والدین، ایک حقیقی سرمایہ۔۔۔۔ تحریر: عامر خان

Amir Khan
Print Friendly, PDF & Email

سکول جاتے ہوئے اچانک راستے میں نیت بدلی۔ سوچا سکول نہیں جانا آج۔ گھر واپس جاتا ہوں، وہاں پہ موجود دوسرے دوستوں کے ساتھ کھیلوں گا، موج کروں گا۔ فوراََ واپس چل پڑا۔ گھر پہنچا تو امی صحن میں جھاڑو دے رہی تھی۔ امی نے پوچھا ’’ سکول نہیں گئے؟ ‘‘۔
نہیں ۔۔۔ کیوں ؟؟؟؟ آج سکول میں آرمی والے آئے ہوئے تھے، تو ہیڈ ماسٹر صاحب نے چھٹی دی ہے ‘‘ میں نے ڈرتے ہوئے جواب دیا۔۔۔ امی نے آنکھیں پڑھ لیں تھیں۔ آنکھوں میں جھوٹ واضح نمایاں ہو رہا تھا۔ امی نے کہا، اچھا جاؤ بیٹا، بیگ کمرے میں رکھ کے آؤ۔ میں بھاگ کر کمرے میں چلا گیا۔ پھر چند سیکنڈوں میں وہ جھاڑو میری کمر پہ بارش کی طرح برسنے لگا۔ امی کو پتہ چل گیا تھا کہ میں نے ان سے جھوٹ بولا ہے۔ میں نے پھر سے بیگ اٹھایا اور سکول کی طرف بھاگا۔ امی نے پیچھے سے آواز دی کہ سکول کے لڑکوں سے پوچھوں گی۔ اگر سکول نہ گیا تو تمہاری خیر نہیں۔ ‘‘ ۔
یہ سب جو میں کہانی کے روپ میں بیان کر چکا ہوں، میرے اپنے ساتھ پیش آنے والا واقع ہے۔ وہ دن اُس وقت تو کچھ سمجھ نہیں آیالیکن اب جب بھی یاد آتا ہے تو خوشی سے بھر پور ایک احساس پیدا ہوتا ہے۔ وہی امی، جس نے جھاڑو سے مارا تھا، کیا وہ سب انھی کا اپنا فائدہ تھا؟ ہرگز نہیں۔۔ آج جا کے احساس ہوا کہ اگر اس وقت امی یہ سب نہ کرتی تو آج میں شائد کسی ان پڑھ کی طرح بھٹے پہ کام کر رہا ہوتا، بکریاں چرا رہا ہوتا دربدر کی ٹھوکریں نصیب بنتی۔اب احساس ہوا کہ ماں باپ خدا کا دیا کتنا انمول تحفہ ہیں۔ والدین اپنا پیٹ کاٹ کہ اولاد کا پیٹ بھرتے ہیں۔ ان کو اچھی تعلیم دلاتے ہیں۔ اس دنیا کے نظام وانتظام میں اللہ کے بعد اگر کسی کا مقام و مرتبی ہے تو وہ والدین کا ہے۔
قرآنِ پاک میں ارشاد ہے
۔’’ تمہارے رب نے حکم دیا ہے کہ سوائے اللہ کے کسی کی عبادت مت کرو اور تم اپنے والدین کے ساتھ حسن وسلوک کرو۔ اگر تمہارے سامنے ان میں سے ایک یا دونوں بوڑھے ہو جائیں تو ان کے سامنے اُف تک نہ بھی نہ کرنا اور نہ ہی انھیں جھڑکنا، اور ان سے خوب ادب سے بات کرنا اور ان کے سامنے شفقت و انکساری سے جھکے رہنا اور یوں دعا کرتے رہنا، اے پروردگار میرے ماں باپ پر رحم فرماجیسے انہوں نے مجھے بچپن میں پالا اور میری پرورش کی۔ (سورہ بنی اسرائیل آیت 23,24) ‘‘۔
اس آیتِ مقدسہ میں جہاں اللہ تعالی ٰ نے ماں باپ کے لیے دعا کرنے کا حکم دیا اور اپنی عبادت کے بعد ماں باپ کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے کا حکم دیا وہیں والدین کو اُف تک کہنے کی بھی ممانعت فرمائی۔ آج کی اولاد کی طرف نظر دوڑائیں ، استغفراللہ ، جھڑکنا تو دور کی بات ، سرعام مار رہے ہوتے ہیں۔ ان جاہلوں کو یہ پتہ نہیں کہ وہ جیتے جی دوذخ خرید رہے ہیں۔ آج وہی جاہل بیٹا اُسی ماں کو مار رہا ہے جنہوں نے خدا سے منتیں مان کر اسے مانگا تھا۔ جس کو نو ماہ جسم کے اند ر رکھنے سے لے کر جوان ہونے تک ، خود مصیبتیں سہہ کر ہر تکلیف سے بچا کر رکھا تھا۔ اسی باپ کے سامنے بدتمیزی پہ اتر آیا ہے جس نے اپنا بیٹ کاٹ کے تیری پرور ش کی تھی۔
ایک شخص حضورﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کیا، اولاد پر والدین کا کیا حق ہے؟ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا، والدین تمہارے لیے جنت بھی ہیں اور دوزخ بھی۔
مکرمی! ماں ایک ایسا ہیرا ہے جو کبھی خریدنے سے بھی حاصل نہیں ہوتا۔ ماں کا غصہ وقتی ہوتا ہے جو فوراََ ضائع ہو جاتا ہے۔ ماں باپ ڈانٹتے ہیں یا مارتے ہیں تو وہ سب کچھ ہماری بہتری کے لیے ہوتا ہے۔ والدین کو پیا ر سے دیکھنا بھی عبادت ہے۔ اللہ نے تو ماں کے قدموں تلے جنت رکھ دی ہے۔ ہم کتنے خوش نصیب امتی ہیں کہ والدین کی خدمت کرکے جنت حاصل کرسکتے ہیں۔ چنانچہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے والدین کی عزت و تکریم کریں۔ اور ان کی نافرمانی جیسے گناہ سے بچیں۔ اللہ کے رسولﷺ نے ارشاد فرمایا، ’’ والدین کے نافرمان کو اللہ جیتے جی سزا دیتا ہے‘‘۔ ہمارے لیے ماں باپ ایک شجرِسایہ دار ہیں جس کی ٹھنڈی چھاؤں تلے ہم ہر قسم کی تپش سے محفوظ رہتے ہیں۔ والدین ایک حقیقی سرمایہ ہیں۔

Short URL: http://tinyurl.com/hruqjnv
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *