بند نہ باندھا تو بدنامی ہو گی

Imdad Ullah Tayyab
Print Friendly, PDF & Email

تحریر: امداداللہ طیب
دنیا بڑی تیزی کے ساتھ بدل رہی ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے دور میں پوری دنیا اب ایک گلوبل ویلج بن چکی ہے۔ ہزاروں میلوں کے سفرگھنٹوں،منٹوں میں طے ہو رہے ہیں۔ جہاں پہنچنا انسان کا تصور تھا، وہاں حضرت انسان آئی ٹی کی بدولت پہنچ چکا ہے۔ 
ً معلومات کا سمندر صرف ایک کلک پر ہے۔ کمپیوٹر ٹیکنالوجی نے دنیا میں ایک انقلاب برپا کر دیا ہے۔ جس کی بدولت زندگی کے طور طریقے، رہن سہن، مزاج،لہجے تک بدل گئے ہیں۔ انسان بہت زیادہ مشینی اور مادہ پرست ہو گیا ہے۔ لیکن دنیاوی ترقی، زبان، علاقے، لہجوں کی تبدیلی کے ساتھ دنیا میں ادب، اخلاق، عزت اور رومانس کی ڈیمانڈ پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔
جس طرح دلہن میک اپ کے بغیر ادھوری معلوم ہوتی ہے۔ کھانے میں روٹی کے بغیر طلب اور بھوک نہیں مٹتی۔ تمام تر مشروبات کے باوجود اس کی اپنی حیثیت مسلمہ ہے۔اسی طرح آج کے دور میں اخلاقی قدروں کی ضرورت ہر ٹیکنالوجی پر مقدم ہے۔
انسان کی تربیت میں جہاں نصاب کا کردار ہے۔ وہاں معاشرے میں ادب، صحافت، شخصیت بہت کارگر ہے۔ صحافت کیا ہے؟ اس کے کیا اغراض و مقاصد ہیں؟ صحافت کی کتنی اقسام ہیں؟ صحافت کے کتنے شعبے ہیں؟ صحافت کی اہمیت معاشرے سے کسی بھی طرح فراموش نہیں کی جاسکتی۔ ایک اچھا صحافی سینکڑوں، ہزاروں، لاکھوں نہیں، کروڑوں انسانوں کی کردار سازی کرتا ہے۔
صحافی کے لفظ معنی رکھتے ہیں۔ صحافی کی سوچ رائے عامہ کو بدلتی ہے۔ جس کی کئی ایک مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا حسرت موہانیؒ ، مولانا ظفر علی خانؒ ، آغا شورش کاشمیری، اور زمانہ قریب و بعید کی عظیم شخصیات نے عوام کی سوچ کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ 
بالفاظ دیگر صحافت الفاظ کی ایک ایسی طاقت کا نام ہے جو بڑے سے بڑے ظالم کے چھکے چھڑا سکتی ہے۔نپولین نے صحافت کی طاقت سے متاثر ہو کر کہا تھا، میں سو فوجی دستوں کے مقابلے میں ایک اخبار سے زیادہ ڈرتا ہوں۔ جارج ہشتم نے صحافت کی قوت دیکھ کر کہا تھا، میں لندن اخبار ٹائمزسے دریائے ٹیمز کی بجائے زیادہ ڈرتا ہوں۔
23 مئی 1944ء کشمیر کے صحافیوں سے قائد اعظم محمد علی جناح ؒ نے ملاقات کرتے ہوئے فرمایا صحافت ایک عظیم طاقت ہے۔ اور یہ فائدہ بھی پہنچا سکتی ہے اور نقصان بھی۔ iwmپاکستان ایک ادبی فورم ہے۔ جو اپنے ممبران کی عزت و تکریم کے ساتھ صحافت میں نوواردوں کی تربیت کرتی ہے۔ اور نوآموز کالم نگاروں کے لیے مستقبل کی راہیں ہموار کرتی ہے۔ 16 اپریل کو iwm کی جانب سے جامعہ محمدیہ انوارالقرآن اونچہ کلاں ظفروال میں ختم نبوت کورس کے درمیان پہلی سالانہ صحافتی تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں زندگی کے تمام شعبہ جات سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔ اور ورکشاپ کے معزز مہمانان کی قیمتی گفتگو سے سیراب ہوئے۔
ورکشاپ میں نامور کالم نگار محترم جناب صہیب فاروق نے اعلی تعلیم یافتہ اور ان پڑھ صحافی کے معاشرے پر کیا اثرات ہیں؟ اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا۔ اخبار جسے ریاست کا چوتھا ستون سمجھا جاتا ہے۔ اس میں چھپنے والی خبروں کو مثبت اور حقیقی شکل میں پیش کرنا، یہ اس وقت ممکن ہے؟ جب پرنٹ میڈیا، سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ افراد پڑھے لکھے ہونے کے ساتھ ساتھ تعمیری تحقیقی فکر و سوچ کے حامل ہوں۔ 
انہوں نے کہا کہ اسلامک رائٹرز موومنٹ اس طرح کی ورکشاپ کے ذریعے معاشرے میں جہاں صاف ستھری صحافت کی ترویج کر رہی ہے۔ وہیں تعلیم کی افادیت کے لیے ملک بھر میں جہالت کے خاتمے کے لیے جنگ بھی لڑرہی ہے۔اسلامک رائٹرز موومنٹ گوجرانوالہ ڈویژن کے کنونیئر محترم جناب حاجی اشفاق احمد جنجوعہ نے اپنے لیکچر میں کہاکہ صحافت کا معنی خبر دینا ہے ۔خبر کے متعلق قرآن کریم کا یہ اصول ہے کہ جب کوئی تمہارے پاس خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو۔ بنا تحقیق کے خبر کو آگے پھیلا دینا نہ مناسب بات ہے۔ 
انہوں نے رپورٹنگ کے حوالے سے لیکچر دیتے ہوئے کہا صحافی کو رپورٹنگ بڑی احتیاط سے کرنی چاہیئے۔ صحافی غلط رپورٹنگ کرتا ہے تو اس کا ذمہ دار وہ خود ہے۔ بعض دفعہ اس کی غلط رپورٹنگ پر ریاست ایکشن بھی لے سکتی ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ اچھی رپورٹنگ کریں، اور معاشرے میں اچھی رپورٹنگ کو رواج دیں۔
اسلامک رائٹرز موومنٹ پاکستان کے مرکزی جنرل سیکرٹری محترم جناب عبدا لصبور شاکر نے صحافت کی اہمیت، اس کی تاریخ، اور اس کے بارے میں پائے جانے والے نظریات سے طلباء کو تفصیل سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا صحافت کی تاریخ بہت پرانی ہے دنیا میں جب کبھی کسی شخص نے سوچا، اور اپنے خیالات کو دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کی، اسی دن سے صحافت کی بنیاد پڑی۔
صحافت ایک مقدس پیشہ ہے۔ اچھے لوگوں کی صحافت میں انٹری نہ ہونے سے عوام اس کو اچھا نہیں سمجھتے۔ صحافیوں کی کئی قسمیں ہوتی ہیں۔ پہلی قسم تو ان صحافیوں کی ہے جو کام کرنے والے ہوتے ہیں۔ اور دوسری قسم کے صحافی بس نام کے صحافی ہوتے ہیں۔ اور بعض صحافی کام نکلوانے والے ہوتے ہیں۔جو صحافی فیچر لکھتے ہیں ان کو جرنلسٹ کہتے ہیں۔ صحافت چونکہ ابلاغ کا نام ہے۔ 1622ء میں لندن کے ناشروں نے باہمی رابطے کے لیے اخبار شروع کیا۔
معلوم قلمی اخبار اکٹا ڈیورانا سے ہوتے ہوئے چھاپے خانے کی آمد تک آتی ہے۔ برصغیر کے پہلے آڈیٹر جیمز آگٹس ہکی اور برصغیر کے پہلے شہید صحافی مولوی محمد باقر ہیں۔ پہلا مطبوعہ اخبار 1609ء میں جرمنی میں چھپا انگریزی میں پہلا باقاعدہ ہفت روزہ 1609ء میں news جاری کیا گیا۔ فرانس کا پہلا اخبار 1631ء میں اور امریکہ کا پہلا اخبار public occurrenos بوسٹن سے 1680ء میں جاری ہوا۔
پہلا مطبوعہ اخبار 29 جنوری 1780ء کو کلکتہ سے انگریزی زبان میں جاری ہوا۔ جس کے چار صفحات تھے برصغیر میں 1780ء میں سب سے پہلے اخبار شروع ہوا، اس کا نام ہیکی بنگال گزٹ تھا۔ یہ 8 ضرب 12 سائز کا تھا۔اسی سے برصغیر پاک و ہند میں صحافت کی ابتدا ہوئی اس وقت سے آج تک صحافت نے کئی نشیب و فراز دیکھے اور 238 سال کے سفر میں کئی نامور صحافی پیدا ہوئے ۔صحافی کا کام بات عوام تک پہنچانا ہوتا ہے۔ عوام کو سچ بتانا۔رائے عامہ کو ہموار کرنا۔ عوام میں غور و فکر کی صلاحیت پیدا کرنا۔ صحافت سے غلامی اوربادشاہی کی زنجیریں کاٹی جا سکتی ہیں۔ زرد صحافت کی ابتدا انیسویں صدی کے آخر میں نیویارک سے ہوئی، اب یہ وبا پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے۔ جس کے ذمہ دار آزادی صحافت کے علمبردار ہیں۔ 
صحافت کے 32 شعبے ہیں۔ صحافت کے بارے میں پانچ قسم کے نظریات پائے جاتے ہیں۔
نمبر 1 اسلامی نظریہ ابلاغ۔نمبر2 مطلق العنانیت کا نظریہ ابلاغ۔ نظریہ ابلاغ آزاد پسند۔ سماجی ذمہ داری کا نظریہ کیمونسٹ نظریہ ابلاغ یہ نظریہ روس و امریکہ میں رائج ہے۔
سب سے بہتر اسلامی نظریہ ابلاغ ہے جو خبر اور صحافت کے اصول و تحقیق بتاتا ہے۔ ورکشاپ کے آخر میں طلباء سے فیڈ بیک بھی لیا گیا ،پوزیشن ہولڈر طلباء کو انعامی کتب سے نوازا گیا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ علماء اور اچھے لوگ اس میدان میں آئیں اور زرد صحافت کے آگے بندھ باندھیں۔ ماضی قریب میں اردو صحافت کو بلندیوں تک لے جانے میں علماء کا کردار بڑا اہم رہا ہے۔
علماء نے وطن عزیز کو فرنگیوں سے آزاد کروانے میں اپنی تحریروں کے ذریعے قوم کو متحد کیا۔ مولانا محمد علی جوہر ؒ نے کہا تھا میں نے صحافت پیسے کے لیے نہیں بلکہ ملک و ملت کی خدمت کے لیے اختیار کی ہے۔ میں رہنما ہوں رہزن نہیں۔ آج اگر ہم اس میدان میں نہ آئے اور زرد صحافت کے آگے بندھ نہ باندھا۔اس میں اپنا کردار ادا نہ کیا تو بہت بڑی بدنامی ہوگی جس کے ذمہ دار ہم ہوں گے۔
دعوت فکر:۔اسلامک رائٹرزموومنٹ کے شانہ بشانہ آپ بھی کھڑے ہوں وہ وقت دور نہیں جب پاکستان سمیت دنیا بھر کے تمام اسلامی ذہن رکھنے والے صحافی اس پلیٹ فارم کا حصہ ہوں گے ۔ہم خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اسلامک رائٹرزموومنٹ پاکستان کے بانی ومرکزی صدر محترم جناب حفیظ چوہدری صاحب کو جنہوں نے اکابر ین کی سرپرستی میں ہمیں ایک اچھا پلیٹ فارم مہیا کیا ہے ۔

Short URL: http://tinyurl.com/yytzbfdq
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *