مشابہتِ کفار ہلاکت ہے

Awais Khalid
Print Friendly, PDF & Email

تحریر:اویس خالد

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور اس ضابطہ حیات میں کسی اور تہذیب و تمدن،روایات و رسومات اور ثقافت و کلچر کی مداخلت و ملاوٹ کی نہ توکوئی گنجایش ہے،نہ حاجت ہے اور نہ ہی اجازت ہے۔اسلام ہمیں دو ٹوک الفاظ میں اغیار و کفار کی مشابہت سے منع کرتا ہے۔مگر بڑے افسوس کی بات ہے کہ آج ہم کم و بیش اپنا سب کچھ یہود و ہنودو نصاریٰ کے مشابہ کر چکے ہیں۔ان کی بے تُکی اور بیہودہ تہذیب کو نا صرف بری طرح اپنا چکے ہیں بلکہ اس کے ہی دلدادہ بھی نظر آتے ہیں۔اب حال یہ ہے کہ ایک طرف تو ہم اسلامی شعار و تہوارو ایام پر تنقیدی نقطہ نگاہ رکھتے ہیں،بے جا بحث کرتے ہیں اور دلیلیں طلب کرتے ہیں اور فتوے لگانے سے بھی گریز نہیں کرتے جبکہ دوسری طرف مغربی تہذیب کی طرف مکمل ذہنی جھکاؤ رکھتے ہیں اور ان کی طرف سے دیے گئے تہوار و ایام کو بغیر کسی چون و چندتسلیم کر کے مناتے ہیں۔فادر ڈے،مدر ڈے اور ٹیچر ڈے وغیرہ کے چکر میں الجھا کر کتنی مقدس ہستیوں کے احترام و عظمت کو ایک دن میں قید کر دیا گیا۔بقول راقم
الجھ گئی ہے  ہزاروں  خرافات  میں  قوم
بسنت،بہار ہے کہیں تو کہیں  یوم بہارہے
کون سا دن ہے جو اب مناتے نہیں ہیں ہم
کیا اچھا  ہو  جو  رکھ لیں  یوم  استغفار بھی
اسی طرح اب ہماری پوری قوم جنوری سے نیا سال مناتی ہے جبکہ اس میں کسی برہان و دلیل کی ضرورت نہیں کہ ہمارا نیا سال محرم الحرام کے مقدس مہینے سے شروع ہوتا ہے۔جو لوگ انگریزی مہینوں سے آغاز کی تائید میں یہ کہتے ہیں کہ ہم ہر کام ہی انہی تاریخوں کے مطابق کرتے ہیں تو ان سے سادہ سی گذارش ہے کہ یہی تو سازش ہے اور ہماری غفلت ہے کہ ہم اپنے اسلامی سال کی تاریخیں کیوں یاد نہیں رکھتے۔آخر رمضان المبارک اور عیدین بھی تو اسلامی تاریخ کے مطابق گذارتے ہیں تو باقی ایام کیوں نہیں۔خیر پہلے تو بات صرف نئے سال کی مبارکباد تک محدود تھی مگر اب تو نیو ایر نائیٹ کے نام پر رات 12بجے کا انتظار کیا جاتا ہے۔کسی بھی نعمت کے ملنے پر یا نئی چیز کے آغاز پر پروردگار کا شکر ادا کیا جاتا ہے اور دعائیں کی جاتی ہیں جیسے مجمع الزوائد و منبع و فوائد میں نئے سال کی دعا حدیث میں منقول ہے اور صحابہؓ یہ دعا سکھاتے تھے کہ “اے اللہ! اس کو ہمارے اوپر امن،ایمان،سلامتی اور اسلام کے ساتھ،رحمن کی رضامندی اورشیطان سے بچاؤ کے ساتھ داخل فرما۔آمین”۔اسلامی تاریخ کا آغازبھی بعد از مغرب ہوتا ہے جبکہ یہاں رات 12 بجتے ہی یہود و نصاریٰ کی طرح گھنٹیاں بجائی جاتی ہیں،آتش بازی کی جاتی ہے،ہلڑ بازی ہوتی ہے،رقص و سرود کی مخلوط محفلوں میں دامن پھٹتے ہیں،دستاریں اچھلتی ہیں،حیا شرماتی ہے اور عزتیں پامال ہوتی ہیں۔ہمارے نبی پاکؐ نے موقع بہ موقع غیر مسلموں کی مشابہت سے سختی سے منع فرمایا ہے۔حتیٰ کہ اس امتیاز کو قائم رکھنے کے لیے ظاہری علامت  جیسے ڈاڑھی اور لباس کا بھی انداز مقرر فرمایا۔ڈاڑھی و ختنہ کو فارق بنایا۔سورۃ مائدہ آیت 51 میں ہے کہ”جو کوئی یہود و نصاریٰ سے دوستی رکھے وہ انہی میں سے ہے”۔آپؐ نے تو عاشورہ کے موقع پر ساتھ ایک روزہ اور ملانے کی تلقین فرمائی تا کہ یہودیوں سے مشابہت نہ ہو جائے بحوالہ بخاری4737:۔آپؐ نے فرمایا کہ ہم میں اور مشرکین میں فرق ٹوپیوں پر عمامہ باندھنا ہے(ابو داؤد)۔اسی طرح آپؐ کا فرمان ہے کہ”وہ شخص ہم میں سے نہیں جو ہمارے غیروں سے مشابہت رکھے”۔(ترمذی2695:)۔ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول پاکؐ نے فرمایا کہ “ڈاڑھیاں بڑھاؤ،مونچھیں کٹواؤ اور اپنے سفید بالوں کو (خضاب سے) تبدیل کرو اور اس طرح یہود و نصاریٰ کی مشابہت اختیار نہ کرو”۔(مسند احمد8190:)۔صھابہ اکرامؓ تو کھانے کے حوالے سے بھی کفار کی مشابہت سے بچا کرتے تھے۔حضرت ابو عثمان النہدی فرماتے ہیں کہ عتبہ بن فرقد کے ساتھ آذر بائیجان میں تھے کہ حضرت عمرؓ کا خط مبارک آیا جس میں باقی ہدایات کے ساتھ یہ خصوصی ہدایت تھی کہ تم اپنے آپ کو اہل شرک اور اہل کفر کے لباس اور ہییت سے دور رکھنا۔بلکہ سیدنا فاروق اعظمؓ نے توکفار کی مشابہت سے بچنے کا یوں بھی اہتمام فرمایا کہ انھوں نے اپنے دور خلافت میں مشرکین پر پابندی عائد کر دی تھی کہ انہیں مسلمانوں کی مشابہت اختیار کرنے کی اجازت نہیں ہے۔فتح شام کے موقع پر نصاریٰ کے عہد صلح کے بعد شرائط میں یہ باتیں شامل تھیں کہ نصاریٰ کسی امر میں مسلمانوں کی مشابہت اختیار نہیں کر یں گے۔مسلمانوں کا سا لباس،عمامہ اورجوتے نہیں پہنیں گے۔سر کی مانگ مسلمانوں کی طرح نہیں نکالیں گے۔مسلمانوں جیسا کلام نہیں کریں گے۔مسلمانوں کے نام و کنیت نہیں رکھیں گے۔مسلمانوں جیسے ہتھیار نہیں بنائیں گے۔حتیٰ کہ اپنی مہروں پر مسلمانوں کی زبان عربی کندہ نہیں کرائیں گے۔یہ سب احکامات ہم مسلمانوں کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہیں کہ ہم کس ڈگر پر چل نکلے ہیں۔کیسی روش اپنا بیٹھے ہیں اور کفار کی مشابہت اختیار کرنے کے مسئلے کو کتنا عام سمجھ بیٹھے ہیں۔بلکہ نقل کرتے کرتے ان کافروں سے بھی دو ہاتھ شاید آگے نکل گئے ہیں۔حضرت اقبال نے قریباً سو سال پہلے انہی حالات کو ملاحظہ کرتے ہوئے کہا تھا
شور ہے،ہو گئے دنیا سے مسلماں نابود
ہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجود
وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود
پروردگار ہمیں معاف فرمائے،احساس زیاں کاشعورعطا فرمائے اور قوم مسلم کو ان کا کھویا ہوا وقاردوبارہ حاصل کرنے کا راستہ عطا فرمائے۔آمین

Short URL: https://tinyurl.com/2e4zhjvr
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *