فحاشی مفت! ذمہ دار کون؟۔۔۔۔ مصنف: رضا حیدر نقوی، کراچی

Print Friendly, PDF & Email

نہیں آپ لوگ جائیں میں نہیں جارہا۔ ویسے بھی شادی میں میرا کیا کام؟ میں گھر پر ہی ٹھیک ہوں ! محسن نے اکتائے ہوئے لہجے میں اپنی والدہ سے کہا۔ میں کافی دنوں سے دیکھ رہی ہوں کہ تم رفتہ رفتہ سب سے کنارہ کشی اختیار کرتے جارہے ہو محسن۔ پہلے تو تم سے گھر میں رہانہیں جاتا تھا اب تم نے خود کو صرف کمرے تک ہی محدود کرلیا ہے۔تمہارے اسکول سے بھی کافی شکایتیں آرہی ہیں کہ تم پڑھائی میں کمزور ہوتے چلے جارہے ہو اور دوسری سرگرمیوں میں بھی تم نے حصہ لینا چھوڑ دیا ہے۔ مگر محسن بات کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے کمرے میں جاچکا تھا۔سارے گھر والے شادی میں جاچکے تھے اور محسن اپنے کمپیوٹر کے آگے ہیڈ فون لگائے ہوئے بڑے انہماک سے وہ دیکھ رہا تھا جس کے لئے وہ گھر پر رکنے پر بضد تھا۔وہ اتنی دلچسپی سے اس ویڈیو کو دیکھنے میں مگن تھا کہ اسے یہ اندازہ ہی نہیں ہو سکا کہ کب اس کے والد گھر آئے اور کب اس کے کمرے میں ۔ محسن کے والد نے اس کو جو ’’چیز‘‘ کمپیوٹر پر دیکھتے ہوئے دیکھا تو ان کے دماغ کو440 وولٹ کا جھٹکا لگا۔ وقت ضائع کیے بغیر ایک ہاتھ انہوں نے اسکرین پر مارا، دوسرا محسن کہ منہ پر اور اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئے ۔ دوسری طرف محسن ایک کونے میں شرمسار کھڑا زمین کو تک رہا تھا۔
محسن ایک اے۔لیولز کا ہونہار طالبِ علم اور ایک متوسط گھرانے کا چشم و چراغ تھا۔ وہ اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا ہونے کی وجہ سے لاڈلا اور ماں باپ کی ایک ہی امید بھی تھا۔ پڑھنے کے ساتھ ساتھ کھیل میں بھی نمایاں کارکردگی کی وجہ سے اسے اسکول کی فٹبال ٹیم کا کپتان بھی بنادیا گیا تھا۔وہ بلا کا پراعتماد انسان اور محفل کی جان تھا۔ اپنے اسکول میں وہ 3 دفعہ پوزیشن ہولڈر رہ چکا تھا۔ سب کچھ صحیح جارہا تھا کہ اچانک کچھ عرصے سے اس کے رویے میں کافی تبدیلی رونماء ہوئی جس کا اثر اس کی تعلیم سے لیکر اس کی شخصیت پر بھی پڑا۔اب وہ اپنا زیادہ تر وقت اپنے کمرے میں ہی گزارنے لگا تھااور کھیل سے اسکا جیسے دل بھر گیا تھا۔رات کو دیر تک جاگنا اور صبح دیر سے اٹھنا اس کے معمول کا حصہ بن گیا تھا۔محسن کے والدین بھی اس کے اس رویے پر کافی فکر مند تھے مگر وہ اتنا بیزار کیوں ہوتا جارہا تھا یہ سمجھنے سے قاصر تھے۔ مگر آج اس کے والد کو محسن کی اس غیر معمولی اور منفی تبدیلی کا راز پتہ چل گیا تھا۔
جی ہاں! میں بات کر رہا ہوں پورن سائٹس اور ان میں موجود ان لاتعداد ویڈیوز کی جو آج کل پاکستان کہ ہر نوجوان کی پہنچ میں ہیں۔یہ ویڈیوز نہ صرف انٹرنیٹ پر فری دستیاب ہوتی ہیں بلکہ بڑی بڑی موبائل مارکیٹزاور سی ڈی شاپز میں بھی یہ مختلف ورائٹیز میں آپکوکم قیمت میں با آسانی مل جائیں گی اور آج کل ان ویڈیوز سے تقریباٌ ہر نوجوان استفادہ حاصل کر رہا ہے۔ان پورن ویڈیوز کی بھی لاتعداد اقسام ہیں۔آپ کو جو ورائٹی پسند ہو آپ اس جیسی سینکڑوں فلمیں چند پیسوں کہ عوض اپنے فون میں بھروا سکتے۔ پورن ویڈیوز کہ اثرات کیا ہیں؟ تھوڑی روشنی اس کی افادیت پر ڈالتے ہیں۔ حال ہی میں جرمنی کے شہر برلن میں ماکس پلانٹ انسٹیٹیوٹ سے وابستہ اور سائنسی تحقیق کی اہم مصنفہ زیمونے کیون کے مطابق ’’باقاعدگی سے پورن فلمیں دیکھنے کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ کم یا زیادہ انسان کا دماغی ریڈوارڈ سسٹم ضائع ہوجاتا ہے۔ پورن فلمیں دیکھنے والوں کا سیکسی ناولوں اور ایکسٹریم جنسی مواد کی طرف رجحان بڑھ جاتا ہے۔‘‘ آسٹریلیا میں ایک ریسرچ کے مطابق’’ جنسی مواد دیکھنے والے 27فیصد لوگ ڈپریشن، 30فیصد لوگ بے چینی اور35فیصد لوگوں میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔‘‘پورن ویڈیوز نوجوان نسل کے لئے ایک ایسا مہلک مرض ہے جو
“Slow poison”
کا کام کرتا ہے اور انسان کی شخصیت کو توڑ دیتا ہے اس کے اعتماد کو ختم کردیتا ہے ، اس کی سوچ کو محدود کردیتا ہے اور احساس کو ختم کرکے اسے کسی حد تک انتہا ء پسند بنادیتا ہے۔ یہ ایک نشہ کی مانند ہے جو انسان کو انسانیت سے دور کردیتا ہے۔
پاکستان ایک ایسا ملک ہے جسکی آبادی کازیادہ تر حصہ نوجوان نسل پر مشتمل ہے اور اس میں قطعی دو رائے نہیں کہ پاکستان کے نوجوانوں نے وقتاٌ فوقتاٌ دنیا میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے جن میں ارفع کریم، علی موئین نوازش ، ذیشان شاہ، فواد حسن جیسے نام قابلِ ذکر ہیں۔ ان ستاروں جیسے ہزاروں ستارے ہمارے ملک میں موجود ہیں مگر بد قسمتی سے ان میں سے ایسے ان گنت نوجوان ہیں جو اپنی صلاحیتوں کو اس بیماری کی نظر کردیتے ہیں۔ان کی سوچ محدود ہوجاتی ہے اور وہ معاشرے کہ ایک تاریک پہلو کی جانب چل پڑتے ہیں۔ ایسے کئی طالبِ علم ہیں جو اپنی روشن زندگیوں کو اس تاریکی میں خاموشی سے ڈبو رہے ہیں مگر ان کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔قصور کے واقعہ پر ہی ایک نظر ڈال لیں۔ اس میں ملوث مجرم کیا پیدائشی مجرم تھے یا ان کے باپ دادا کا یہ خاندانی پیشہ تھا؟ہر گز نہیں! تو پھر کونسی شہ نے ان کو اس غلیظ کام کی طرف راغب کیا؟ یقیناٌ ان کو عادی مجرم بنانے میں ان فحش ویب سائٹس کا کردارہے جو آج ہر کسی کی پہنچ میں ہیں۔ وہ ایک عرصے سے یہ سب دیکھنے کہ عادی تھے اس لئے ان کے لئے یہ کچھ نیا نہ تھا اور انہوں نے اس پر عمل بھی کیا ۔ کوئی بھی انسان پیدائشی مجرم نہیں ہوتا جب تک اسے جرم کرنے کے مواقع فراہم نہ کیے جائیں اور یہ ایسا جرم ہے جس کا انسانی فطرت سے بہت گہرا تعلق ہے۔پاکستان میں اس طرح کہ کئی واقعات رونما ء ہوچکے ہیں اور ہوتے ہیں جو جنسی زیادتی پر مشتمل ہیں اور تقریباٌ ہر عمر اور ہر پیشے کا شخص اس میں ملوث پایا گیا ۔ وہ نوجوان ہو یا ادھیڑ عمر آدمی، طالبِ علم ہو یا مولوی ۔ انتہاء تو یہ ہے کہ لوگوں نے اپنے مقدس رشتوں کے تقدس کا خیال تک نہیں کیا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہی پورن سائٹس ہیں جو ایک نارمل انسان کی اس طرح سے برین واشنگ کرتی ہیں کہ وہ احساسات سے عاری اور انتہاء پسندی کی جانب مائل ہوجاتا ہے۔اس کی زد میں سب سے زیادہ پاکستان کا نوجوان طبقہ ہے ۔ ہمارے ملک میں جتنا ٹیلنٹ آج نظر آرہا ہے اس سے دوگنا ٹیلنٹ موجود ہے مگراس فحاشی کی یلغار کی وجہ سے پاکستانی معاشرہ تیزی سے روبہ زوال ہے۔
اس فحاشی کی دوڑ میں ہم اتنے آگے آگئے ہیں کہ ہمارے ملک کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ دنیا میں پاکستان پہلا مسلمان ملک ہے جہاں سب سے زیادہ لوگ پورن سائٹس کو سرچ کرتے ہیں اور اس کا سہرا ہماری قوم اور حکومت دونوں کہ سر ہے۔ بہاولپور میں ایک چھ سال کی یتیم بچی ایک 30 سال کے آدمی کہ ہاتھوں زیادتی کا شکار ہوجاتی ہے،ایک 17سالہ ٹیچر کا گینگ ریپ کردیا جاتا ہے اور ہری پور میں ایک باپ اپنی ہی سگی بیٹی اور بہو کو اپنی درندگی کا نشانہ بنادیتا ہے۔ اس صورتحال میں ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہاایسے واقعات ایک انہونی ہیں؟ بلکل نہیں بلکہ ہم کو یہ تسلیم کرلینا چاہئے کہ اس طرح کے واقعات کا پاکستان میں ہونا کوئی اتفاق یا نئی بات نہیں کیونکہ فحاشی کا یہ بیج جو آج ہم اپنی نسل کہ ذہنوں میں بو رہے ہیں ، مستقبل میں وہ فصل ہم کو قصور اور ان سے ملتے جلتے کئی واقعات کی صورت میں ہی کاٹنی پڑیگی۔ اب سوال یہ ہے کہ اس میں قصور کس کا ہے؟ اگر بات کی جائے علماء و فقہاء کی تو ان کو نئی نسل سے جڑے مسائل کا ادراک ہی نہیں ہے ان کی توجہ تفرقہ بازی اور سیاست سے ہٹے تو ان کو معاشرتی اقدار کی پامالی کا اندازہ ہوسکے۔ والدین بھی اپنے بچوں کو اعلیٰ اسکول یا کالج میں داخلہ دلوا کر اپنے آپ کو بری و ذمہ سمجھ لیتے ہیں اور اس بات سے بلکل بے خبر رہتے ہیں کہ ان کا بچہ کب اس لت کا شکا ر ہوا ا ور کب وہ اخلاقیات کی حدوں کو پار کرگیا ۔اربابِ اختیار نے آج تک اس حوالے سے کوئی بھی حکمتِ عملی ترتیب نہیں دی اور نہ ہی اس کا کوئی مستقل حل نکالنے کی کوشش کی جب کہ حکومت میں ثقافت کہ ہر معاملے کو دیکھنے کہ لئے باقاعدہ وزارتیں موجود ہیں۔ یہ زہر ہمارے ملک کے نوجوانوں میں آہستہ آہستہ سرایت کر رہا ہے اور ان کے مستقبل کو تاریکی کی جانب موڑ رہا ہے۔اگرچہ یہ کہانی اور اسکا کردار فرضی ہیں مگر یہ ہمارے معاشرے کا حقیقی عکس لئے ہوئے حکومت اور والدین کے لئے ایک سوال ہے۔ اگر آج آپ اس بیماری کو اپنی نسل میں منتقل ہونے سے نہیں روک سکے تو یقین کیجئے مستقبل میں آپ کو اپنے ملک کی معیشت کو مضبوط بنانے کے لئے پورن انڈسٹری کے قیام کی اشد ضرورت ہوگی۔

Short URL: http://tinyurl.com/htxtw82
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *