جناب ڈی پی او لودھراں صاحب! ذرا اک نظر ادھر بھی، ہم بھی رعایا ہیں آپ کی

Ch Husnain Sundhoo
Print Friendly, PDF & Email

تحریر: چوہدری حسنین سندھو
محترم جناب ملک جمیل ظفر صاحب ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ضلع لودھراں آپ بلاشبہ ضلع لودھراں کی لاکھوں افراد پر مشتمل آبادی کے لیے مسیحا ہیں اور ان کی امیدوں کا محور ہیں ۔ راقم کے ضلع لودھراں کی مظلوم عوام آپ کو ظالموں، لٹیروں کے شر سے محفوظ رکھنے کے لیے مسیحا کے روپ میں دیکھتی ہے ۔ آپ نے سینکڑوں طورِ خم ،سریا اکڑی گردنوں والے سنگین مقدمات میں ملوث ملزمان کو نہ صرف گھٹنے ٹیکنے پرمجبور کیا بلکہ ان کو پابند سلاسل بھی کیا۔ عوام آپ کے اس مشن ”پولیس کا ہے فرض مدد آپ کی “ کے حقیقی جذبے کو سراہتی ہے اور قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے ۔ لیکن بد قسمتی سے محکمے کی کچھ کالی بھیڑیںسو سال نالی میں پڑی رہ کر بھی نہ سیدھی ہونے والی دم کی طرح ہیں جن کو کسی بات کا کوئی خوف نہیں ہوتا۔ انہیں صرف پیسہ عزیز ہے اوریہ پیسہ کہاں سے آیا، آیا کہ کس نے اس کو ادا کر کے ان کی جیبیں بھرنے کے لیے کس قدر ”کشٹ©©©“ اٹھائے ، انہیں اس کی کوئی پرواہ نہیں ان کی انہیں غلیظ حرکتوں کی وجہ سے محکمہ پولیس کے غازیوں اور شہداءافسران کے دامن بھی اکثر اوقات داغدار ہوتے ہیں ۔ راقم الحروف ایسے ہی ایک بد عنوان، بد کردار ، کرپٹ اور رشوت خور اور کچھ ایسے القابات جن کو صحافتی اقدار کے سبب تحریر میں لانے سے قاصر ہے لیکن القابات کا درست حقدار تھانہ سٹی دنیاپور میں تعینات SHOمرزا رحمت علی ہے جس کے چندکارنامے آپ کے نوٹس میں لانا چاہتا ہوں ۔ انصاف کی پہلی سیڑھی تھانہ سٹی دنیاپور میں قدم رکھتے ہی عام سائل کو چاہے وہ ڈکیتوں، راہگیروں، راہزنوں یا کسی بھی ظالم کے ظلم کا شکار ہو ایس ایچ او تک رسائی نا ممکن ہے کیونکہ ایس ایچ او تک رسائی کا دروازہ انہیں معلوم ہی نہیںجس دروازے سے گزر کر مرزا رحمت علی سے ہنس کر ، بغل گیر ہو کر اپنے کام کروائے جا سکتے ہیں وہ دروازہ ٹاﺅٹ مافیا کا دروازہ ہے جس سے گزرنے والے ہر سائل کو اس کے کام کی نوعیت کے اعتبار سے قیمت چکانا پڑتی ہے ۔ مذکورہ ایس ایچ او نے ہر وہ کام جس سے پیسہ آئے اس کے لیے ٹاﺅٹ ایجنٹ رکھے ہوئے ہیں ۔ منشیات کا زہر دنیاپور کے بچوں اور نوجوان نسل کی رگوں میں سرایت کیا جا رہا ہے ۔ سرعام چرس و شراب فروخت ہو رہی ہے ۔ کارکردگی دکھانے کے لیے ہزاروں لیٹر اور گرام منشیات پکڑی جاتی ہے جن کی برآمدگی چند گرام یا چند لیٹر ڈال دی جاتی ہے اور 9Cکے پرچے 9Bیا اس سے بھی چھوٹے دفعات میں تبدیل کر دیے جاتے ہیں ۔برائی کے اڈے آبادہیں، منتھلیاں لگی ہوئی ہیں، جوے ، قمار بازی ، غیر قانونی پیٹرول ایجنسیاں ، منی پیٹرول پمپ اور پولیس ویریفکیشن کے نام پر لوٹ مار عروج پر ہے ۔لاکھوں میں ڈیل کر کے اشتہاری فرار کر دیے جاتے ہیں ۔ا یس ایچ او کا رویہ سائلین کے ساتھ اس قدر نازیبا ہوتا ہے کہ اکثر و بیشتر سائلین دوبارہ تھانے جانے کی جرات ہی نہیں کرتے ۔ صاحب بہادر ایس ایچ او کی دیدہ دلیری سے رشوت خوری اور کرپشن میں آنجناب کے ہیڈ کوارٹرز کے کچھ ذمہ داران بھی ہیں جن کا باوثوق ذرائع کے مطابق ایس ایچ او کی جانب سے حصہ پہنچ جاتا ہے جن میں ایک OSIبرانچ سر فہرست ہے ۔ جناب والا راقم کے شہر دنیاپور میں سٹریٹ کرائم ریکارڈ حد تک بڑھ گیا ہے ، چوری چکاری عام ہے ، نواحی چکوک میں چوری کے واقعات عام ہیں جبکہ راہزنی سرِ عام ہو رہی ہے ۔ عوام ڈاکوﺅں، لٹیروں اور چوروں کے ہاتھوں لٹنے کے بعدسرکاری لٹیروں کے ہاتھوں سے مزید لٹنے کے خوف سے خاموش ہے ۔ وہ تھانے میں جانے سے اور ٹاﺅٹ مافیا کی جیبیں گرم کرنے سے ڈرتی ہے ۔
جنابِ والا ! کسی رو ز اچانک کسی بہروپ میں تھانہ سٹی دنیاپور کا چکر تو لگا کر دیکھیں ، آپ چکرا جائیں گے ۔ حوالاتی کو کھانا پہنچانے یا اس سے ملاقات کے لیے جانے سے قبل ایس ایچ او کے اکاﺅنٹنٹ محرر کو بھی کچھ نہ کچھ لازمی دینا پڑے گااور سائلین کے ساتھ نرم رویہ سے بات کرنے ،انہیں بٹھا کر ٹھنڈاپانی پلانے کی ہدایت کا عملی نمونہ بھی آشکار ہو جائے گا۔ اگر آپ نے قانون بتانے کی گستاخی کر لی تو کچھ بعید نہیں کہ آپ کا ماتحت عملہ آپ کو ہی حوالات بند کر دے۔ جنابِ والا ! المیہ یہ ہے کہ آنجناب کی ذات ایک ہے اور مسائل و معاملات بے شمار ہیں ایسے میں نمک ہلال کرنے والے ماتحت اہلکاران مِس رپورٹنگ کرتے ہوئے کچھ معاملات سے آپ کو لا علم رکھتے ہیں ۔ دفتر میں بیٹھ کر ان کی اکثر رپورٹیں ایس ایچ او کے ایماءپران کی زیرنگرانی تیار ہوتی ہیں جوکہ اکثر خلاف حقائق مبنی بر گمراہی ہوتی ہیں۔ آپ اکثر مساجد میں لوگوں کے مسائل حل کرتے ہیں، ان کے لیے آسانیاں پیدا فرماتے ہیں ۔ کسی روز اپنا اردل روم کسی مسجد میں لگا کر دیکھیے اور بحیثیت ڈی پی او ضلع لودھراں ملک جمیل ظفر کی بجائے جمیل ظفر عام شہری بن کربنا کسی کو اطلاع دیے تھانے آکر علاقے میں گھوم کر تحریر کردہ تمام باتیں جن میں ہو سکتا ہے کہ کچھ طبیعت کوگراں ہی گزریں کی سچائی معلوم کی جا سکتی ہے ۔ ایس ایچ او کا تبادلہ وقت کی اہم ضرورت ہے ۔
راقم نے متذکرہ بالا معاملات آپ کے نوٹس میں بطریقِ احسن پہنچا دیے ہیں اس امید اور یقین کے ساتھ کہ آپ اس تحریر کی اور غربت کی چکی میں پسی لٹی پٹی عوام کی آہوں ، سسکیوں کی بدولت تھانہ سٹی دنیاپور کی خفیہ انسپکشن ملازمین ، ایس ایچ او اور ریکارڈ کو چیک کرتے ہوئے کاروائی عمل میں لائیں گے اور اپنی سابقہ روایا ت کی طرح تھانہ سٹی دنیاپور کی متعلقہ عوام کو کرپٹ ایس ایچ کی بجائے عوام دوست ایس ایچ او تفویض کریں گے ۔ انشاءاللہ بفضل خدا۔

Short URL: http://tinyurl.com/y3ffdl4a
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *