاگ جانے کی تیاریاں مکمل ہیں بلاول وزردای ہاؤسز میں ایسے ہیلی پیڈ بن گئے ہیں جن میں دو تین ہیلی کاپٹر وں میں ہمہ وقت ڈرائیور انھیں پلک جھپکنے میں اڑانے کے لیے مو جود ہیں عمرانی بنی گالائی محلات میں بھی ایسی تیاریوں کے پلان بن رہے ہیں حکمرانو! ڈرو اس وقت سے کہ ایرانی بادشاہ رضا شاہ پہلوی کو دو گز زمین کا ٹکڑا اسکے یورپی آقاؤں نے دفن ہو نے کے لیے نہ دیا تھا شریف برادران ،زرداری اور عمران خان غور سے سنو کہ تمہارے محلات میں توپھٹے پرانے میلے کچیلے کپڑوں اور ٹوٹی پھوٹی جوتیوں والے غریب پسے ہوئے طبقات کے لوگ حتیٰ کہ تمہارے ہی کارکنان داخل تک نہیں ہو سکتے مگر آپ کی شہ زوریوں اور اکڑی گردنوں کو دیکھ کر ان مجبوروں کی آنکھوں میں خاص چمک پیدا ہو چکی ہے وہ بہری قذاقوں کی طرح تمہارے ہی خون کے پیاسے ہو کرتمہارے ریت کے گھر وندوں جیسے محلات کی اینٹ سے اینٹ بجاڈالنا چاہتے ہیں کسانو ں ، مزدوروں ، کے ممکنہ لانگ مارچ کے وقت تمہارے گن مین اور حفاظتی باڑیں ان کا راستہ نہیں روک سکیں گی کہ وہ حکمرانوں کی حرام خوراکیوں کی بدولت ڈھول نما توندوں پر اچھلنا کودنا اوربدبودارجسموں سے چھٹکارا پانا چاہتے ہیں جنہوں نے غرباء کے جسموں سے آخری قطرۂ خون تک نچوڑ ڈالا ہے۔
Short URL: http://tinyurl.com/z8drusp
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *