لا ہور کا قدیمی مقبرہ شیخ محترم نقشبندی ؒ جو اپنی پہچان کھو چکا

TOMB OF SHIEKH MOHTRAM NAQSHBANDI (2)
Print Friendly, PDF & Email

تحریر: سید فیضان عباس نقوی

سر زمین لاہور زمانہ قدیم سے ہی بزرگان دین اور اولیا ء کرام کا مسکن رہی ہے جہاں مختلف ادوار میں بڑی بڑی بزرگ ہستیاں یہاں وارد ہوئیں اور دین خدا کی تبلیغ کے ساتھ ساتھ یہاں کے لوگوں کو رشد و ہدایت فراہم کیں۔ان میں ایک نام شیخ محترم نقشبندی کا بھی ہے۔جن کا مقبرہ موجود تو ہے لیکن اپنی پہچان کھو چکا ہے۔
یہ تاریخی مقبرہ لاہو رکے علاقے گڑھی شاہو سے سوامی نگر جانے کے لئے ریلوے پل سے گذریں تو پل کے اختتام پر جی ٹی روڈ پر واقع شازو لیبارٹری کی ہاوسنگ سکیم کے اندر واقع ہے۔ یہ مقبرہ اب مسجد میں تبدیل ہو چکا ہے باہری شکل خاصی بدل چکی ہے۔یہ مقبرہ حضرت شیخ محترم نقشبندی کا ہے۔ جو کہ سلسلہ نقشبندیہ کے عظیم بزرگ، عبادت گذار، متقی اور خدا پرست انسان تھے۔ شہنشاہ اکبر کے زمانے میں لاہور تشریف لائے۔ بے شمار لوگوں کو راہ ہدایت بخشی اور رشد و ہدایت کا سلسلہ جاری کیا۔ ہزاروں طلباء کو علوم دینی سے سرفراز کیا۔ شہنشاہ عالمگیر کے زمانے1690 ء میں لاہور میں وفات پائی۔اس وقت خان جہاں بہادر ظفر جنگ کوکلتاش لاہور کا گورنر تھا۔ صوبہ دار لاہور کے حکم سے ان کا شاندار مزار تعمیر ہوا۔
1867 ء میں لکھی گئی مولوی نور احمد چشتی کی کتاب تحقیقات چشتی کے صفحہ نمبر 912 پر اس مقبرے کے متعلق لکھا ہے کہ ”یہ روضہ بدھو کے آوے کے غرب رویہ گوشہ شمال میں واقع ہے۔صورت مقبرہ مربع، متصل لب بام گردنہ، خشتی چونہ گچ، خط کشیدہ، اوپر چاروں گوشوں کے چار چار برجیاں۔درمیان گنبد عالیشان چونہ گچ اب برنگ سیا ہ کھڑا ہے۔ اندر تین قبریں دو سالم پختہ جو شرق کی طرف ہے بوسیدہ مقبرے کے ہر پہلو میں یہ صورت ہے کہ دونوں بغلوں میں محراب گلکاری اور بیچ میں درواز ہ آمد ررفت اس حساب سے چار دروازے اور آٹھ محرابیں ہوئیں۔ متصل زمین سے یہ مقبرہ بوسیدہ بلکہ شکستہ ہوا چلا ہے۔زیر محراب کئی اشعار فارسی و عربی تھے جو پڑھے نہیں جاتے۔“

اسی طرح اس مقبرے کی قدامت کے بارے میں کنیہا لال ہندی اپنی کتاب تاریخ لاہور کے صفحہ نمبر 300 پر تحریر کرتے ہیں کہ” قدیم زمانوں کے بزرگوں میں سے یہ بزرگ عابد، زاہد، متقی اور خدا پرست تھا نقشبندیہ سلسلے میں اس کی ارادت تھی۔ مدت مدید سے لاہور میں رہا۔1102 ہجری میں فوت ہوا۔یہ متبرک مقبرہ اسٹیشن ریلوے کے متعلق کوٹھیوں کے انجام پر گوشہ ایشاں اور بدھو کے پزادے سے جانب غرب واقع ہے۔شالامار باغ کو جاتی سڑک سے بہ جانب شمال کی طرف۔صورت مقبرہ کی یہ ہے کہ پختہ چونہ گچ، سقف خشتی ہے چاروں گوشوں پر چار گنبدیاں مربع چاروں طرف چار محرابی در قالبوتی درمیاں ان کے مقبرے کا گنبد عالی نہایت خوبصورت بنا ہوا ہے۔مقبرے کے اندر تین قبریں ہیں ایک شیخ محترم کی دوسری شاید ان کے فرزندان کی بنی ہیں۔مقبرے کی اندرونی عمارت میں چار محرابیں چاروں گوشوں میں بنائی گئیں ہیں۔دیواروں پر خط عربی اور فارسی اشعار لکھے ہیں جو پڑھے نہیں جاتے۔“اس مقبر ے کی حالت کے بارے میں جج سید محمد لطیف اپنی کتاب تاریخ لاہو ر میں صفحہ نمبر 203 پر رقم طراز ہیں۔ ”یہ مقبرہ بدھو کے آوے کے مغرب اور شالامار جاتی سڑ ک کے شمال میں ریلوے کی بیرکوں کی اختتام پر واقع ہے۔یہ چوکور شکل میں ہے۔اس کے اوپر ایک گنبد اور چارو ں کونوں پر مینار ہیں۔گنبد کے نیچے ایک قبر شیخ محترم اور دوان کی عزیزوں کی ہیں۔ بیرونی دیواروں پر بہت سے عربی و فارسی اشعارلکھے تھے جن میں سے یہی سمجھ آتے ہیں۔

ہادی سالکان راہ نجات
آن سلیمان دل و خرد آصف
قطب حق شاہ محترم ز جہاں
رفت در بزم اولیائے سلف
سال تاریخ رحلتش جستم
گفت طبع سلیم نیک حلف
نیچ بر چمن زنخل و فق و بگو
قدس اللہ سرہ الاشرف
کتبہ۔محمد اکرام
ترجمہ: راہ نجات کے سالکوں کے ہادی جو سلیمانؑ کا دل اور آصف جیسی عقل رکھتے تھے۔اللہ کے بزرگ شاہ محترم اس دنیا سے رخصت ہو کر بزم اولیاء میں تشریف لے گئے ہیں۔جب میں نے ان کی تاریخ وفات تلاش کی تو عقل سلیم نے کہ ان جملوں سے پانچ کو منہا کر لو اور کہو کہ خدایا انہیں جنت الفردوس میں داخل فرما۔تحریر کردہ محمد اکرم

اس عبارت کے مطابق شیخ محترم کی تاریخ 1690 کی ہے جو کہ اورنگ زیب کا دور حکومت بنتا ہے۔۔مقبرے کے ارد گرد نارتھ ویسٹرن ریلوے کوپراٹیو سٹور ایسویسی ایشن، اسلحہ، ہتھیاروں کے ڈیلر، شراب و سپرٹ کے لائسینس یافتہ تھوک و پرچون کے لئے سوڈا واٹر تیار کیا جاتا ہے۔“
الیاس عادل کی لکھی اولیائے لاہور صفحہ نمبر 306 اور علامہ عالم فقری کی کتاب تذکرہ اولیائے لاہور میں بھی یہی حالات و واقعات بیان کئے ہیں۔ اس کے علاوہ صوفی محمدعبد الستار طاہر مسعودی کی کتاب لاہور کے اولیائے نقسبندیہ میں مصنف نے علامہ عالم فقری کا ہی پورا مضمون اپنی کتاب کا حصہ بنایا ہے۔ البتہ مفتی غلام سرور لاہوری نے یہ قطعہ تاریخ اندراج کیا ہے۔جو پہلے کسی کتاب میں درج نہیں۔
شہ محترم شیخ دور زمان
کہ دانش سر بسر محرم
بتاریخ ترحیل آن شیخ دین
بگو سالک نامور محترم

حضرت شیخ محترم کا تعلق سلسلہ نقشبندیہ کے بڑے مشائخ میں ہوتا تھا۔ آپ بڑے نیک اور صالح انسان تھے۔ بے شمار لوگ آپ کے مرید بنے آپ نے اپنے پاس بیٹھنے والوں کو ہمیشہ شریعت کے احکامات کی پابندی کا حکم دیا۔ آپ کی آخری عمر تک کئی لاہور کے امراء اور متمول افراد آپ کے حلقہ عقیدت میں شامل ہو گئے تھے۔ ان میں لاہور کا صوبے دار خان جہاں بہادر مرزا ظفر جنگ کوکلتاش بھی تھا۔ آپ نے عہد عالمگیری میں 1690 ء میں وفات پائی اور لاہور کے صوبے دار کے حکم سے آپ کا مقبرہ شاندار تعمیر کیا گیا۔ مقبرے کی عمارت نہایت شاندار بلند گنبد دارہے۔چاروں اطراف میں محرابیں ہیں جس پر عمارت قائم ہے۔ چار محرابی دروازے ہیں۔دیواروں پر فارسی اور عربی میں عبارت بھی تحریر کی گئی تھی۔ س کے اندر تین قبریں تھیں۔ درمیان میں شیخ محترم نقشبندی کی جبکہ دیگر دو ان کے بیٹوں کی تھیں جن کے نام درج نہ تھے۔ سکھوں کے دور میں یہ علاقہ خالی ہو گیا۔جس کے باعثاس مقبرے کو بہت نقصان پہنچا۔ان کے شاگردان اور متوسلان بھی اس علاقے کو خالی کر گئے سے کی باعث مقبرہ لاوارث ہو کر رہ گیا۔ انگریز دور میں اس کا کوئی والی وارث نہیں تھا اس عمارت کو سرکاری اعداد و شمار میں لاوارث پراپرٹی کے طور پر درج کر لیا گیا۔اس لا وارث جگہ کی نیلامی کی گئی۔اس نیلامی میں یہ مقبرہ اور اس سے ملحق جگہ بھی فروخت ہو گئی جسے ایک انگریز نے خرید لیا۔ اس نے اس مقبرے کو ذاتی رہائش گاہ بنا لیا اور اس کے اطراف میں برآمدہ تعمیر کر لیا اور اندر کی تینوں قبروں کو مسمار کر دیا۔ کچھ عرصے بعد اس انگریز نے اس کو خالی کر دیا اور یہ مقبرہ محکمہ مال کو بیچ گیا جس سے محکمہ ریلوے نے یہ مقبرہ خرید لیا۔لاہور میں اسلحہ، شراب،اسپرٹ بنانے کے لئے لائسینس یافتہ افراد کے لئے ریلوے کواپرٹیو سٹور نے اس عمارت میں سوڈا بنانے کی فیکٹری کھول لی۔ قیام پاکستان کے بعد یہ مقبرہ خالی پڑا رہا اور سوامی نگر کے قریب بننے والی شاذو لیبارٹری کی ہاوسنگ سکیم کے اندر آگیا لیکن قبریں نہ ہونے کے باعث کسی کو معلوم نہ تھاکہ یہ مقبر ہ کس کا ہے؟

smart

اس مقبرے کے بارے میں پہلے پہل لاہور کے عظیم محقق راؤ جاوید اقبال مرحوم نے بتایا تھا کہ مغل دور کے بہت بڑے بزرگ ہیں۔ راقم الحروف 2009 میں تیرہ برس پہلے اس مقبرے کو دیکھنے کے لئے اپنے استاد راؤ جاوید اقبال مرحوم کے ساتھ گیا اس موقع پر معروف محقق علی عثمان بیگ بھی ہمراہ تھے انہوں نے اس تاریخی مقبرے کی تصاویر بھی بنائیں تھیں۔اس وقت مقبرہ خالی پڑا تھا حالت کافی خراب تھی۔عمارت کے گنبد کے اندر کچھ اینٹیں، مٹی اور کچھ ریت کی ڈھیریاں کچھ کچرا پڑا ہوا تھا۔ عمارت شکستہ تھی جس کی دیوروں پر بدصورتی کے ساتھ سفیدی پھیر دی گئی تھی جس سے دیواروں پر تمام نقش و نگار اور عربی فارسی عمارتیں مٹ چکی تھیں۔عمارت خاصی خراب ہو چکی تھی۔مقبرے میں داخل ہونے کے لئے ایک جانب ایک محراب میں لکڑی کا چھوٹا سا دروازہ لگایا گیا تھا۔ جبکہ باقی محرابی دروازوں کی نشاندہی نہیں ہوتی تھی۔ اس مقبرے کے آس پاس گھروں کی تعمیر جاری تھی کچھ گھر آباد ہو چکے تھے لیکن ان میں سے کسی کو بھی اس بارے میں معلوم نہ تھا۔ پھر کچھ سال بعد جانا ہوا تو مقبرہ کافی صاف کیا گیا تھا جبکہ عمارت کے اندر کچھ صفیں بچھائی گئیں تھیں۔جس سے معلوم ہوتا تھا اس کے اندرنماز ادا کی جاتی ہے۔ مقبرے کی دیوار پر لکڑی کا بورڈ لٹکا ہوا تھا جس پر میاں غلام قادر مسجد، شازو ہاوسنگ کالونی جی ٹی روڈ لاہور لکھا ہوا تھا۔ اب کچھ سال قبل اس مقبرے کو ایک خوبصورت مسجد میں بدل دیا گیا۔ پرانی گنبد دار عمارت کے اطراف میں جدید عمارت تعمیر کی گئی ہے۔ مسجد کے تعمیر کے لئے گنبد کے ارد گرد نئی دیواریں تعمیر ہوئیں کہ گنبد کی عمارت درمیان میں آگئی۔ ایک نظر دیکھنے والے کو اس کی قدامت کا بالکل معلوم نہیں ہوتا لیکن چند منٹ اگر گنبد کو دیکھے تو جدید چمکتی دمکتی مسجد کی عمارت میں گنبد کی قدامت یا شکستگی سے ظاہر ہوتا ہے دونو ں میں جوڑ نہیں بنتا۔ گنبد پر تیز سبز رنگ کیا گیا ہے۔ جبکہ ارد گرد مسجد کی نئی عمارت بن چکی ہے۔جس کا نام جامع مسجد غوثیہ قادریہ میاں غلام قادر رکھا گیا ہے۔مسجد کا تعلق اہل سنت و جماعت بریلوی سے ہے۔ لاہور کا یہ تاریخی اور قدیمی مقبرہ بطور مسجد استعمال ہو رہا ہے جہاں علاقے کے لوگ نماز ادا کرتے ہیں۔ ہاوسنگ سکیم یا مسجد انتظامیہ یا متعلقہ محکمہ کو چاہئے کہ کم از اس تاریخی یادگار کو محفوظ بنانے کے لئے کم از کم اس مسجد کو حضرت شیخ محترم نقشبندی کے نام سے منسوب کیا جائے تاکہ یہ تاریخی عمارت جو ہم میں باقی ہے اس کی اصل شناخت باقی رہ سکے۔

Short URL: https://tinyurl.com/2qnulne5
QR Code:


One Response to لا ہور کا قدیمی مقبرہ شیخ محترم نقشبندی ؒ جو اپنی پہچان کھو چکا

  1. طاہر نثار says:

    بسم اللہ الرحمن الرحیم.
    ما شاء اللہ. اتنا تفصیلی اور تحقیقی تعارفی مضمون . جزاک اللہ خیرا فی الدنیا و الاخرۃ.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *