بچپن کی عید

Dr. Tariq Masood Khan Niazi
Print Friendly, PDF & Email

تحریر: ڈاکٹر طارق مسعود خان نیازی (سابق ایم۔ ایس بے نظیر بھٹو ہسپتال راولپنڈی )
جب سے ماہ ِ رمضان شروع ہوا ہے اور عید الفطر کی آمد آمد ہے ۔ بچوں کی تیاریاں اور شاپنگ عروج پر ہے ۔ اپنے آبائی گاو¿ں میں اپنے رشتہ داروں کے ساتھ روایتی انداز میں عید منانا چھوٹے ، بڑوں سب کی خواہش اور خوشی ہوتی ہے ۔ موجودہ دور میں ماہ رمضان اور عید الفطر کے تہوار کی مناسبت سے بہت سارے روایتی ، خلوص سے بھر پوراور سادہ مگر خوشیوں سے مالا مال رسم و رواج معدوم ہو چکے ہیں ۔ آج میں اپنے بچپن کے دور کے ماہ رمضان اور عیدوں پر نظر دوڑ اتا ہوں تو ایک خوبصورت اورحسےن ما ضی مےںکھو جاتا ہوں۔
ُاُس زمانے مےں موبائل فون کا تو تصور بھی نہ تھا ۔ دیہاتوں میں تو ٹیلی ویژن بھی شازو نادر ہی تھا۔معلومات کا واحد ذرےعہ رےڈےوہوتا تھااور وہ بھی چند لوگوں کے پاس۔چنانچہ ماہ رمضان کا چاند لوگ کھلے مےدان مےں جاکر دےکھا کرتے تھے اور پھر مقامی مسجد سے اس کی تصدےق ےا تردےد ہوتی تھی۔تصدےق کی صورت مےں ہر مسجد میں “نغارہ”بجاےا جاتا تھا۔چونکہ اُس دور مےں مسجدوں مےں لاو¿ڈسپےکر نہےں تھے۔چنا نچہ ”نغارے”کو ماہ رمضان مےں خصوصی اہمےت حاصل تھی۔افطاری , تراوےح اورسحری کےلئے مسجد کی چھت پر جاکر” نغارہ ”بجایا جاتا تھا (نغارہ اےک ڈھولکی نما چےز ہوتی تھی جس کے اوپر چمڑا چڑا ہوتا تھا اور دونوںہاتھوں میں دو ڈنڈےاں پکڑ کر اُسے پےٹا جاتا تھا اُس کی آواز تےن چار کلومےڑ تک آرام سے سنی جا سکتی تھی)افطاری اور سحری میں مےانوالی شہر مےں نصب سائرن جنہےںہم
” گُوگُو”کہتے تھے بھی بجائے جاتے تھے۔سحری کے وقت جگانے کےلئے گاو¿ں کا ڈھولچی بھی اونچی آواز مےں کلام پڑھ کر ڈھول بجاتا ہوا مختلف گلےوں سے گزرتا تھا۔
گھر ےلو خواتےن ماہ رمضان کی آمد سے قبل ہی ” روڑی تتی”(مکھن سے دےسی گھی نکالنے کا عمل ) کر کے دےسی گھی اور سوےاں خاص طور پر تےار کرکے ذخےرہ کر لےتی تھےں تا کہ سحری اور افطاری مےں پکائی جا سکےں۔گھروں مےں دو قسم کی سوےا ں تےار کی جاتی تھےں۔دےسی سوےاں لوہے کی مخصوص گھوڑی کے ذرےعے تےار کی جاتی تھےں جو اکثر چارپائی کی پاندی والی سائےڈپر Fix کی جاتی تھی۔ایک طرف سے نیم گوندھا گندم کا آٹا ڈالا جاتا تھا اور اوپر لگا ہینڈل گھومانے پر دوسری طرف سے بارےک سوراخوں سے سوےاںتےار ہو کرنکلتیںجنہےں خشک کر کے رکھ دےا جاتا تھا۔دوسری قسم کی کچی سوےاں ہوتی تھےں جو گھڑے ےا بڑے کٹوے کی پشت پر ہاتھوں سے رگڑکر لمبی لمبی رسی کی طرح تےار کی جاتی تھےں۔دونوں قسم کی سوےاں دےسی گھی اور دےسی گڑکی شکر مےں بہت زبردست تےار ہوتی تھےں۔
ماہ رمضان شروع ہوتے ہی اپنے محلے کے موچی کو نئے جوتے ےعنی ” کھےڑی”کا ناپ دےنا اور رنگ برنگے بھڑکےلے نئے کپڑے خرےدکر اپنے محلے کے درزی کو دےنا ۔ عےدکی تےارےوں کا ضروری جزوسمجھا جاتا تھا۔گاو¿ں مےں دو ہی موقعوں پر نئی جوتی اور نئے کپڑے سلوائے جاتے تھے۔ اےک عےد پرےا پھر انتہائی قرےبی عزےز کی شادی کے مو قع پر۔
ماہ رمضان مےںسحری کے وقت گاو¿ں مےں بڑاپےارا منظر ہوتا تھا۔موجودہ دوروالے کچن کا کوئی تصور نہ تھا۔صحن مےںدےواروں کے ساتھ مٹی سے بنے ” اوپن ائیر “چولہے ہوتے تھے۔تقرےبا ہر گھر مےں سحری کی تےاری کےلئے جلائی گئی آگ نظر آتی تھی ۔ سحری کےلئے خصوصی اےندھن ہوتا تھا جو جلد آگ پکڑتا تھا اور فورا چولہا گرم ہو جاتا تھا۔سویاں ، دہی ، پراٹھا (ستاپڑی )اور چائے مرغوب سحری ہوتی تھی ۔
افطاری بڑے سادہ طرےقے سے کی جاتی تھی۔ اکثر لوگ گڑ کے شربت سے افطاری کرتے تھے۔ صرف کھاتے پیتے اور خوشحال لوگ کھجور اور پکوڑوں سے افطاری کرتے ۔ کسی کسی گھر میں فریج ہوتی تھی۔ اکثریت لوگوں کی شربت بنانے کے لیے برف خرید کر لاتے تھے ۔ گاو¿ں کے دو تین لوگ گدھا گاڑی پر برف کے کارخانوں سے لا کر گاو¿ں میں برف بیچتے تھے۔ کچھ لوگ نہر کے کنارے لگے نلکوں کا رخ کرتے تھے اور وہاں سے گھڑے اور بالٹیاں ٹھنڈے پانی کی بھر کر لا تے تھے ۔ افطار کے بعد اکثر لوگ گھر ہی میں نماز پڑھتے تھے(اُس زمانے میں مسجدوں میں صرف بزرگ اور عمر رسیدہ لوگ ہی نظر آتے تھے ۔ آج کل میں نوجوان لوگوں کی اکثریت کو مسجدوں میں دیکھتا ہوں تو خوشگوار حیرت اور خوشی ہوتی ہے )پھر تراویح کے “نغارے “کا انتظار ہوتا ۔ شروع شروع میں تراویح پڑھنے والوں کا رش ہوتا ، تراویح میں کچھ شرارتی بچے شرارتیں بھی کرتے تھے۔ لیکن آہستہ آہستہ رش کم ہو تا جاتا اور بزرگ رہ جاتے ۔جب تراویح کی نماز ختم ہوتی تھی تو مسجد میں سے نمازی نکل کر بلند آواز میں اللہ کا نام لےتے جسے “ھانگرہ “کہا جاتا ۔ “ھانگرے “کی آواز سے پتہ چل جاتا کہ اِس مسجد میں تراویح ختم ہو گئی ہے ۔ 8 تراویح پڑھنے والوں کے “ھانگر ے “پہلے اور 20 تراویح پڑھنے والوں کے “ھانگرے ” بعد میں لگتے تھے۔
ماہِ رمضان کے دوسرے اور تیسرے عشرے میں عید کی تیاریاں زور پکڑ لیتیں ۔ بچوں میں جو چیز سب سے زیادہ مقبول اور خوشی کا باعث ہوتی وہ مخصوص جھولے ہوتے تھے جو گھر وں اور محلوں میں بنائے جاتے ۔ تین قسم کے اِن جھولوں کا نام
(۱)پینگھ
(۲) چھتیر
(۳)چچینگل تھے۔
(۱)۔ پینگھ : اکثر یت گھروں میں صحن میں موجود بڑے درخت کی ٹہنی کے ساتھ دورسیاں باندھ کر یہ پینگھ بنائی جاتی جیسے ©©”پینگھ اڈراں “کہتے تھے اور اس پینگھ پر جھولے لیے جاتے تھے ۔
(۲)۔ چھتیر : یہ محلے میں ایک یا دو ہوتے تھے۔ یہ گھر کے صحن میں یا گھر سے باہر بنائے جاتے تھے۔ یہ پینگھ سے اِ س طرح مختلف تھے کہ لکڑی کے دو اُونچے اُونچے مضبوط پول لے کر اُن کو چار سے پانچ میٹر کے فاصلے پہ زمین میں گاڑھ دیا جاتا اور اُن کے اوپر والے سر ے ایک اور پول کے ذریعے آپس میںجو ڑ دیئے جاتے اور اُس سے مضبوط دورسیاں لٹکا کر جھولا بنا دیا جاتا ۔ لڑکا یا لڑکی پینگھ یا چھتیر پر بیٹھ کر خود جھولے کھاتا یا کوئی اور اُس کو جھولا جھلاتا ۔ اِس کو “جھوٹے”کہتے تھے اور اگر کوئی ان کے اوپر کھڑا ہو کر ِس جھولے کو تیزی سے جھلاتا اور بلندی تک لے جاتا تو اِس مخصوص جھولا جھولنے کو “مچانٹری چاڑنا”کہتے ۔ چھتیرپر اکثر محلے کے بچے ، بچیاں اور حتیٰ کہ بڑے لوگ پر” مچانٹریاں چاڑنے” اور مقابلہ ہوتا کہ کون چھولے کو زیادہ بلندی تک لے جاتا ہے ۔
ّّ(۳) چچینگل CHUCHEENGUL محلہ کے میدان یا بھورے (خالی پلاٹ جس پر بارش کی صورت میں باجرہ یا جوار وغیرہ کاشت کر دی جاتی ۔ ویسے وہ بچوں کے کھیلنے کے میدان کے طور پر استعمال ہوتا )میں لکڑی سے بنایا جاتا ۔ آج کے دور کے گول گھومنے والا جھولا اِس چچینگل کی ماڈرن شکل ہے ۔ زمین کے سنٹر میں لکڑی کا ایک پول مضبوطی سے گاڑھ دیا جاتا اور اُس کا اوپر والا سرا مخصوص شکل میں تراشہ جاتا ۔ لکڑی کا ایک دوسرا لمبا سا پول لے کر اُس کے درمیان میں گڑھا کھود ا جاتا تا کہ وہ زمین میں گڑھے پول پر فٹ آجائے ۔ اس لمبے پول کے دونوں سروں پر جھولے باندھ دیئے جاتے ۔ ایک شخص اِ س لکڑی کوگھماتا اور کونوں پر جھولوں میں بیٹھے جھولا جھولتے ۔ جھولے کی رفتار کو تیز کرنے اور موسیقی پیدا کرنے کے لیے سر سوں کا تیل اور لکڑی کے کالے انگارے دونوں پولوں کے درمیان لگا دیئے جاتے ۔
شام کے وقت ان چھتیروں اور چچےنگلوں پر خوب رونق ہوتی ۔بچے اور بڑے لطف اندوز ہوتے اور بزرگ بےٹھ کر گپےں لگاتے اور ےوں روزہ گزارتے ۔جب آخری عشرہ شروع ہوتا تو عےد کی خوشبو اور قرےب آجاتی ۔ آخری عشرے کی طاق شامےںاور راتےںنہ صرف مذہبی عقےدت سے منائی جاتےں بلکہ ان شاموں کو میٹھی ڈشےں بھی تےار کی جاتےں جو اکثر چاولوں کا زردہ اور حلوہ ہوتی تھےں۔
” اکوےوےں”تروےوےں ” پنج وےوےں اور ست وےوےں ” ہر گھر سے بچے برتنوں میں ڈشیں لے کر اپنے رشتہ داروں ، پیر خانے اور پڑوسیوں کے گھروں میں جاتے اور یہ ” بخرے ” دیتے ۔
گاو¿ں کی بڑی مسجدوں میں موجودہ دور کی طرح ستائسویں کو ختم قرآن کی تقریب ہوتی ۔ ان مسجدوں میں اِ س دن کا فی رش ہوتا ۔ بزرگ عبادت اور ثواب کے لیے اور ہم بچے میٹھائی کے چکر میں اکثر لڈو اور دشیرینی پر مشتمل ہوتی تھی، مسجدمیں جاتے ۔ آخری تین چار سحریوں میں گاو¿ں کے بزرگ سحری کے وقت چاند کا سائز دیکھ کر اندازہ کر لیتے تھے کہ اس دفعہ عید 29یا 30روزوں کی ہو گی۔
آخری روزے کو شام کو لوگ کھیل کے میدانوں ، چوکوں اور اونچی جگہوں پر جا کر عید کا چاند دیکھنے کی کوشش کرتے اور جو دیکھ لیتا وہ ” ھانگرہ ” لگاتا اور باقی لوگوں کو دکھاتا اور یوں پھر اُس شخص کا چر چا رہتا کہ اُس نے سب سے پہلے عید کا چاند دیکھا ہے ۔ جونہی چاند نظر آتا ، خوشی سے ہوائی فائرنگ شروع ہو جاتی ۔ ڈھول چی جو تمام رمضان میں سحری میں لوگوں کو جگایا کرتا تھاڈھول بجاتا ہوا ہر دروازے پر آتا اور عیدی وصول کرتا۔ حلوہ بنانے والا اپنے ساز و سامان (کڑاھیا اور شپیتا )لے کر پہنچ جاتا اور حلوہ بناناشروع کر دیتا ۔ خاندانوں میں چھوٹی موٹی ناراضگیوں کی صلح بھی اکثر چاند رات کو ہو جاتی ۔ چونکہ عید کے بعد شادیوں کا سیزن شروع ہو جاتا ۔ چنانچہ شادی کی تاریخ پکی کرنے کی رسم جسے “دیہاڑے رکھنا ” کہتے تھے وہ بھی چاند رات کو کر لی جاتی ۔ جن بچیوں کی منگنیاں ہوئی ہوتی تھیں اُن کو سسرال کی طرف سے کپڑوں ، چوڑیاں ، مہندی اور سویاں وغیرہ کا گفٹ بھیجا جاتا جسے “وریڑاں “کہا جاتا ۔ ہر چہرے پر خوشی نمایاں ہوتی ۔
گھروں میں بڑی بہنیں چھوٹے بہن بھائیوں کو ہاتھوں میں مہندی لگاتیں ۔ چاند رات خوشی کے مارے نیند نہ آتی تھی کہ صبح جلدی ہواور ہم نئے کپڑے پہنیں اور عیدی وصول کریں ۔ صبح اُٹھتے تو اکثر بچوں کے چہروں پر بھی مہندی لگی ہوتی (رات سوتے میں مہندی والے ہاتھ چہرے پر لگ جانے سے )عید کے دن ہر کوئی جلدی اُٹھتا نہا دھو کر نئے کپڑے پہنے جاتے ۔ تھوڑا سا حلوہ کھا کر مرد بچوں کے ساتھ مسجد نکل جاتے اور عورتیں چولہا سنبھال لیتیں ۔ عید کی تکبیریں اور پڑھنے کی ترکیب ۔ ہر دفعہ ہی آزمائش سے گزرنا پڑتا ۔ اکثر بچے غلطی کر جاتے ۔ عید پڑھنے کے بعد سب لوگ ایک دوسرے سے بغل گیر ہوتے ۔ تمام گھروں سے مرد ٹولیوں کی صورت میں نکل پڑتے اور تمام رشتہ داروں کے گھر عید مبارک کہنے جاتے ۔ عیدی دینے اور وصول کرنے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ۔بچے برتنوں میں حلوہ اور عیدی لے کر یہ “بخرے “رشتہ داروں کے گھر پہنچاتے ۔
بخروں کی تقسیم سے فارغ ہونے کے بعد ہم بچے دوکانوں کا رخ کرتے ہر بچہ اُس دن “مالدار “بھی ہوتا اور “حاتم طائی “بھی۔ ہر دوکاندار نے اپنی دوکان خوب سجائی ہوتی ۔ بچوں کو متوجہ کرنے کے لیے نئے خوبصورت اور دلکش کھلونے اور دوسرے آٹمز رکھے ہوتے ۔ کہیں جلیبیاں تو کہیں گرم گرم پکوڑے تیار ہورہے ہوتے ۔ گھروں میں اور بیٹھکوں پر خوب رونق ہوتی ۔ جس گھر میں ماضی قریب میں کوئی ماتم ہوا ہو تا یا جو ان موت ہوئی ہوتی ، وہاں ماحول سوگوار ہوتا۔ تمام لوگ اُس گھر میں حاضری دیتے ۔
اِدھر گاو¿ں میں عید کی خوشیاں جو بن پر ہوتیں تو اُدھر گاو¿ں سے دور کچھ فاصلے پر ٹولیوں کی صورت میں کچھ لوگ بڑے” دھڑلے” سے جوا ءبازی کر رہے ہوتے ۔ بلکہ یہاں تک بعض سفید پوش اورشریف لوگوں نے بھی اِ س میں شغل کے طور پر شامل ہونا عید کی خوشیوں کا حصہ بنا رکھا تھا۔ عید کا یہ دِن ہسنتے کھیلتے ، بھاگتے دوڑتے ، کھاتے پیتے ، ملتے ملاتے آنکھ جھپکتے گزر جاتا ۔
آج جب میں بچوں کو چالیس پینتالیس سال پیچھے ماضی میں لے جاتا ہوں اور ماہِ رمضان اور عید کی تیاریوں کے بارے میں بتاتا ہوں تو بچے برے غور، تجسس اور حیرت سے سنتے ہیں ، موبائل ، انٹر نیٹ ، کمپیوٹر ، واٹس اپ ،ٹویٹر ، فیس بک ، 3Gاور 4G کے مشینی دور نے ایک ہی مکان اور ایک ہی چھت کے نیچے رہنے والوں کو تنہا کر دیا ہے ۔ اپنے سکون کو غارت کر کے ہم سکون کی تلاش میں ہیں ۔ گاو¿ں کے پُر سکون ماحول ، خوبصورت رسم و رواج اور سادہ طرزِ زندگی کو اِس تیز رفتار ہوس زدہ مشینی دور نے نگل لیا ہے ۔ اس کے باوجود کہ پچھلے کئی سالوں سے عید کے موقع پر میرے گاو¿ں میں غضب کی شدید گرمی اور ناقابلِ برداشت لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے اور اس کے باو جود کہ میرے گاو¿ں سے بہت کم اچھی اور خیر کی خبریں آتی ہیں ۔ ان سب کے باو جود میرا گاو¿ں – اس کی گلیاں -اس کی دیواریں -میرا آبائی گھر -وہ کمرے اور صحن جہاں میرا بچپن گزرا -ماضی کی خوبصورت یادیں یہ سب مقناطیس کی طرح مجھے کھینچ رہی ہیں ۔ میرا گاو¿ں ، میری مٹی اور میری ثقافت ہی میری پہچان ہے ۔
اگرچہ بچوں کی تعلیمی اور جاب کی مصروفیات اپنی جگہ اہم اور موجود لیکن ماضی کی طرح اس سال بھی عید الفطر اپنے گاو¿ں شہباز خیل میں منانے کا پروگرام ہے ۔ انشاءاللہ ۔
اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو ۔ آمین

Short URL: http://tinyurl.com/y4v9zj8g
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *