سوگ زندگی کا۔۔۔۔ افسانہ نگار: مجیداحمد جائی، ملتان

Print Friendly, PDF & Email

بہار کی رُت ہر طر ف اپنے پر پھیلائی کھڑی تھی۔پھولوں کی مہکار،بھینی بھینی خوشبو دل کو لبھارہی تھی۔ٹنڈ منڈ درختوں پر جوانی چلی آئی تھی۔کونپلیں نئی نویلی دولہن کی طرح اکڑا کر،ایک دوسرے کو بانہوں میں لئے جھول رہی تھیں۔جیسے ننھے بچے جھولے لے رہے ہوں۔پرندوں میں شوخیاں آگئی تھیں۔جنس مخالف کے ساتھ مستیاں ہو رہی تھیں۔نیم کے درخت پر چڑا اور چڑی عشق لڑا رہے تھے۔ٹایلی کے درخت پر جنگلی طوطے ٹائیں ٹائیں کر رہے تھے۔کوئے کائیں کائیں کر کے خوشی منا رہے تھے۔فاختہ ،کوئل میٹھے گیت گا رہی تھیں۔درختوں پر بہار کیا آئی پرندوں میں جوانی لوٹ آئی۔گلہری پھڈک پھڈک کر ایک ٹہنی سے دوسری ٹہنی آجا رہے تھے۔گندم کی فصلیں جوُبن پر تھیں۔کسانوں کی محنت رنگ لانے والی تھی۔دیہاتی عورتیں دانے سنبھالنے کے لئے کولٹھیاں صاف کر رہی تھیں۔نئے دانے جو رکھنے تھے۔
بدلتے موسم میں جہاں طرف رونق ہی رونق چھا جاتی ہے۔وہاں اشرف المخلوقات میں بھی تبدیلیاں شروع ہو جاتیں ہیں۔عاشقانہ موسم میں شادیاں کی جاتیں ہیں۔نئے سفر کا آغاز ہو تا ہے۔پریمی بندھن میں بندجاتے ہیں۔اُمیدیں بر آتی ہیں۔عاشقوں کی منتیں پوری ہوتیں ہیں۔الہڑ مٹیاروں کے سپنے پورے ہوتے ہیں۔
******
میرے ہمسائیوں کے ہاں شادی تھی ،دن بھر کے ہنگاموں سے فراغت پاکر ڈھلتی رات میں، میں اپنے کمرے میں سونے چلا آیا تھا۔ہمسائیوں کی شادی میں مجھے میزبانی کے فرایض سونپ دئیے گئے تھے۔آخر ہمسائے ماں پیؤں جئے ہوتے ہیں۔چاند اپنی رعایا کے ساتھ موج مستی میں لگا تھا۔رات دھیرے دھیرے سرک رہی تھی۔شادی والا گھر برقی بتیوں سے جگمگا رہا تھا۔رنگ برنگے لباس میں عورتیں اپنے اپنے بچوں کو محفوظ کرتی نظر آتی۔چڑھتی جوانی کے نشے میں دوشیزہائیں ڈوپٹے گردن میں لٹکائے،میک اپ سے گال چمکائے۔ہونٹوں پر لپ اسٹک کی پالش کئے ،لہراتی کالی گھنی سیاہ زلفیں ،اٹھہرا اٹھہراکر تیتلیوں کی طرح ادھر اُدھیر ارتی ،گھومتی پھرتی تھیں۔
نرم و ملائم بستر پر پڑتے ہی دن بھر کے سارے منظر ایک ایک کر کے میری آنکھوں کی اسکرین پر فلم کی طرح چل رہے تھے۔سجی سنواری مرسیڈیز سے دلہن شرماتی ہوئی۔لنگا سنبھالتے ہوئے خراماں خراماں باہرکو نکل رہی تھی۔سبھی باراتیوں کی نظریں دلہن پر مرکوز تھیں۔دُلہن کی سہیلی ،دُلہن کا لال موتیوں سے سجا،لنگا سنبھالنے میں مدد کر رہی تھی۔دُلہابھی شیروانی زیب تن کئے،ملتانی کھسہ پیروں میں پہنے،لبوں پر مسکراہٹ سجائے،دُلہن کے ساتھ چیپکنے کے انداز میں کندھے سے کندھا ملانے کی سعی کر رہا تھا۔دیکھنے والی ہر آنکھ خوشی کے لمحات محفوظ کر رہی تھی۔چاندنیلے آسمان پر کھڑا خاموش تماشائی بنا تماشہ دیکھ رہا تھا۔چپکے چپکے سلامی دے رہا تھا۔نئے سفر کی شروعات کی جیسے مبارک باد دے رہا ہو۔ستارے بھی پھولوں کے ہارے لئے آنکھیں مار رہے تھے۔دلہن ،دلہا مرسیڈیز سے اترتے ہوئے خراماں خراماں چلتے ہوئے عروسی والے کمرے کے سامنے کھلے صحن میں بنے ہال میں اسٹیج پر آن بیٹھے۔رشتے دار ،دوست احباب سہلیاں ،وقفے وقفے سے آتے جاتے تحفے،سلامیاں ،ہرے نیلے نوٹوں کے ساتھ گلاب جامن کے ڈبے پیش کر رہے تھے۔جوشیلے لڑکے ان لمحوں کو موبائل میں قید کر رہے تھے۔لڑکیاں دلہن دلہا کے ساتھ تصویریں بنوارہی تھیں۔مووی میکر یہ لمحات ہمیشہ کے لئے قید کر رہا تھا۔دلہے کی کزنیں شرارتیں کر رہی تھیں۔ہنسی مذاق ہو رہا تھا۔ہر چھوٹے بڑے لے لبوں پر مسکراہٹ ہی مسکراہٹ تھی۔دل خوشی سے ناچ رہے تھے۔بوڑھے بزرگوں کے لبوں پر نئے سفر شروع کرنے والے جوڑے کے لئے دعائیں ہی دعائیں تھیں۔الہڑ مٹیارشرماتے ہوئے سہلیوں کو اپنے خواب سنا رہی تھیں ،کئی تو اپنے محبوب سہلیوں کو کہنی مار کر دیکھا رہی تھیں۔بیچارے ناکام عاشق اداسی کی چادر تانے منہ چھپائے پھرتے تھے۔آزاد خیال آوارہ لڑکے لڑکیوں کو لائن مار رہے تھے۔لڑکیاں تھیں کہ ان کو گھاس نہیں ڈال رہی تھیں۔کئی انجوائے کرنے کی غزض سے لڑکوں کے سامنے جا کر مسکرا رہی تھیں انہیں آنکھوں سے اشارے کر رہی تھیں۔کئی کندھے اچکائے ہاتھوں سے ہوائی بوسے دے رہی تھیں۔خوشی کا ماحول تھا سبھی انجوائے کر رہے تھے۔
*******
رات ڈھلنے لگی تو دلہن ،دلہے کو تمام رسومات کے بعد آزادی ملی اور وہ اٹھ کر عروسی والے کمرے میں چلے گئے۔مہمان سونے کے لئے بستر لینے لگے،آوارہ لڑکے مورچے لگانے میں لگ گئے۔،قریبی رشتے دار،ہمسائے اپنے اپنے گھروں کی راہ لینے لگے۔
میں بھی اپنے گھر آگیا۔تھکن سے چور چور تھا۔ہمسائے کی شادی تھی اور وہ میرا قریبی دوست بھی تھا۔میزبانی کے فرایض بھی میرے حصے میں آئے تھے۔سو چند گھنٹے سستانے کی غرض سے گھر چلا آیا تھا۔بیڈ کی آغوش میں آتے ہی دن بھر کے تمام مناظر لو اسٹوری فلم کی طرح آنکھوں کی ڈی وی ڈی میں چل رہے تھے۔میں انہی مناظر کی قید میں نیند کی وادی سیر کو نکل گیا۔ویسے بھی صبح بہت کا م ہونا تھا۔نیند نے مجھے آڑے ہاتھوں لیا۔شادی کے ہنگامے۔دھماکے،پردہ اسکرین پر کب تک چلے ،خبر نہیں رہی۔میں پُر سکون سو گیا تھا۔
*******
رونے ،چلانے کی ملی جلی آوازوں سے میری آنکھ کھل گئی۔سورج کا جادو سر چڑھ کر بو ل رہا تھا۔سورج کی نظریں روح زمین پر لگی تھی،اس کی آنکھیں قہر برسا رہی تھی۔میں ہڑ بڑ ا کر اٹھ بیٹھا۔آنکھیں مسلتے ہوئے رونے،چیخنے چلانے کی آواز کی طرف متوجہ ہوا۔پہلے پہل تو سمجھا دوسرے کمرے میں بچے رو رہے ہیں۔اکثر صبح سویر ے میرے بچوں سے گھر کا صحن میدان جنگ بن جاتا تھا۔ایک دوسرے سے کاپیاں کتابیں،کھنچیتے لڑتے جھگڑتے تھے۔
ماما!دیکھو ناں ،آنچل کی بچی پنسل نہیں دے رہی۔میری بیوی ایمان توے پر روٹی ڈالتے ہوئے ان کی طرف ظاہری جلاد اور من سے محبت کی نظر ڈالتی۔
بھلا اولاد کسی کو بُری لگتی ہے۔آنچل بیٹے،کائنات کی پنسل دے دو۔میں تمھیں پاپا سے پیسے لے دیتی ہوں ،تم اسکول سے جا کر لے لینا۔میری بیوی جج بن کر ثالث کا کردار نبھاتی۔یہ چھوٹے چھوٹے جھگڑے روز میرے آنگن میں ہوتے۔کبھی میں جلاد بن جاتااورڈرا دھماکا کر بچوں کو اسکول وین کے حوالے کر دیتا۔
کہتے ہیں بچے تو دشمن کے بھی پیارے ہوتے ہیں۔گھر میں بچوں کی قلقاریاں نہ ہوں تو گھر گلشن نہیں قبرستان لگتا ہے۔بچوں کے بغیر زندگی کے رنگ ادھورے ہوتے ہیں۔اگر میرے بچے نہ ہوتے تو میں کیسے خوش ہوتا ،یہی خیال آتے ہی پاپا کا ٹھاٹھیں مارتا پیارو محبت کا سمند ر امڈ آتا۔آنچل کو کندھے پر بیٹھاتا،کائنات کو بازوؤں کے حصار میں لیتا،ننھے حیسب کو دائیں ہاتھ سے پکڑتااور میٹھی میٹھی باتیں کرتا،معصوموں کی ننھی ننھی خواہشیں سنتا ،ان کو اسکوک کی وین میں بیٹھا کر بائے بائے کرتا ،واپس اپنے روم میں آجاتا۔جہاں میری ہم سفر ،میری شریک حیات ،میرے دکھ سکھ کی ساتھی،میری بیوی ناشتہ ٹیبل پر سجائے میرے انتظارمیں نظریں بیرونی دروازے پہ مرکوز کیئے ہوتی۔یہ میریروزکی روٹین تھی،میرے چھوٹے سے آنگن میں خوشیاں ہی خوشیاں تھیں۔
*******
میں بیڈ سے اترتے، چپل پاؤں میں پھنساتے ،آنکھیں مسلتے کمرے سے صحن کی طرف آیا۔جہاں میرے خیال کے مطابق بچوں کی جنگ چھڑی ہونی تھی۔لیکن یہ کیا؟ہر طرف خاموشی کے پہرے ہیں۔درودیوار خاموش ہیں۔ہر چیز سلیقے سے رکھی ہوئی ہے اور پالتو میاں میٹھو بھی پروں میں چونچ چپھائے گم صم ہے۔میری بیوی بچے کہیں نظر نہیں آرہے تھے۔ایمان،۔۔۔۔ ارے او ایمو۔۔۔۔۔پیار سے میں اپنی بیوی کو ایمو ہی کہتا تھا۔ایمان کہیں نظر نہیں آئی تھی۔کلائی پہ بندھی گھڑی پر نظر پڑی تو دن کے گیارہ بجنے کو تھے۔اُف میرے خدایا؟یہ کیا ہوگیا۔میں حیرانی کے عالم میں گم صم سوچوں کی کشتی میں سوار رتھا۔بچے تو اسکول جا چکے ہوں گے مگر یہ ایمان کہاں گئی ہے؟ابھی یہ سوچ میرے ذہن پر ابھری ہی تھی کہ اچانک رونے ،پیٹنے کی آوازیں میری سماعتوں سے ایک بار پھر ٹکرائی۔کوئی عورت کہہ رہی تھی۔ہائے میں مر گئی۔میں لٹ گئی میرے لال کو کس کی نظر کھا گئی۔میری خوشیؤں کو کیا ہوگیا۔کسی کی ماں بین کر رہی تھی۔یہ تو آنٹی سلیمہ کی آواز ہے۔میں نے آواز پہچانتے ہوئے ذہن پر روز دیا تھا۔جلدی جلدی اپنا حلیہ درست کیا اور شادی والے گھر کی طرف روانہ ہوا۔یہ شور ،چیخنا چلانا ساتھ والے گھر سے تھا۔جہاں رات خوشیاں ناچتی رہی تھیں۔رقص کا سماں تھا،تیتلیاں اڑتی پھرتی تھیں،جنگنو چمکتے ،چہکتے پھرتے تھے۔رات کیا رخصت ہوئی صبح کے اُجالے میں سارے منظر بدل گئے۔خوشیاں ماتم میں بد ل گئی،مسکراتے چہرے حیرت ،اداسی کا مجسمہ بنے ہوئے تھے۔ہنسیاں اداسی کا لبادہ اوڑھ چکی تھیں۔تیتلیاں ،گھنٹوں پر سر ٹیکے آنسوؤں میں نہا رہی تھیں۔ان کا میک اپ کب کا رخساروں کو چھوتا ہوا دامن گیلا کرتے،زمین بوس ہو گیا تھا۔آنسوؤں سے آنکھیں تر بتر تھیں اور بچے سہمے ہوئے تھے،نوجوان آپس میں کُھسر پھسر کر رہے تھے۔بوڑھی عورتیں ایک دوسے کے کانوں لگ رہی تھیں۔ڈھول باجے والے مجسموں کے رُوپ دھار چکے تھے۔ڈھول ڈور کونے میں پڑے تھے،گھر کے درودیوار اُداسی کی بُکل مارے کھڑے تھے۔پرندے خاموش تھے ،بنیرے پر کالے کوے گم صم ماحول کو بھانپ رہے تھے۔تقدیر نے کیا عجیب کھیل کھیلا تھا۔خوشیوں بھر اگھر ماتم میں بدل گیا تھا۔مسکرائٹیں آنسوؤں میں بدل گئیں تھیں۔جیسے ہر سوں کوئی زہریلا سانپ سونگھ گیا ہو۔دلہے کی ماں سینہ کوبی کر رہی تھی۔ہائے یہ کیا ہو گیا ۔میرے لال تجھے کیا ہو گیا۔۔پل بھر میں خبر جنگل کی آگ کی طرح پورے علاقے میں پھیل گئی۔دلہن والے بھی آچکے تھے۔رشتے دار ،دشمن،دوست احباب ،جمع ہو چکے تھے۔دلہے کی ماں کی حالت پاگلوں جیسی ہو گئی تھی۔کبھی بالوں کو نوچتی کبھی سینہ پر ہاتھ مار کر بین کر رہی تھی۔محلے کی عورتیں اسے سنبھال رہی تھیں۔
*******
مائیں تو مائیں ہوتیں ہیں۔9ماہ بطن میں اٹھائے تکلفیں سہتی رہتی ہیں۔پھر جب بچے کو جنم دیتی ہیں تو زچگی کے دردناک لمحوں ،اذیتوں سے گزرتی ہیں۔جب نظر ننھی جان پر پڑتی ہیں تو ساری تکلفیں بھول جاتی ہیں۔سارے درد رفو چکر ہو جاتے ہیں۔میٹھی سی مسکراہٹ ہونٹوں پر پھیل جاتی ہے۔نومولودہ پر صدقے واری ہوتی ہیں۔ماں کی ممتا جوش میںآجاتی ہے۔انسان تو انسان،چرند پرند بھی بچوں پر جان نچھاور کرتے ہیں۔خود دردوالم سہہ کر ان کی حفاظت کرتے ہیں۔ان کی فکر میں اپنے آپ کو بھول جاتے ہیں۔اسی لئے تو کہتے ہیں بچے تو دشمن کے بھی پیارے ہوتے ہیں۔۔
مائیں کیسے ننھی جان کے نخرے اٹھاتی ہیں۔لوریاں سناتی ہیں۔ان کے ساتھ بچے کا روپ میں آجاتی ہیں،توتلی زبان میں اغوں اغوں کرکے باتیں کرتی ہیں۔جُھولے جھولاتی ہیں۔اغوں اغوں کرکے ان کے ننھے لبوں پر ہنسی ،مسکراہٹیں بکھیر تی ہیں۔اُنھیں لمحہ بھر بھی تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی ۔تھوڑا بخار کیا ہوا،بھوکی شیرنی کی طرح ادھر اُدھر پھرتی ہیں۔جب تک بچے کو سکون نہ ملے کھانا تک بھول جاتی ہیں رب رحمان نے عورت کو ممتا جیسی نعمت سے نواز کر عظیم کر دیا۔پھر وہ رب رحمان ان سے ستر ماؤں سے بھی بڑھ کر پیار کرتاہے۔انسان اس کی طرف رُجوع کیوں نہیں کرتا،کیوں شیطانی ،درندگی کے لبادے اوڑھے ہوئے ہے۔
*******
جس ماں کا بیٹا دلہا بنا ہو اور موت کا فرشتہ اسے لے اڑے تو اس ماں کا کیا حال ہوگا۔خوشیاں لمحوں میں ماتم میں بدل جائیں تو قیامت سے پہلے قیامت ہی آجاتی ہے۔
کہتے ہیں ماں انسان کی پہلی دردگاہ ہوتی ہے۔ننھی انگلیاں پکڑ کر آنگن میں پاؤں پاؤں چلنا سیکھاتی ہے۔اس کی ہر ضرورت کا خیال رکھتی ہے۔سالہ سال پال پوس کر گھبرو چٹان سا نوجوان بنا دیتی ہے۔ خوابوں کے تانے بانے بُنتی رہتی ہے۔اور جب ان خوابوں کو تبعیر ملنے والی ہوتی ہے اپنے لال لے سر پر سہرا سجاتی ہے۔تب اگر تقدیر کھیل کھیل کر بازی ہی الٹ دے تو مائیں بے موت مر جاتیں ہیں۔اس ماں کا تصور کریں جس نے رات کو بیٹے کے سر پہ سہرا سجا دیکھا ہو گھوٹ بنے دیکھا ہو اور صبح چڑھتے سورج کے ساتھ اُسے حجرہ عروسی میں مردہ پایا تو موت سے پہلے مر نہیں جائے گی۔قیامت سے پہلے قیامت نہیں ٹوٹ پڑے گی۔
یہاں بھی ایسا ہی ہوا تھا۔نئی نویلی دلہن اور دُلہا ہنستے مسکراتے ،پھولوں کی طرح مہکتے رات ڈھلتے حجرہ عروسی میں گئے تھے اور پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر صبح انہونی ہو گئی دن چڑھے جب وہ باہرنہ نکلے تو دروازہ توڑکر ان کی خیریت جاننا چاہی۔جب اندر گئے تو حیرت کا جھٹکا لگا دونوں بیڈ پر ایک دوسرے کو بانہوں میں لئے بے جان پڑے تھے۔کسی کو یقین نہیں آرہا تھا،ناگہانی موت۔۔۔۔۔۔۔انہونی ہی تو ہو گئی تھی۔
*******
شادی والا گھر تھا ،برقی بیتیاں اب بھی روشن تھیں مگر ۔۔۔۔۔صف ماتم بچھ چکا تھا۔عورتوں مردوں کا ہجوم امڈ پڑا تھا۔جیسے پورے شہر کے لوگ اٹھ ڈورے ہوں۔اتنے میں سائرن بجاتی پولیس وین دروازے پر آن رکی۔کسی نے پولیس کو اطلاع کر دی تھی۔
پیچھے ہٹو،،ہٹو۔۔۔۔راستہ دو۔پیچھے ہٹو،پیچھے ہٹو کی آوازیں میرے سماعتوں سے ٹکرائی۔کوئی سپاہی ہجوم میں راستہ بنوا رہا تھا۔میں آنسوؤں میں ڈوب گیا تھا۔مورتی بنا کمرے کی بیرونی دیوار کے ساتھ ٹیک لگ گیا تھا۔میرے حواس کھو سے گئے تھے۔مجھے بھی یقین نہیں آرہا تھا۔رب رحمان نے کیسا نصیب بنا یا تھا۔ارمان پورے بھی نہ ہوئے اور اِس دیس سے اُس دیس لوٹ گئے۔ابھی نئی زندگی کی شروعات کی پہلی رات ہی تو تھی۔دونوں پریمی نئے سفر کے شروعات کے پہلے دن ہی امر ہو گئے تھے۔موت نے ان کو آن گھیرا تھا۔اُف میرے خدایا۔میرا ذہن ماوف ہو گیا۔میرا دماغ شل ہو گیا تھا۔پولیس حجرہ عروسی میں داخل ہو چکی تھی۔پولیس ثبوت ڈھونڈ رہی تھی۔نہ خون کا نام و نشان،نہ کوئی زخم ،پُر اسرا موت تھی۔تصویریں کھنیچی جا رہی تھیں۔جس بیڈ پر دونوں کی موت ہو ئی تھی۔اس کی تلاشی لی گئی مگر کچھ برآمد نہ ہوا۔آخر پولیس نے لاشوں کو پوسٹ ماتم کے لئے ہسپتال بھیج دیا۔ابتدائی کاروائی کا آغاز ہو چکا تھا۔آخر ہوا کیا دونوں ایک ساتھ کیسے موت کے منہ میں چلے گئے۔کیوں اور کیسے ؟ہر کوئی اس راز کو جاننا چاہتا تھا۔اس پُر اسرار موت کے پیچھے کون تھا۔؟عزیز واقارب دانتوں میں انگلیاں دبائے،آنکھوں کے سمندر میں غوطہ زن تھے۔ماں کی حالت تو غیر ہو چکی تھی۔لمحہ بھر کے لئے ہوش آتا تو بین شروع کر دیتی اور دوسرے لمحے پھر بے ہوش ہو جاتی۔آخر ماں تھی۔بھائی ایک کونے کا ہو کر رہ گیا تھا۔چپ کی مہر لگ گئی تھی۔جیسے غم اس کے اندر ٹھاٹھیں مار رہا ہو،جیسے اچاک کسی لاوے کی طرح اُبل پڑے گا۔گم صم ،چپ چاپ،لال آنکھوں سے پاگلوں کی طرح آتے جاتے لوگوں کو گھور رہا تھا۔باپ زندہ لاش کی مانند تھا۔بے جان جسم لئے ماتم کناں تھا۔ہمسائے برادری والے نزدیک دور کے سبھی آنے والے ہمددری جتارہے تھے۔ہر کوئی افسوس کے دو بول ،بول کے ایک طرف ہو جاتا۔اجڑے باپ کو خبر ہی نہیں تھی کون کیا کہہ رہا ہے۔
*******
پولیس ایمبو لینس میں لاش کو کب کی لے جا چکی تھی۔ڈھلتے سورج کے ساتھ لاش واپس کر دی گئی۔ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا کہ دونوں کی موت کسی زیریلی چیز سے ہوئی ہے۔معاملہ تھانے میں تھا۔ تھانے دار اس کیس کی کڑیاں ملانے میں مگن ہو گیا۔ادھر سورج غروب ہونے سے ذراپہلے دونوں کے جنازے اٹھائے گئے اوربدنصیب دلہن اور دلہے کو ساتھ ساتھ کچے مکانوں میں منوں مٹی تلے دفن کر دیا گیا۔پیچھلی رات دونوں کے گردانوں میں پھولوں کی مالائیں لٹک رہیں تھیں اور آج دونوں کی قبروں پر پھول پڑے تھے۔ تازہ پھولوں کی مہکار سے پورا قبرستان خوشبو سے مہک اُٹھا تھا۔
دلہن اور دلہے کو زہر دے کر مار اگیا ہے۔ابتدائی رپورٹ نے حیرت کی فضا قائم کر دی۔زہر ۔۔۔بیچارے باپ نے ایک دم سر اوپر اٹھایا۔زہر ۔۔۔۔۔۔۔مگر کس نے دیاَ؟میرے بیٹے کی دشمنی تو کسی سے بھی نہیں تھی۔ہنس مکھ تھا،بااخلاق تھا۔پھر اس کے دشمن کیسے ہو سکتے ہیں۔دشمن اتنی بھیانک سزا کیسے دے سکتا ہے۔خوشیوں کا گلہ گھونٹ سکتا ہے۔ایسی سفاک حرکت آخر کس نے کی؟ایک پُراسرا قتل۔کس نے زہر دیا ،کس نے زہر پلایا۔کون ہو سکتا ہے۔پولیس جانکاری میں کر رہی تھی اور اجڑا باپ بھی حیرت میں ڈوبا ہوا تھا۔
*******
گل شیر دلہے کے روپ میں دشمنی کی بھنیٹ چڑھ گیا تھا۔عین اس دن جب ارمان پورے ہونے والے تھے۔خوابوں کو تعبیر ملنے والی تھی۔سہاگ رات اتنی بھیانک ہو جائے گی ،کس نے سوچا تھا۔ارمانوں کا خون یوں بھی بہتا ہے۔خواب یوں بھی بکھرتے ہیں۔گل شیراور علی نواز دو بھائی تھے۔بڑا بھائی شادی شدہ تھا اور اپنی بیوی کے ساتھ خوش تھا۔گل نور ان کی اکلوتی بہن تھی۔جس کا پیچھلی سہ ماہی میں انتقال ہو گیا تھا۔اس کے دو ننھے بچے ان کی کفالت میں تھے۔چھوٹا سا خاندان ،زیادہ امیر بھی نہیں تھے۔نہ ہی گئے گزرے تھے ،اچھا گزر بسر ہو رہا تھا۔
تینوں بہن بھائیوں کا بچپن شرارتیں کرتے،اٹکھیلیاں کرتے ،ہنستے مسکراتے،روتے لڑتے جھگڑتے گزر گیا۔جوانی کی سیڑھیاں چڑھے تو اسکول کو الوداع کر کے کالج پہنچ چکے تھے۔علی نواز الف اے کرنے کے بعد ایک فرم میں منشی لگ گیا۔گل شیرنے ایم ایس سی امتیازی نمبروں سے پاس کر لی تھی۔علی نواز سب سے بڑا تھا اور اسے اس کی کلاس فیلو ہما پسند آگئی۔یہی پسند محبت میں بدلی اور پران چڑھتے چڑھتے شادی کا سندیہ دے گئی۔پھر ایک دن ہما، نواز کی محبوبہ سے بیوی ہمانواز بن کر اس کے آنگن میں خوشیاں لے آئی۔آنگن میں بہا ر کی رُت آگئی تھی۔خوشیاں ہی خوشیاں تھیں ،اس خوشیوں نے یک کے بعد دیگرے دوننھے معصوم پھول دے کر اضافہ کردیا۔علی نواز بہت خوش تھا۔دادی اور دادا بھی خوشی سے پھولے نہیں سما تے تھے۔
اب ماں باپ کو گل شیر کی فکر ستانے لگی تھی۔اس کے سر پہ سہرے سجنے کے خواب دیکھنے لگے۔اس سے پہلے گل نور کی وفات نے ان کو مایوس کر دیا تھا۔لیکن خدا کے آگے کس کا زور چلا ہے۔گل نور کے بچے نانی کے ساتھ شرارتیں کرنے لگے تھے۔شام کو چولہے کے اردگرد محفل سج جاتی۔رشتے کی باتیں ہو نی لگتیں۔گل شیر کے والد کی خواہش تھی کہ اپنے بھائی کی بیٹی کو بہو بنا کر لائے۔اور گل شیر کی ماں اپنی بھانجی لانے کے خواب دیکھ رہی تھی۔کئی بار بہن کو کہہ بھی چکی تھی،اور ادھر سے بھی ہاں ہی تھی۔گھر میں سرد جنگ چھڑ چکی تھی۔مسکراہٹوں سے محفل کا آغاز ہوتا اور جھگڑے پر اختتام ہو تا تھا۔محفل برخاست ہو جاتی اور سبھی اپنے اپنے کمروں میں گھس جاتے۔سرکاری اجلاس کی طرح بغیر نیتجے کے اجلاس کل تک ملتوی ہو جاتا ۔کئی مہینے گزر گئے۔آخر کار گل شیر کا رشتہ طے ہو گیا۔ہاں گل شیر کا شتہ طے ہو گیا۔
******
پولیس مجرم کی تلاش میں سر توڑ کوشش کر رہی تھی۔ابتدائی رپورٹ میں تو موت زہریلی مشروب ،یا کھانے سے ہوئی تھی۔دلہن اور دلہے نے دیسی گھی کی بنی چوری تو کھائی تھی۔جو دیہاتوں میں اکثر لڑکی والے اسپشل بناتے ہیں اور دلہے کو پیش کرتے ہیں۔دلہے کے ساتھ ساتھ اس کے دوست بھی مزے لتیے ہیں اور اس دوران شرارتیں بھی ہوتی ہیں۔چوُری تو لڑکی کی سہلیوں اور لڑکے کی طرف اس کے دوستوں نے بھی کھائی تھی۔اگر اس چوُری میں زہرملا ہوتا تو سبھی پر اثر ہوتا۔دوست ،سہلیاں سبھی ٹھیک ٹھاک تھے۔کہا جا سکتا ہے کہ چوُری میں زہر نہیں تھا،چوُری میں زہر نہیں تھا تو پھر کس میں تھا۔
پولیس نے شک کی بنا کر بھائی اور دلہے کے باپ کو شامل تفشیں کر لیا۔اُدھر دلہن کی خالہ اور ماں اور بہن سے پوچھ گچھ کی گئی لیکن معاملہ بگڑتا چلا گیا۔سبھی تھانے میں سر جوڑے بیٹھے تھے،اسی دوران تفشیی کے عقل نے کام کیا اور فورا بول پڑا رکو ۔۔۔۔۔رُکو۔
شادی میں ایک رسم دودھ پلائی بھی ہوتی ہے ناں۔۔۔۔۔۔۔۔۔تھانیدار نے سر کو کھجلااور تفیشی کو داد دی۔کیس الجھتا جا رہا تھا۔تھانیدار کڑی سے کڑی ملانے میں لگا تھا۔دلہن اوردلہے کو دودھ کس نے پلایا تھا۔؟لڑکی والے گھر تو صرف دلہے کو دودھ پلایا گیا تھا۔اور دودھ دلہن کی بہنوں اور بھتجیوں نے پلایا تھا۔
توبہ توبہ ہم ایسا کیوں کر کریں گی۔میری بہن اور بھائی سہاگ رات کو ہی مارے گئے اور الزام بھی ہم پہ۔۔۔۔۔۔۔۔دلہن کی بہن جو دودھ پلائی میں شامل تھی ،تھانے میں بیٹھی تھی فورا بول پڑی۔۔۔۔۔۔۔۔۔دودھ تو بھائی نے پیا ہی نہیں تھا۔وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔و۔۔۔۔۔ہ ۔۔۔تو سبالے نے پیا تھا۔سبالے نے ۔؟۔۔۔۔۔تھانیدار نے پوچھا اور پھر سبالے صاحب کو بھی شامل تفشش کر لیا۔
سبالا صاحب کسی کام کے سلسلے میں شہر گیا ہوا تھا۔جب واپس آیا تو پولیس نے گاڑی میں بیٹھایا اور تھانے لے آئے۔اس کے رنگ اڑ گئے۔مجھے کیوں لایا گیا ہے۔اس نے تھانیدار سے پوچھا۔
جانتے ہو دلہا اور دلہن پہلی رات کمرے میں مردہ پائے گئے اوران کی موت زہردینے سے ہوئی ہے۔دلہن کے گھر دودھ پلائی کی رسم ہوئی تھی ،کیا دودھ آپ نے پیا تھا یا دلہے نے پیا تھا؟صاحب جی !گل شیر نے سارے کا سارا دودھ مجھے پلایا تھا۔اسی خوف سے کہ کسی نے شرارت کرکے اس میں موشن والی گولیاں نہ ملا دی ہوں۔کہیں کام گڑبڑ نہ ہو جائے اور باراتیوں کے سامنے شرمندگی نہ ہو۔وہ تودودھ سے بھر ا پورا گلاس میں نے پیا تھا۔
تھانیدار،ماتھے پر ہاتھ رکھے گہری سوچوں میں کھوسا گیا۔اسکا دماغ کام نہیں کر رہا تھا۔آخر یہ قتل کیسے ہوئے؟جب سے اس نے اس علااقے میں چارج سنبھالا تھا ،اس نوعیت کا پہلا کیس تھااور وہ بھی الجھتا جا رہا تھا۔جس کا سر پاؤں ہی نہیں مل رہا تھا۔اس سے بھی مشکل مشکل کیس لمحوں میں نمٹ گئے تھے۔اور یہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
*******
گل شیر کا کردار بھی ٹھیک تھا،کسی سے کوئی دشمنی بھی نہیں تھی۔گل شیر کے کالج یونیورسٹی کا ریکارڈ بھی طلب کیا جا چکا تھا۔کوئی اس کا افئیر بھی نہیں تھا۔کسی سے فلرٹ بھی نہیں کیا تھا۔تھانیدار کی سوچ نے رُخ بدلا۔جدید دور ہے عاشقی معشوقی کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ہوسکتا ہے دلہن کا کسی لڑکے کے ساتھ افیئر چل رہا ہو۔۔۔۔۔۔۔اور اس کی شادی گل شیر کے ساتھ زبردستی کر دی گئی ہو۔عاشق نے بے وفائی کا بدلہ لیا ہو ،اور اس مد میں دُلہن کو اس کے ہم سفر کے ساتھ موت کا تحفہ دیا ہو۔مگر کسیے؟لیکن گل شیر اور دلہن کا افیئر سامنے آیا تھا دونوں ایک دوسرے کوچاہتے تھے۔یونیورسٹی میں اکٹھے پڑھتے تھے اور گھر سے اکھٹے جاتے آتے تھے اور دونوں کزن بھی تھے۔تھانیدار نے تمام کوششیں بروکار لائیں مگر۔۔۔۔کسی نیتیجے پر نہ پہنچ پایا تھا۔دن گزرتے جا رہے تھے۔معاملہ جوں تا توں تھا۔تھانیدار کے پاس ایسے قتل کا کیس پہلے کبھی نہیں آیا تھا۔اس کے لئے کسی چیلنچ سے کم نہیں تھا۔تفشیشی بھی سر توڑ کوشش کر چکا تھا۔کسی پہ شک نہیں رہا تھا۔جن پہ شک تھا شامل تفشش ہو چکے تھے۔کوئی ایسا سراغ بھی نہیں ملا تھا ،نہ ہی کوئی ثبوت تھا۔نہ خون ،،،نہ زخم ۔جیسے کسی آسمانی طاقت نے سبھی ثبوت مٹادئیے ہوں۔
******
گل شیر کے والد کا سکہ پورے گھر پر چلتا تھا۔مہنیوں پہلے چھڑی سرد جنگ ختم ہو چکی تھی اور گل شیر اپنی کزن علیزہ کو اپنا بنانے میں کامیاب ہو گیا تھا۔آخر کئی سالوں سے ایک دوسرے کو چاہتے تھے۔گل شیر نے باپ کا ساتھ دیا اور اپنے دل کی بات بلاخوف باپ کو کہہ دی۔باپ بھی خوش ہو گیا۔اسی طرحدو پریموں کا رشتہ طے ہوگیا۔مٹھائیاں بانٹی گئیں۔جب یہ مٹھائی گل شیر کی خالہ کے گھر پہنچی تو وہ آگ بگولہ ہو گئی۔اس نے نہ تو مٹھائی لی اورنہ ہی مبارک باد کے دو بول پیش کئے ۔اسے تو شدید جھٹکا لگا تھا۔میری بہن نے مجھے دھوکہ دیا۔مجھ کو دھوکہ دیا۔اپنوں کا خون اس طرح سفید ہو جائے گا۔اپنے یوں بھی ذلیل کرتے ہیں۔میری بہن نے میری بیٹی کو برباد کر دیا۔ہمیں بے عزت کردیا۔میری بیٹی کسی سے کم تو نہیں تھی۔اب میں ماتھے پہ لگا داغ کسیے دھو پاؤں گی۔اس کے من میں جو آیا ۔لفظوں میں آگ کے گولے بنا کر اُگل دیا۔اُس نے بہن کو بلوا بھیجا۔شام دھیرے دھیرے اتر رہی تھی۔پرندے اپنے اپنے گھونسلوں میں جا چکے تھے۔سورج آرام کرنے کے لئے میھٹی نیند کے مزے لینے چلا گیا تھا۔
گل شیر کی ماں ناراضگی ختم کرنے اپنی بہن کے ہاں چلی گئی۔علیک سلیک تو ہوئی ،مگر نفرت کی آگ پھڑک رہی تھی۔بہن نے بہن کو قائل کرنا چاہا۔میں مجبور ہوگئی تھی۔بہت زور لگایا مگر ناکام رہی۔۔۔۔جو کچھ اس کے ساتھ ہوا بہن کو کہہ ڈالا۔نفرت کی آگ ذرا کم ہوئی ۔پھر دونوں نے ایک ٖفیصلہ کر لیا۔دونوں راضی ہوگئی۔ایسا فصیلہ کہ روح کانپ اٹھے۔آسمان خاموش سروں پر کھڑا سن رہا تھا۔رنجشیں ختم ہو گئییں اور گل شیر کی خالہ شادی میں ہنسی خوشی شادی کی تیاری میں جت گئی۔گل شیر کی ماں فصیلہ کر چکی تھی اور اب اس پر عمل کر نا باقی تھا۔اُس نے آنے والی نئی نویلی بہو کو تسلیم نہ کرنے کی ٹھان لی۔اندر ہی اندر اپنے پلان کو پایہ تکمیل پہنچانے کی تگ و دو کرنے لگی۔گھر آکر اپنے بڑے بیٹے کو ساتھ ملایا۔پھر انسان ہی انسان کا دشمن بن گیا۔رشتوں کی پہچان جاتی رہی۔دولت کی خمیاری نے اندھا کردیا۔زمیں پھٹی نہ آسمان رویا۔نہ تقدیر کو ترس آیا۔کاتب تقدیر۔۔۔۔۔۔۔۔قسمت کا حال لکھ چکا تھا۔فرشتے خاموش تھے ۔خلقت خاموش تماشائی بنی ہوئی تھی اور ایک ماں نے اپنے بیٹے کو شادی کی پہلی رات،ارمانوں کی رات،خوابوں کے تانے بانے بُننے کی رات کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔اور ڈرامائی اندازمیں بین کرنے لگی۔
******
تھانیدارسر توڑ کوشش کر چکا تھا۔لیکن کوئی خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آئے تھے۔ہر شہر ،گلی محلے میں خبرجنگل میں آگ کی طرح پھیل چکی تھی کہ شادی کی پہلی رات دلہن اور دلہے کو زہر دے کر مار دیا گیا ۔سبالے صاحب ابھی تک تھانے میں موجود تھے۔گہری سوچوں میں غوطہ زن تھا۔پھر اچانک بول پڑا۔صاحب ٹھہرئیے۔یہ زہر۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔دودھ۔۔۔۔۔۔۔۔ہاں ایک منٹ۔دلہن اور دلہے کو دودھ دیا گیا اور اس میں زہر ملا ہوا تھا۔یہ دودھ پھر رات گئے گل شیر کی ماں نے پلایا تھا۔پلایا نہیں بلکہ ان کے کمرے میں رکھاتھا۔ہاں جب دلہن اور دلہا باراتیوں کے جھرمٹ میں صحن میں بیٹھے سلامیاں وصول کر رہے تھے۔میں اٹھ کر ان کے کمرے میں آیا۔اس وقت مجھے اماں جی دروازے میں ملی،جو کچھ اندر رکھ کر واپس پلٹ رہی تھی۔میں بیڈ کے ساتھ رکھی اپنی کتاب اٹھانے گیا تھا جو چند لمحے پہلے وہاں رکھ کر بھول گیا تھا۔بیڈ کے ساتھ جگ اور گلاس رکھا تھا اوردودھ سے ہاف بھر اہوا تھا۔شایدیہی دودھ انہوں نے پیا ہوگا او ر یہ دودھ اماں جی نے ہی رکھا ہوگا۔کوئی اور کمرے میں نہیں جا سکتاتھا۔سبالے صاحب کی باتوں میں دم تھا اس سے کیس کا رُخ تبدیل ہوا اور تھانیدار بھی ششدر رہ گیا۔ایک ماں بھلا اپنے جوان لخت جگر کو کیسے زہر دے کر مار سکتی ہے۔وہ بھی جب خوابوں کو تعبیر ملنے والی تھی،سہرے سجے تھے۔میں کھڑا سوچ رہاتھا۔تھانیدارنے اماں جی کو عیحدہ کمرے میں لے جانے کو کہا اورلیڈی کانسٹیبل نے اسے اندر لے جانا چاہاہی تھا کہ اماں جی سیینہ کوبی کرنے لگی۔آنکھوں سے اتھرو ٹپک رہے تھے اور وہ کہہ رہی تھی۔ہاں میں نے اپنی خوشیوں کا گلہ خود ہی گھونٹ دیا ہے۔میں نے اپنے بیٹے کو مار دیا ہے۔میں نے ان دونوں کو زہر دیا ہے۔میں نے اپنی انا کا بدلہ لیا ہے۔لیکن مجھے خبر نہیں رہی کہ اپنی خوشیوں کا قتل بھی کر رہی ہوں۔میں اپنی بہن کے ساتھ وعدہ کر چکی تھی اور یہ زہر مجھے میری بہن نے ہی لے کر دیا تھا۔میری آنکھوں پر حسد کی پٹی بندھ گئی تھی۔میں ضمیر فروش ہو گئی تھی۔مجھے میری انا نے مار ڈالا اور میں نے اپنے ہی ہاتھوں اپنے ہی نشمین کا آگ لگا دی۔میں نے اپنے ہی ہاتھوں ،اپنے ہی خون کو ،اپنے بیٹے کو مار ڈالا۔میں مجرم ہوں ۔مجھے سزا ملنی چاہیے۔مجھے سزا دو۔ہاں مجھے سزا دو۔
*******
اماں جی نے سبھی کاروائی من وعن سنا دی تھی۔اُس کے بعدعلی نواز،اس کی ماں او ر خالہ کو سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا۔گل شیر کا باپ اپنے اجڑے آشیانے کو حسرت بھری نظروں سے تکے جا رہا تھا۔سب کچھ انا کی ،بھنیٹ چڑھ گیا ۔اپنا آشیانہ جل گیا ۔
میں گل شیر کے باپ کے ساتھ کھڑاسوچ رہا تھا کہ بھلا ایک ماں اپنے بیٹے اور بہو کو کیسے مار سکتی ہے۔جس نے بچپن سے لے کر جوانی تک نازوں سے پالا ہو،زچگی کی تکلیفیں برداشت کی ہوں۔اُ س کے نخرے اٹھائے ہوں،انگلی پکڑ کر صحن میں پاؤں پاؤں چلنا سیکھایا ہو،جس نے بولنا سیکھا یا ہو۔جس نے آنکھوں میں سہر ے باندھنے کے خواب سجائے ہوں ،گھر میں بہو لانے کی تمنا ہو وہ بھلا اپنے ہاتھوں اپنی خوشیوں کا گلہ کیسے گھونٹ سکتی ہے۔جس نے قتل کیا وہ ماں نہیں تھی۔ایک عورت تھی۔عورت ہی عورت کی دشمن ہے اور ہر فساد کی جڑ عورت ہی ہے۔کبھی حسد کی آگ میں جل جاتی ہے کبھی نفرت کے لاوے میں بہہ جاتی ہے۔کبھی دولت پر مر مٹی ہے۔ماں کبھی بھی بے رحم نہیں تھی۔دور جاہلیت میں بھی ماں نے اپنے بچوں کو نہیں مار تھا اب اتنی ترقی کر کے کیسے مار سکتی ہے۔ہاں ماں کبھی قاتل نہیں ہوسکتی ہے۔یہ قتل حسد کی آگ میں جلی بھنی،نفرت کی چکی میں پسی،انا کی غلام عورت نے کیا ہے۔ماں تو اپنے بچوں پر جان نچھاور کرتی ہے،جان نہیں لیتی،آپ کا کیا خیال ہے۔ضرور بتائیے گا۔

والسلام!۔
مجیداحمد جائی03017472712
ظہورسویٹ اڈا بلی والا،مین بہاول پور روڈ موضع بلی والا تحصیل وضلع ملتان شریف

1,432 total views, 3 views today

Short URL: //tinyurl.com/jfks93n
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *