آزاد سوچ ترقی کی ضامن

Ramzan Gill
Print Friendly, PDF & Email

تحریر: رمضان گِل

سوچنے والے!! موجود نہیں اور نہ موجود ہیں پڑھنے والے اور نہ ہی سامعین جن کو سنایا جا سکے۔ ہر طرف دل کی آنکھوں سے محروم گونگے بہرے بس ایک ہی رٹ لگاتے نظر آتے لوگ ہیں ایسے جیسے بس ٹھیک ہی لگتا ہے! لگتا ہے عقل کے دشمنوں نے سوچنے کی صلاحیت بھی سلب کرنا شروع کر دی ہے اور علم کے دوست کم اور علم جیسے بہت ملیں گے یہ کیوں ہے؟اگر ہیں بھی تو سامنے نہیں اتے اور چھپے ہوئے ہیں کسی خول کے اندر اپنے آپ کو محفوظ کئے ہوئے محسوس کر رہے ہیں سب کچھ ہونے کے باوجود یہ گونگے کیوں ہیں؟ اگر تارخ کے دریچوں میں دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ایسی ہی خاموشی نے بہت سے بہادر اور نڈر لوگوں کو پکا خاموش کرا دیا ہے یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے کچھ نقصان نہیں کیا؟؟ یہ انکی اپنی محدود سوچ ہے ان ہی کی وجہ سیزندگی کے مختلف شعبوں کا شیرازہ بکھر چکا ہے اور بکھرتا رہے گا کیوں یہ کہ گونگے ہیں بہرے ہیں اندھے ہیں پس غور کرنے کی طرف رجوع نہی کرتے”” القرآن”” یہ لوگ کسی بھی شعبہ میں ہوں صرف سوچتے ہیں میرے بچے میری فیملی اورمیرا بنک بیلنس بس انہیں کچھ نہ ہو بس یہی فرسودہ وناکارا سوچ کے مالک لوگ معاشرہ میں عدم استحکام کا سبب بن رہے ہیں اور جو نڈر ہوتے ہیں انکے بازو نہیں بنتے بلکہ مصنوعی عہدوں کے بازووں کی نیچے اپنی عافیت سمجھتے ہیں بس انہی لوگوں کی سوچ کو بدلنا ہوگا۔انکے خیالات کو بدلنا ہوگا انکی آرام پسندی سے انکو باہر نکالنا ہو گا اللہ پاک نے سب انسانوں کو ایک ہی قدرت پر پیدا کیا ہے یہ بھی جرات والے لوگ ہیں انکے اندر کے انسان کو اگر جگا دیا جائے تو پھر یہی لوگ اگر جاگتے ہووں کو سپورٹ کریں تو زمانے میں انقلاب برپا ہوجائے بلکہ ہر شعبہ میں ایک سسٹم کے تحت ترقی نظر ہوتی ہوئی نظر آئے گی۔موجودہ دور میں نفسا نفسی کا عالم بڑھ چکا ہے اپنی اپنی سب کو پڑ چکی ہے سوچنے کی بات یے اللہ پاک نے وسائل کو وسیلوں میں تقسیم کیا ہوا ہے لیکن انسان سمجھتا ہے شائید اسکی اپنی کاوش ہے نہیں بھائی جی ایسا نہیں ہے بلکہ وسائل بانٹنے کے لئے آپ کا اللہ پاک نے چناو کیا ہے پھر اس میں عجلت کیوں؟؟ خاموشی کیوں؟ اندھی تقلید کیوں؟ اندھادھند اعتماد کیوں؟ جیسے کوئی کہے ویسے ٹھیک کیوں!! نا بھائی نا اللہ پاک پھر آپ سے وسائل چھین کر کسی اور کو سونپ دیں گے پھر حسد کی آگ میں جلتے رہنا مجبور ضرورت مندوں کی ہر لحاظ سے خدمت بھی کرنا وسائل بھی تقسیم کرنا پھر دیکھئے اللہ کس طرح آپسے راضی ہوتا ہے پھر آپکے سارے کام اللہ پاک اپنے ذمے لے لے گا پھر آپکو سکون اور امن والی نیند آئے گی دل کو راحت ملے گی اگر کسی مظلوم کا دل دکھا کر سووں گے تو پھر اچھی گھڑی کا امتظار ہی رہے گا نیندیں آڑ جائیں گی ایک وقت آئے گا میڈیسن سے بھی نیند نہی آئے گی خاموشی کے اس سکوت کو توڑ دیجئے آزاد سوچ کے حامل انسان بنئے۔ غور کیجئے!!اگر یہی غلامانہ سوچ کا سلسلہ رہا تو وسیلے اپنے پناہ کے لئے کوئی اور وسیلہ ڈھونڈیں گے تو ان بے وسیلہ لوگوں کا کیا بنے گا؟جو آپکے منظر ہیں خدارا!!اپنے آپ آپ کو پہچانئیے اندھوں کے پیچھے ڈنڈھورا نہ پیٹیں بلکہ اپنی سوچ اور فکر کو استعمال کریں۔پھر زمانے میں آپ گونجیں گے وقتی طور پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے لیکن گھبرائیے مت حق اور سچ بات کا ساتھ دیجئے پھر دیکھئیے آپکے سامنے تبدیلی ہوتی ہوئی نظر آئے گی اگر فرسودہ سوچ اور اندھی تقلید کی روش کو نہ بدلا تو داستانوں میں داستان تک بھی نہیں رہے گی اوراس سکوت والے سماں کو توڑ دیجئے یہی میری اور آپکی زنگی ہے یہی میری آرزو ہے

Short URL: https://tinyurl.com/2nhuqj96
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *