ماں کا قرض۔۔۔۔ افسانہ نگار: مجیداحمد جائی،ملتان

Print Friendly, PDF & Email

عدیل نے ایک متوسط گھرانے میں آنکھ کھولی۔اُس کے پیدا ہونے کے چند ماہ بعد ہی اس کے والد وفات پا گئے۔اُس کی ماں نے بڑی چاہا سے،محبت سے ،پیارسے اُس کی پرورش کی۔اُسے ماں ،باپ دونوں کا پیار دیا۔باپ کی کمی محسوس نہ ہونے دی۔اُسے اسکول پڑھایا،شعور وآگہی کی تمام سیڑھیاں عبور کرائی۔یہاں تک کہ وہ پڑھ لکھ کر بڑا آدمی بن گیا۔خود بھوکی پیاسی رہتی مگر بیٹے کو کبھی بھوک نہیں آنے دی۔اُس کی ہر خواہش پوری کی۔اچھے سے اچھا کھلایا۔خود دُکھ تکلفیں برداشت کیں مگر بیٹے کو اس قابل بنا دیا کہ وہ دُنیا میں اچھی زندگی گزار سکے۔
عدیل کے سر پر سہرا بھی سجا دیا،یوں اس کے خواب بیٹے کے سر پر سہرا سجانے کے پورے ہو گئے اور بہو گھر آگئی۔مگر آنے والی بہو نے ساس کو اہمیت نہیں دی اور اُسے شکایت ہونے لگی۔بہو جدید زمانے کی ماڈرن لڑکی تھی اور وہ بیچاری پرانے زمانے کی سیدھی سادی سی خاتون تھی۔ہاں البتہ نمازی،پرہیز گار ،ہر وقت اللہ اللہ کرنے والی عورت تھی۔
بہو کہتی یہ پرانے زمانے کی بوڑھی عورت ہے۔ہمارے معیا ر کی نہیں ہے۔ہمیں لوگوں کو بتاتے ہوئے ،سہیلیوں کو بتاتے ہوئے شرم آتی ہے۔کہ یہ ان پڑھ میری ساس ہے
عدیل کی ماں کو بیٹے پر بڑا ناز تھا۔لیکن بیٹا بھی زمانے کے رنگ میں رنگین ہو گیا تھا۔اُسے بھی زمانے کی ہوا لگ گئی تھی۔خون سفید ہو گیا تھا۔بغاوت کی آگ نے زور پکڑ لیا تھا۔بیٹا بھی بیوی والی زبان بولنے لگا۔
ایک دن تو حدہی ہو گئی۔صبح سویرے غصے میں لال پیلا ہو رہا تھا۔ماں مصلیٰ پر بیٹھی تسبیح کر رہی تھی۔ماں کے پاس آتے ہی کہنے لگا۔اے ماں !خدا کے لئے ہماری جان چھوڑ دو۔۔۔۔۔کتنا زہر آلودہ جملہ تھا۔کتنا غضب ناک جملہ تھا جو اُس سیدھی سادی سی ماں کی رگ رگ میں زہر بن کر اُتر گیا۔اُس کی روح تک زخمی ہو گئی۔وہ کانپ اُٹھی۔اولاد اِس حد تک بھی جا سکتی ہے۔اُسے یقین نہیں آرہا تھا۔ماں شاید کچھ کہتی مگر بیٹاانگارے اُگل رہا تھا۔
ماں میں اکثر تمھاری زبان سے سنتا رہتا ہوں کہ تم نے میرے لئے بڑے دُکھ درد،تکلیفیں برداشت کی ہیں۔آج سب بتا دو تاکہ تمھارے سارے قرض ایک ہی بار اُتار دوں۔
ماں کی آنکھیں بر س رہی تھیں۔آنسوؤں کا سیلاب اُمڈ آیا تھا۔ماں نے سوچوں کی وادی میں غوطہ لگایا۔بیٹا بولتا رہا،ووہ خاموش رہی۔صبر کرتی رہی۔ہمٹ سے اُس کی بات سنتی رہی ،جب وہ خاموش ہوا تو کہنے لگی بیٹا!
حساب ذرا لمبا ہے۔سوچ کر بتاؤں گی
بیٹے نے غرور،تکبر سے کہا،کوئی جلدی نہیں دوچاردن میں بتا دینا۔اُس کے خیال میں ماں بہت سی رقم مانگے گی اور میں پل بھر میں ادا کردوں گا۔
سارا دن گزر گیا ،ماں سوچتی رہی اور آخر رات ہو گئی۔سبھی سو گئے۔اُس بیچاری کو نیند نہیں آرہی تھی۔وہ چارپائی سے اُٹھی اور ایک لوٹے میں پانی بھر لائی۔دھیمے دھیمے قدموں کے ساتھ بیٹے کے کمرے میں چلی گئی۔وہ مزے کی نیند سو رہا تھا۔جہان وہ سو رہا تھا،ماں نے اُس کی دائیں طرف پانی ڈال دیا۔بیٹے نے نیند میں بائیں طرف کروٹ بدلی۔ماں نے بائیں طرف بھی پانی ڈال دیا۔غرض وہ جدھر کروٹ لیتا اُسی جگہ پانی ڈال دیتی۔بستر گیلا ہونے کی وجہ سے ہبلا کر اُٹھ بیٹھا۔آنکھ کھلی تو سامنے ماں کو کھڑے پایا۔حیرت سے اُس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی۔بے اختیار بول پڑا۔آپ اور یہاں،اس وقت اور یہ کیا کر رہی تھی۔یہ کیا تماشا ہے؟
ماں نے بڑے صبر سے جواب دیا۔
بیٹا!تونے مجھ سے ساری زندگی کا حساب مانگا تھا ناں،میں وہی حساب لگا رہی تھی کہ میں نے کتنی بے چین راتیں اس حال میں گزاری ہیں۔جب تو بستر گیلا کر دیتا تھا،سردیوں کی راتیں بھی ہوتی تھی۔میں گیلے بستر پر لیٹ جاتی اور تجھے خشک بسترپر سُلاتی تھی۔
یہ تو پہلی رات تھی۔ابھی تو حساب باقی ہے۔اور تو ابھی سے گھبرا گیا ہے۔میں نے تو حساب شروع ہی نہیں کیا۔تو کیوں حیرت میں ڈوب گیا ہے۔
ماں کی باتیں سن کر بیٹے کا دل موم ہو گیا۔وہ تو یہی کہہ کر کمرے سے باہر آگئی تھی۔لیکن عدیل ساری رات سو نہ سکا۔وہی بیٹھا ساری رات سوچتے ہوئے گزار دی کہ انجانے میں مجھ سے کتنی بڑی غلطی سر زد ہو گئی ہے۔ماں کا قرض تو وہ چیز ہے جسے زندگی بھر بھی نہیں اُتار ا جا سکتا۔۔اب اُسے عقل آچکی تھی۔وہ معافی مانگنا چاہتاتھا،مگر ماں سو چکی تھی۔لیکن وہ نہ سو سکا
صبح صادق ہوئی تو ماں نے مصلیٰ بچھایا اور ب تعالیٰ سے التجائیں کرنی لگی ۔اپنے رب کو یا د کرنے لگی۔اُس کی حمد ثنا کرنے لگی۔ماں کو خبر تک نہیں تھی کہ کب عدیل اُس کے کمرے میں آیا تھا۔وہ تو اُس نے سلام پھرا تو عدیل ماں کے قدموں میں گِر گیا اور معافی مانگنے لگا۔روتے روتے اُسے ہچکیاں لگ گئی تھیں۔اُسی اپنی غلطی کا احساس ہو گیا تھا۔اُس نے توبہ کر لی تھی۔
مائیں تو ہوتی ہی رحمدل ہیں۔کب برداشت کرتی ہیں کہ انکا بچہ کسی مشکل میں ہوں،کسی دُکھ میں گرفتار ہوں۔فورا معاف کردیا۔عدیل کو سینے سے لگا لیا۔عدیل ندامت کے آنسو بہا رہا تھا اور ماں پیارسے ماتھا چوم رہی تھی۔
دوستو!ہمیں بھی خیال رکھنا چاہیئے کہ کہیں ماں باپ کی نافرمانی تو نہیں کر رہے۔ماں باپ ناراض ہیں تو رب تعالیٰ بھی ناراض ہے۔جب تک والدین راضی نہیں ہوتے وہ نیلے آسمان والا بھی راضی نہیں ہوتا۔اپنے ماں باپ کا کبھی بھی دُکھنا۔

Short URL: http://tinyurl.com/gnofze7
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *