بریکنگ نیوز

تذکرہ کاتب وحی ونجوم ہدایت

Ashfaq Ahmad Janjoa

Loading

تحریر: اشفاق احمد جنجوعہ
ابو بکر ، عمر ، عثمان و علی کو ہم اپنی جان کا سلام لکھیں گے
کتاب دل کے ہر ورق پرہم اپنے حسن و حسین کی شان لکھیں گے
فرمان رسول اللہ ﷺہے کہ میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں ،ان میں سے جس کی پیروی کرو گے ہدایت پاجاؤ گے۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے حالات زندگی کچھ اس طر ح سے ہیں ( نام و نسب ) کنیت ابو عبد الرحمن نام معاویہ رضی اللہ عنہ بن ابو سفیان رضی اللہ رعنہ بن صخر بن حرب بن عبد شمس بن عبد مناف قریشی۔ آپ رضی اللہ عنہ کا سلسلہء نسب پانچویں پشت میں حضور اکرم سے ملتاتھا۔ 
(حلیہ مبارکہ) سروقد ، لحیم وشحیم، رنگ گورا، چہرہ کتابی ،آنکھیں موٹی گھنی داڑھی، وضع قطع، چال ڈھال میں بظاہر شا ن وشوکت اورتمکنت مگر مزاج اور طبیعت میں زہد وتواضع، فرونتی، حلم برد باری اور چہرہ سے ذہانت اور فطانت مترشح تھی۔
(پیدائش ) حضور اکرم ﷺکی بعثت سے تقریباً 5سال قبل پیدا ہوئے۔ سال میں اختلاف ہے بعض رویات کے مطابق سن 602۔603اور 608عیسوی ہے۔اسلام قبول کرنے سے پہلے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سردار قریش ابوسفیان کے صاحبزادے تھے ، آپ رضی اللہ عنہ کا شمار قریش کے ان 17ِ افرا دمیں ہوتا تھا جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب اپنے اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا تو حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں مبارکبا د دی اور ”مرحباکہا ”(البدایہ والنہایہ (نسبی تعلقات)۔
آپ رضی اللہ عنہ کے خاندان کا خاندانِ نبوت سے بنو ہاشم سے بہت گہرا تعلق ہے۔ امام ابن عساکر نے “تاریخ مدینہ دمشق” میں لکھا ہے کہ حضرت معاویہ کی ہمشیرہ سیدہ رملہ(ام حبیبہ) بنت ابو سفیان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ ہیں۔ابو جعفر بغدادی نے”کتاب المحبر”میں لکھا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم زلف تھے۔ ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی بہن قریبہ صغریٰ حضرت امیر معاویہ کے نکاح میں تھیں۔مصعب زبیری نے” نسب قریش “میں لکھا ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی خوشدامن (ساس )سیدہ میمونہ حضرت امیر معاویہ کی ہمشیرہ ہیں اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے فرزند شہید کربلا حضرت علی اکبر کی والدہ لیلیٰ بنت مرہ انہی میمونہ کی بیٹی ہیں۔اس کے علاوہ بھی علمائے انساب نے کئی تعلقات بیان کیے ہیں۔
فضائل امیر معاویہ رضی اللہ عنہ
ایک روایت میں ہے کہ حضو ر اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاں حضرت ابوبکر صدیق رضی عنہ اور حضرت فاروق اعظم رضی عنہ کو کسی کام کے مشورے کے لئے طلب فرمایا مگر دونوں حضرات کوئی مشورہ نہ دے سکے تو آپ نے فرمایا یعنی معاویہ رضی عنہ کو بلاؤ اور معاملہ کو ان کے سامنے رکھو کیونکہ وہ قوی اور امین ہے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن معاویہ رضی عنہ کو اٹھائے گا تو ان پرنور کی چادر ہوگی۔میری امت میں سے معاویہ رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ بردبار ہے۔اے اللہ معاویہ رضی اللہ عنہ کو علم سے بھر دے۔اے معاویہ رضی عنہ تمہارے سپرد امارت کی جائے تو تم اس سے ڈرتے رہنا۔میری امت کا سب سے بڑا لشکر جو بحری لڑائیوں کا آغاز کرے گا اس پر جنت واجب ہے۔ 
ابن اثیر اور تمام تاریخوں کے مطابق حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی عنہ واحد شخص ہیں جنہوں نے سب سے پہلے بحری بیڑے کا آغاز کیا اور مسلمان قوم سب سے پہلی مرتبہ بحری جہاد سے سرفراز ہوئی۔حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضورﷺکے بعد حضورسے زیادہ سے زیادہ مشابہت رکھنے والی نماز پڑھانے والا امیر معاویہؓ کے سوا کوئی نہیں دیکھا۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ حضور ﷺکے سامنے بیٹھ کر لکھا کرتے تھے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا معاویہ میں تم سے ہوں اور تم مجھ سے ہو (لسان المیزان)۔
لوگوں کو خبر دی جائے کہ امیر معاویہ جنتی ہیں (بحوالہ طبرانی)حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بارہ خلفاء میں شامل ہیں جن کی بشارت رسول کریم نے دی (تطہیر الجنان ص 15)خود امیر معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ وضو کرو جب ہم وضو کرچکے تو آپ نے فرمایا اے معاویہ! اگر تو خلیفہ بنایا جائے تو اللہ تعالیٰ سے ڈرنا عدل کرنا (تطہیر الجنان)رسول کریم ﷺنے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو نصیحت فرمائی‘،اے معاویہ جب تو ملک کا والی ہوجائے تو رعایا سے حسن سلوک کرنا (تطہیر علی العواصم ص208)حضرت شاہ ولی اللہ رحمتہ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ رسول کریم ﷺنے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو ہدایت یافتہ اور ذریعہ ہدایت فرمایا اس لئے کہ انہوں نے مسلمانوں کا خلیفہ بننا تھا اور نبی امت پر شفیق ہے۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور رسول خدا ﷺکی ملاقات جنت کے دروازہ پر ہوگی (لسان المیزان ص 25)۔حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر جبرئیل امین علیہ السلام نے سلام بھیجا (البدایہ والنہایہ)۔سیدنا امیر معاویہ کے بارے میں جبرئیل امین نے خیر کی وصیت کی (البدایہ والنہایہ)۔معاویہؓ کے لشکر کو بشارت جنت خود رسول خدا نے دی (مجمع الزوائد، ج 9 ص 357)۔
یوم وفات22رجب المرجب 60ھ میں کاتب وحی، جلیل القدر صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، فاتح شام و قبرص اور 19سال تک 64 لاکھ مربع میل پر حکمرانی کرنے والے حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ 78 سال کی عمر میں وفات پاگئے۔ حضرت ضحاک بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور دمشق کے باب الصغیر میں دفن کئے گئے۔(وصیت) رسول اللہ کے کرتا مبارک کا کفن پہنایا جائے اور آپ کے ناخن مبارک اور موئے مبارک کو منہ اور آنکھوں پر رکھ دیا جائے ان کی طفیل خدا مجھے بخش دے۔

اپنا تبصرہ لکھیں