مان

Print Friendly, PDF & Email

مغرب کی آذان میں تھوڑا وقت رہ گیا ھے ماہن ٹیبل پر افطاری کب لگے گی ‘‘ عارفہ نے جائے نماز سے اٹھتے ھوئے ٹی وی کے سامنے بیٹھی افطار پروگرام دیکھتی ماہن سے سوال کیا جو ٹی وی پر آنے والے پروگرام کو ایسے دیکھ رھی تھی جیسے ٹی وی زندگی میں پہلی بار دیکھ رھی ھو
’’اماں شاہ زین نے کہا تھا آج ھم افطار باہر کریں گے اس لئے میں نے آج افطاری میں کچھ نہیں بنایا ‘‘۔
ماہن نے ٹی وی پر سے نگاہیں ہٹائے بنا انھیں جواب دیا
’’ حد ھو گئی ھے کچھ بنا ھی نہیں ھے گھر میں ماہن کب تم میں احساس ذمہ داری آئے گا آذان میں پون گھنٹہ رہتا ھے اور شاہ زین ابھی تک آفس میں ھے اور تم یہاں بیٹھ کر یہ انتیظار کر رہی ھو کے کب میاں آئے اور تم سر پر آنچل ڈال کر اس کے ساتھ باہر افطاری کرنے جاؤ اس گھر میں تمھارے او زین کے علاوہ بھی لوگ رہتے ھیں جو اللہ کی عبادت بھی کرتے ھیں اور روزہ بھی رکھتے ھیں وہ کیا کریں گے افطار میں کیا خالی پانی پی کر روزہ افطار کریں گے اور جو گیٹ پر واچ میں بیٹھا ھے وہ کہاں جائے گا افطار کرنے کیا مسجد جائے گا وہ آج روزہ کھولنے کے آج ھماری بیگم صاحبہ کو صاحب کے ساتھ افطار ڈنر میں گھر سے باہر جانا تھا تو آج گھر میں افطاری کی چھٹی تھی ‘‘
ماہن کی بات سن کر عارفہ اس پر ناراض ھونے لگیں ماہن نے اپنی انگلی دانتوں تلے دبا لی اور اپنے سر پر خود ھی ایک ھاتھا مارا اور اپنی عقل کو کوسنے لگی
’’ واچ مین کاا تو میں نے سوچا ھی نہیں تھا اماں خیر ابھی آدھا گھنٹہ ھے میں یوں ایک منٹ میں سب کر لوں گی فٹا?فٹ‘‘ ماہن نے چٹکی بجاتے ھوئے کہا اور تیزی سے اٹھ کر کچن میں آگئی۔
’’ابب میں واچ میں سے بھی گئی گزری ھو گئی کے میری بہو کو میری افطاری کی نہیں واچ مین کی افطاری کی فکر ھے آج آجائے شاہ زین بات کرتی ھوں اس سے کے اپنی بیوی کو کچھ سیلقہ تو سیکھا لے ‘‘
عارفہ پوری جان سے ماہن کی بات پر جل گیءں تھیں انھیں رہ رہ کر ماہن پر غصہ آرھا تھا جبکہ ماہن اس بات سے بے خبر شریفاں کے ساتھ مل کر افطاری بنانے میں مگن تھی۔
’’ آج اتنی کم افطاری کیوں بن رھی ھے چھوٹی بی بی کیا صاحب نہیں آئیں گے افطار پر ‘‘
شریفاں نے ماہن کو تھوڑی افطاری بناتے دیکھ کر سوال کیا
’’ تم جلدی سے فروٹ کاٹو شاہ زین آتے ھی ھوں گے آج ھم افطار باہر کٰریں گے تم یہ پکوڑے تلو میں شاہ زین سے فون کرکے پوچھتی ھوں کہا رہ گئے ھیں ‘‘
اتنے میں شاہ زین کی کار کا ہارن بجا
’’شاہ زین آگئے تم جلدی سے یہ افطاری واچ میں کو دے آؤ اماں شاہ زین آگئے ھیں جلدی آجایئے ‘]
ماہن نے عجلت میں کچن سے نکلتے ھوئے اماں کو پکارا جو اب قرآن کی تلاوت کر رہیں تھیں انھوں نے ماتھے پر بل ڈال کر ماہن کو دیکھا۔
’’ اب کیا شاہ زین گھر کے باہر ہی باہر سے چلا جائے گا افطاری کرنے ماں سے بات بھی نہیں کرے گا اندر آکر ‘‘
انھوں نے ماہن سے کہا تو وہ انھیں دیکھنے لگی شاہ زین ہارن بجا رہاتھا اسے جب بھی آفس سے واپسی پر ماہن کے ساتھ کہیں جانا ھوتا تھا وہ اندر آکر پہلے عارفہ کے پاس بیٹھتا تھا ایسا آج پہلی بار ھوا تھا کے وہ باہر کے باہر سے جا رھا تھا

’’ اماں دیر ھو رھی ھے اس لئے اندر نہٰیں آرھے ھوں گے اور آپ ابھی تک ایسے ھی بیٹھی ھیں چلیئے نا وہ پہلے ھی دیر سے آئے ھیں ابھی راستے میں اتنا ٹریفک ھو گا آپ باقی باتیں رستے میں کر لجیئے گا نا اب اٹھیئے میں قرآن پاک رکھ کر آتی ھوں ‘‘
وہ قرآن پاک اٹھا کر انکے روم کی جانب بڑھی عارفہ کچھ نہ سمجھ میں نے والے انداز میں بہو کو الجھی نظروں سے دیکھ رہیں تھیں
’’ تو میں کہا جارھی ھوں جا تو تم دونوں رھے ھو ‘‘
وہ ماہن سے بولیں تو اس نے رک کر انھیں دیکھا اور مسکرادی
’’ میری بھولی اماں اس گھر میں میرے آپ کے اور شاہ زین کے علاوہ ھے کون جو ھم افطار پر آپ کو گھر میں اکیلا چھوڑ کر جائیں گے اب اگر نگین آپی اور تسکین اپنے سسرال والی نہ ھوتیں تو بھی میں اور شاہ زین اکیلے افطار پر باہر کبھی نہیں جاتے آپ بھی ھمارے ساتھ جائیں گی اب جلدی سے اٹھئے آپ نہیں تو شاہ زین نے ہارن بجا بجا کر پورا محلہ اکھٹا کر لینا ھے ‘]
وہ شاہ زین کے بار بار ھارن بجانے سے تنگ آکر بولی تھی عارفہ بہوکی بات پر خوش ھوتے ھوئے ان کے ساتھ افطار کے لئے چلی آئیں تھیں۔ اس نے فرنٹ سیٹ پر عارفہ کو بٹھایا تھا اور خود پچھلی سیٹ پر بیٹھتے ھوئے شریفاں کو بھی ساتھ بٹھا لیا تھا جس پر عارفہ نے اسے گھور کر دیکھا تھا۔
افطاری میں ٹیبل پر ماہن نے شریفاں کو بھی ساتھا بٹھایا ھوا تھا اس کی یہی بات عارفہ کو ناگوار گزرتی تھی کے وہ کھانے کی میز پر گھر میں بھی شریفاں کھانے کی ٹیبل پر انن کے ساتھ ھی بیٹھتی تھی اسی بات پر ماہن کا اختلاف عارفہ اور شاہ زین سے رہا کرتا تھا دونوں کا ماننا یہ تھا کے نوکر کو کبھی مالک کے ساتھ برابری کا درجہ نہیں مل سکتا جبکہ ماہن کا کہنا تھا کہ نوکر بھی انسان ھونے ھیں جب ھم ان کے ھاتھ کا پکا کھا سکتے ھیں تو وہ اسی کھانے کی ٹیبل پر ھمارے ساتھ بیٹھ کر دسترخوان شیئر کیوں نہیں کر سکتے اور یہی بات گھر میں اکثر جھگڑے کی وجہ بنا کرتی تھی ماہن صاف دل کی مالک تھی اور وہ گھر میں کام کرنے والے ملازمیں کو گھر کے افراد کی طرح سے ٹریٹ کرتی تھی شاہزین اس کی اسی بات پر اس سے نالا ں رہا کرتا تھا پر ماہن اسے اپنی باتوں سے قئل کر لیا کرتی تھی
افطار کے بعد ماہن نے شاہ زین سے شاپنگ کی فرمائش کر دی تھی
’’ شاہ زیں میری شاپنگ رہتی ھے اگر ابھی چاند ھو گیا تو رات میں دوبارہ آنا پڑے گا اور رش مٰں مجھے کچھ بھی سمجھ نہٰن آتا ھے ‘‘
’’تمھیں سب کا م آج ھی کرنے ھیں پورے رمضان میں کیوں نہیں کی شاپنگ ‘‘
شاہ زین نے بیک مرر سے اسے دیکھتے ھوئے کہا
’’ اتنی گرمی ھے مجھ سے نہیں نکلا جاتاروزے میں باہر ابھی شاپنگ کروانے میں کوئی حرج ھے کیا ؟
نہیں کوئی حرج نہیں ھے اماں کو تھکانے کا پورا پلا ن کر کے آئی ھو آج تم ‘‘
شاہ زین نے کہا تو عارفہ نے اسے دیکھا
’’ میں کہیں نہیں جا رھی ھوں تم لوگوں کو جہاں جنا ھے جاؤ پہلے مجھے گھر ڈراپ کر دو ‘]
’‘’ آپ میرے ساتھ شاپنگ نہیں کریں گی اماں بڑا مزہ آتا ھے چاند رات مٰں شاپنگ کا قسم سے آپ چلیئے تو میرے ساتھ واپسی میں ھم ڈنر بھی ھوٹل میں کرٰیں گے ‘‘
ماہن نے عارفہ سے کہا
’’ کیوں مجھے کنگال کرنے کا پلان بنا کر گھر سے نکلی ھو ؟ ::
شاہ زین کو اپنی جیب کی فکر ھوئی
’[ تم اور کنگال۔۔ کبھی ھو نہیں سکتا ‘‘
شاہ زین نے شاپنگ مال کے سامنے گاڑی روکی تو وہ اماں او رشریفاں کے ساتھ گاڑی سے اتر گئی شاہ زین گاڑی پارک کر کے ان کے ھمراہ شاپنگ مال میں آگئی
ماہن اور عارفہ اپنے لئے سوٹ دیکھ رہیں تھیں شریفاں ایک کونے مٰین کھڑی حسرت بھی نظروں سے ان بیش قیمت کپڑوں کو دیکھ رھی تھی شاپنگ کرتے ھوئے ماہن کی نظر شریفاں پر پڑی جو نگاھوں میں حسرت لیے لوگوں کو عید کی شاپنگ کرتا دیکھ رہی تھی اس کے چیرے کے تاثرات دیکھتے ھوئے ماہن نے مسکرا کر شریفاں کو دیکھا اور اپنی شاپنگ میں مصروف ھو گئی واپسی میں ماہن نے کافی سارے شاپنگ بیگ شریفاں کے ھاتھ میں پکڑائے ھوئے تھے
گھر واپسی مٰن کافی دیر ھو گئی تھی چاند کا اعلان ھو چکاتھا عارفہ اسے عید کے دن کا مینو سمجھا رہیں تھیں
’’ اماں آپ بے فکر رہیں سب کام آپ کی مرضی کیمطابق ھو جائے گا آپ نگیں آپی اور تسکین کو فون کر کے انوائٹ کر لیں ‘
‘’ میں عشا کی نماز پڑھ لوں پھر بات کرتی ھوں ‘‘
وہ اٹھتے ھوئے بولیں
اس نے شاپرز اٹھا کر اماں کی جانب بڑھائے
اماں یہ آپ شریفاں کو دے دیں عید کے لئے ‘‘
ماہن کی بات پر عارفہ نے پوری آنکھیں کھول کر اسے دیکھا جیسے وہ پاگل ھو گئی ھے
’’دماغ تو ٹھیک ھے تمھارا اتنے مہنگے سوٹ تم گھر کی ملازمہ کو دینے کو کہہ رہی ھو؟؟‘‘
’’اماں ملازم بھی ھماری طرح کے انسان ھیں اچھے کپڑے کیا صرف ھم ھی پہن سکتے ھیں ھمارے گھر میں کام کرنے والے ملازم کیا انسان نہیں ھوتے ان کے حصے میں ھمارے آگے کا بچا ھوا کھانا اور ھماری اترن ھی کیوں آتی ھے جب وہ تازہ کھانا ھمارے لئے بنا سکتے ھیں تو وہی کھانا وہ کھا کیوں نہیں سکتے ان کے تن پر ھمیشہ اترن ھی کیوں آتی ھے وہ کوئی نیا کپڑا کیوں نہیں پہن سکتے ھمارا مذہب ھمیں برابری اور مساوات کا سبق دیتا ھے تو ھم کیوں اس بات کو بھول جاتے ھیں جو چیز ھم انپے لئے لیتے ھیں وہی چیز ھم ان کے لئے کیوں پسند نہیں کرتے اماں اللہ نے ھمیں بہت نوازا ھوا ھے اور ھمارے کچھ دے دینے سے اس میں کمی نہین آجائے گی آپ پلیز یہ اپنی طرف سے شریفاں کو دے دیں میں بلاتی ھوں اسے شرہفاں۔۔۔ یہاں آؤ۔۔
اس نے شریفاں کو پکارا وہ دوڑی ھوئی آئی اماں نے بادالنخواستہ ماہن کے کہنے پر شاپرز شریفاں کو دئے
’’یہ تمھارے عید کے سوٹ ھیں اور اس لفافے میں تمھاری عیدی ھے ‘‘
شریفاں نے حیرت سے پہلے انھیں پھر ماھن کو دیکھا اس عزت کی اسے ان سے امید نہیں تھی اس کی آنکھٰن خوشی سے بھیگ گئیں اتنی عزت اسے آج تک کسی گھر میں کام کر کے نہیں ملی تھی جتنی اسے ماھن کے اس گھر میں آنے کے بعد ملنے لگی تھی اس نے تشکر بھری نظروں سے ان دونوں کو دیکھا اس کے چہرے کی خوشی دیکھ کر ماہن نے طمانیت بھرا سانس لیا
’[اماں اسے کہتے ھیں اصل خوشی ‘‘اس نے عارفہ سے کہا وہ بنا کچھ کہے اندر چلی گیءں تھیں
انھوں نے اندر جا کر شاہ زین سے اس کی سخاوت کا قصہ سنایا تو شاہ زین نے اپنا سر تھام لیا
’’ آپ کی بہوکی یہی سخاوت مجھے کسی دن کنگال کر کے رکھ دے گی اماں تھوڑی عقل اس کم عقل کو بھی دے دیں سارا دن آپ کے ساتھ ھوتی ھے ‘‘
شاہ زین نے ان سے کہا
’[ بیوی تمھاری ھے جب تمھاری نہٰن سنتی تو میری کیا سنے گی تم ھی سمجھاؤ اسے میں تو سمجھا سمجھا کر تھک گئی ھون مالک اور نوکر میں کچھ تو فرق ھونا چاہیے ]]
وہ اسے کہہ رہیں تھیں
’’ اچھا میں سمجھاؤں گا اسے ‘] وہ یہ کہتا ھوا اپنے روم میں آگیا
ماہن وارڈروب میں اپنے سوٹ رکھ رھی تھی تب ھی وہ اس کے پیچھے آکر کھڑا ھو گیا ماہن نے مسکرا کر اسے دیکھا
’’ ایسے کیا دیکھ رھے ھو؟‘]
تمھیں
کیوں اس سے پہلے دیکھا نہیں ھے کیا ?
ماہن نے پوچھا
نہیں کبھی غور کرنے کا موقع نیہں ملا مجھے تم ہر
وہ بولا
اوکے تو اب غور کر رھے ھو شادی کے اتنے دن بعد
ھاں
اوکے تم یہاں بیٹھ کر ?غور کر میں تمھارے لئے چائے بنا کر لاتی ھوں
اس نے وارڈروب بند کرتے ھوئے کہا
’’ ماہن کیا ضرورت تھی اتنی سخاوت کی اگر تم نے شایفاں کو عید کے لئے سوٹ دینا تھا تو کوئی سستا کم قیمت کا سوٹ بھی دیا جاسکتا تھا اور ایک ساتھ تین تین سوٹ دینے کا کیا سینس بناتا ھے‘‘
وہ بڑے عام سے انداز میں اس سے بات کر رہاتھا ماہن نے اسے دیکھا
’’ ھاں دیا تو جا سکتاتھا پر وہ سوٹ میں نے اسی کے لئے لئے تھے اس لئے اسے ھی دے دیئے تم نے اس کی آنکھوں میں خوشی نہیں دیکھی وہ ان سوٹوں کو لے کر کتنا خوش ھوئی تھی تم دیکھتے اس پل تو اس خوشی کے سامنے ان کپڑوں کی کوئی قیمت نہیں رہ جاتی تمھاری نظروں میں ‘]
ماہن بڑے پر جوش انداز میں بو رھی تھی اورشاہ زین کے چہرے پر ناگواری تھی اسکے تاثرات ماہن نے اچھی طرح دیکھے تھے مگر وہ نظر انداز کر گء اس کی یہ سخاوت شاہ زین کو بھی گراں گزری تھی
’’ گھر کی ملازمہ کا حلیہ تمم سدھارنے چلی ھو کبھی خود کو آئینے میں غور سے دیکھا ھے ک خود تم گھر میں کس حلیے میں رہتی ھو اور گھر سے باہر نکلتے ٹا?ئم بھی تم میں کو ئی خاص چینج نہیں آتا ھے فرق صرف اتنا ھوتا ھے کے بال بنا لتی ھو اور پیروں میں سلیپر ڈال لیتی ھو ’’ کتنی بار سمجھایا ھے تم کو ذرا ڈھنگ سے رہا کرو مگر مجال ھے جو تمھیں کوئی بات سمجھ آجائے ‘‘
وہ ماہن سے الجھ پڑا تھا ماہن نے چند لمحے کچھ نہ سمجھنے والے انداز میں اسے دیکھا پھر سر کو جھٹکتے ھوئے دروازے کی جانب بڑھ گئی تھی جبکہ وہ ماہن کے لاپرواہ انداز پر مذید چڑگیا تھا۔
’’ میں کب تک تم کو انگلی پکڑکر چلاتا رھوں گا کب تک تم کو بتا تا رھوں گا کہ کیا صحیح ھے اور کیا غلط ھے کب تک کسی چھوٹے بچے کی طرح سے ٹریٹ کروں میں تم کو۔۔۔ کب تم کو سمجھ آئے گی ماہن ، کب تم کو اپنی ذمداریاں سمجھ میں آئیں گی کب تم یہ سمجھو گی کہ تم اس گھر کی ایک فرد ھو اس گھر میں مہمان نہیں ھو تم ‘‘۔
وہ ماہن پر ناراض ھو رھا تھا ماہن دروازہ کے پاپ کھڑی اسے دیکھ رھی تھی ماہن نے گہرا سانس لیتے ھوئے اس دیکھا اورروم سے باہر جانے کا ارادہ ترک کرتے ھوئے اس کی جانب بڑھی اور آہستہ روی سے چلتی ھوئی اس کے مقابل آ کھڑی ھوئی
’’ہمممم اب کہو کیا کہہ رھے ھوتم ؟ ‘‘ وہ اب اسے سننے کے لئے پوری طرح سے اس کی جانب متوجہ ھو چکی تھی ’’ اتنی دیر سے میں جو بول رہاتھا وہ کیا میں دیواروں سے بول رہاتھا جو اب میں تمھارے فارغ ھونے پر اب تم سے بولوں ‘‘ وہ بری طرح جل کر بولا تو وہ ہنسنے لگ گئی۔ اور وہ اس کے ہنسنے پر مذید جل بھن گیا تھا
’’ دیکھو ماہن میں ابھی بہت غصے میں ھوں اس لئے تم اپنی ہنسی کی پھلواریاں کسی اور ٹائم کے لئے اٹھا رکھو ‘‘ اس نے ہاتھ اٹھا کر ماہن کو وارن کیا جو مسکراتی نظروں سے اسے دیکھ رھی تھی۔
’’ اوکے تم کہو میں تمھیں سن رھی ھوں ‘‘۔ اس نے مسکراتے ھوئے شازین سے کہا۔
’’ تم کبھی سیریس بھی ھوتی ھو یا نہیں میں جب بھی تم سے کوئی سیریس بات کرنے لگتا ھوں تم ہنسنا شروع ھو جاتی ھو تمھارے نزدیک میری کسی بات کی اہمیت ھے بھی کے نہیں ‘‘
وہ آج کچھ زیادہ ھی بد گمان ھو رہا تھا ماہن نے ہنستے ھوئے اپنا سر تھام لیا تھا اور نفی میں اپنے سر کو ہلا رھی تھی
’’ کیا ھو گیا ھے شازین تمھیں کتنے بدگمان ھوتے جا رھے ھو تم مجھ سے ، تم اچھی طرح سے جانتے ھو مجھے پھر یہ بات کر رھے ھو میں جانتی ھوں کہ میں تمھارے ہائی سوسائٹی کے ہائی پرو فائل سرکل میں مس فٹ ھوں میں نے یہ بات تمھیں اسی وقت بتا دی تھی جب تم نے مجھے شادی کے لئے پروپوز کیا تھا اس وقت تمھیں میری کسی بات پر اعتراض نہیں ھو ا کرتا تھا نہ تمھیں میرا عام سے کپڑے پہننا برا لگتا تھا نا ھی میرا اول جلول حلیہ برا لگتا تھا جب نہ تمھیں میرے بے وجہ ہنسنے پر اعتراض ھوتا تھا نہ اٹھنے بیٹھنے اور کھانے پینے پر اعتراض ھوتا تھا اس وقت تمھیں میری ہر بات ہرہر ادا اچھی لگا کرتی تھی اب شادی ھوتے ھی اچانک تم نے مجھے جینے کے نئے طور طریقے کیوں سیکھانے شروع کر دئیے ھیں کیوں تم مجھے ہر پل یہ بتانے کی کوشش میں لگے رہتے ھو کہ میں تمھارے لائق نہیں تھی کیوں تم مجھ پر یہ جتا رھے ھو کہ میں تمھاری زندگی میں ایگزیسٹ نہیں کرتی میرا کوئی وجود نہیں ھے میں ایک بیکار شے ھوں جسے تم اپنی کوششوں سے کارآمد بنانے کی سعی کر رھے ھو اگر میں اتنی ھی بیکار اور ناکارہ تھی تو تمھیں مجھ سے شادی کرنی ھی نہیں چاہیئے تھی تمھیں تمھاری اس ہائی پروفائل سوسائیٹی میں تمھارے لائق بہت سی لڑکیاں مل جاتیں پھر تم نے میرا ھی انتیخاب کیوں کیا شادی کے لئے ‘‘
ماہن کو بھی اب اس پر غصہ آ گیا تھا آخر کب تک شازین کی جلی کٹی خاموشی سے سنتی رہتی وہ جب خاموش تھی تو خاموش تھی اب بولنے پر آئی تو اس نے سب بول کر اپنے دل کا غبار نکال دیا تھا
َ
’’ اس وقت میری آنکھوں پر تمھاری محبت کی پٹی بندھی ھوئی تھی اس لئے مجھے تمھاری خامیا ں بھی خوبیاں نظر آیا کرتی تھیں مجھے نہیں پتا تھا کہ تم شادی کے بعد بھی ویسی ھی بے ڈھنگی رھوگی جیسی یونیورسٹی لائف میں رھا کرتیں تھیں اگر مجھے ذرا بھی اندازہ ھوتا کہ تم زرا بھی نہیں بدلو گی تو میں یہ حماقت کبھی نہ کرتا ‘‘۔
شازین کے صبر کا پیمانہ کچھ زیادہ ھی لبریز ھو چکا تھا اس لئے وہ سچ پہ سچ بولے جا رہا تھا یہ سوچے بغیر کہ اس کی یہ باتیں سن کر ماہن کو کتنی تکلیف ھو گی۔ شازین کی بات سن کر ماہن کے دل میں چھناک کی آواز سے کوئی چیز ٹوٹی تھی اس نے بہت دکھ سے اسے دیکھا تھا جو مسلسل اس کی شان میں قصیدے پڑھ رھا تھا۔
’’ بہت جلدی نہیں اتر گئی محبت کی پٹی تمھاری آنکھوں سے ‘‘۔ ماہن نے طنز یہ انداز میں اسے دیکھتے ھوئے کہا۔
’’جلدی کہاں اتری ھے میرا اتنا نقصان کر کے اتری ھے شادی سے پہلے اترتی تو کوئی بات بھی تھی اب تو ساری زندگی تمھیں بھگتنا پڑ ے گا مجھے ‘‘
وہ معلوم نہیں کس بات پر اس سے اتنا بدگمان تھا کہ بنا سوچے کچھ بھی کہے جا رھا تھا۔
’’ اگر اتنا ھی افسوس ھو رہاھے تو تم یہاں آرام سے بیٹھ کر افسوس کرو۔۔‘‘ ماہن نے تپے ھوئے لہجے میں کہا اور روم سے باہر جانے لگی۔
’’ میری بات ابھی ختم نہیں ھوئی ھے ماہن۔۔۔۔‘‘ شاہ زین کی آواز نے ماہن کے بڑھتے قدم روک دیئے اس نے پلٹ کر شاہ زین کو دیکھا جو تیز نظروں سے اسے ھی دیکھ رہا تھا ماہن نے اس کی قہر برساتی آنکھوں میں دیکھا اوربلا خوف و خطر اس کی آنکھوں میں دیکھتے ھوئے گویا ھوئی۔
’’ دیکھو شاہ زین ابھی تم بھی غصے میں ھو اور میں بھی ، اگر ابھی ھم بات کریں گے تو بات کم لڑائی زیادہ ھو گی اور ابھی میں تم سے لڑنے کے موڈ میں بالکل نہیں ھوں اس لئے بہتر یہی ھے کے میں تمھارے سامنے سے پٹ جاؤں تاکہ تمھارا غصہ کچھ کم ھو جائے ‘‘۔
اس کے اس جواب پر شازین مذید سیخ پا ھو گیا۔
’’اب تم مجھے یہ بتاؤ گی کے مجھے کب تم سے بات کرنی چاہیئے اور کب نہیں ماہن میری برداشت کا مذید امتحان نہیں لو بہت برداشت کر چکا ھوں میں تمھیں ‘‘۔
شاہ زین کا غصہ عروج پر تھا۔
’’ کون کمبخت برداشت سے باہر ھونے کے لئے بولتا ھے ھم تو بولتے ھیں کہ تم ھمیں سن سکو ھمیں سمجھ سکو مگر تم سے تو ھماری باتیں ھی برداشت نہیں ھو رھی ھیں آگے کیا کرو گے تم۔۔۔۔ شاہ زین تم تو ابھی سے گھبرا گئے ھو ابھی تو زندگی کا آغاز ھو ا ھے تم ابھی سے تھک گئے ھو سفر کے آغاز سفر میں جو تھک جائیں شاہ زین انھیں منزل نہیں ملا کرتی اور اگر میں نے شریفاں کو عید پر چند اچھے سوٹ دے دئے ھیں تو اس میں برائی کیا ھے کیا وہ انسان نہیں ھے اس کا دل نہیں ھے کیا اس کا دل نہیں چاہتا ھو گا اچھے کپڑے پہننے کا کیا وہ نوکر ھو کر اچھے کپڑے پہننے کا حق گنوا چکی اب اس میں اس کا تو کوئی قصور نہیں ھے نا کے وہ ایک ایسے گھر مٰں پیدا ھوئی جہاں زندگی کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے اسے دوسروں کے گھروں کی جھوٹن کھانی پڑتی ھے تن کو ڈھانپنے کے کے مالکوں کی اترن ملا کرتء ھے کیا کویء ایک عید اس کی زندگی کی ایسی نہیں ھو سکتی جس میں وہ اپنے مالکوں کی اترن نہ پہنے ان کے جیسے اچھے کپڑے پہنے اچھے کھانے کھائے کیا غریب بستی کے مکین کبھی اپنی عید کو اچھا نہین کر سکتے رمضان میں جو زکو? تمم نے رفاحی ادارے کو جا کر دی ھے وہ ھی زکو? اگر تم نے شریفاں کی نستی میں جا کر دی ھوتی تو کل اس بستی میں صحیح معنوں میں عید منائی جاتی ‘‘۔
ماہن نے پہلے بات کو مزاح کا رنگ دیا اور پھر سنجیدہ ھوتے ھوئے شاہ زین کو بہت کچھ سمجھا دیا

’’ تمھارا کچھ نہیں ھو سکتا ماہن تم سے کچھ بھی کہنا بیکار ھے تم اپنی غلطی ماننے کی بجئے الٹ مجھے ھی سمجھا رھی ھو ‘‘ وہ افسوس کرتے ھوئے بولا۔
’’ ھممممم میرا واقعی کچھ نہیں ھو سکتا پر تم ایک کام کر سکتے ھو ‘‘ وہ مسکرائی
’’کیا؟‘‘
’’ بات بات پر غصہ کرنا چھوڑ دو اب دیکھوناں تمھارے اس غصے کا کیا فائدہ جواپنی ھی محبت پر کیا جائے شاہ زین محبت سے محبت کی جاتی ھے اس پر غصہ نہیں کیا جاتا اگر تم اپنی ھی محبت پر یوں دن رات غصہ کرو گے تو محبت تم سے بدگمان ھو جائے گی اور محبت میں بدگمانی دلوں میں فاصلوں کو جنم دیتی ھے اور اگر دلوں میں فاصلے آجائیں تو محبت کہیں کھوجاتی ھے اور شاہ زین مجھے تم سے اتنی محبت ھے کے میں تمھیں کسی صورت کھونا نہیں چاہتی پلیز تم مجھ سے تھوڑا ناراض ھو ا کرو زیادہ ناراض نہیں ھوا کرو کیونکہ تمھاری تھوڑی ناراضگی مجھے برداشت ھے مکمل ناراضگی مجھے برداشت نہیں ‘‘
وہ شاہ زین کے دونوں ھاتھ تھامے بڑی محبت سے اس سے التجا کر رہی تھی شاہ زین نے اس کی آنکھوں میں دیکھا جہا ں اس کے لئے صرف محبت ھی تھی اس نے ماہن کا مان رکھ لیا اور مسکرا دیا۔
’’محبتوں میں مان رکھنا کسی کسی کو آتا ھے ماہن اور تم اس فن سے بخوبی واقف ھو تمھیں میری تھوڑی ناراضگی برداشت ھے پر مجھے تمھاری ایک لمحے کی ناراضگی بھی برداشت نہیں ھے میں کبھی تم سے دور جا ھی نہیں سکتا تم سے دور جانا ایسا ھے جیسے جسم کا روح سے جدا ھونا دل میں رہنے والے دل میں ھی اچھے لگتے ھیں اور تم تو میرے دل میں دھڑکن کی طرح دھڑکتی ھو اب تم ھی بتاؤ کوئی کبھی اپنی دھڑکن سے بھی خفا ھو سکتا ھیاور تم کچھ غلط بھی نہیں کہہ رھیں اب کی بار رمضان میں ھم زکو? کی رقم گریب بستی میں جا کر دین گے تاکہ ان کی کوئی عیداچھی ھوجائے یہ بات تم آج چاند رات پر مجھ سے کہہ رھی ھو اگر یہی بات تم نے مجھے رمضان کے پہلے عشرے میں کہی ھوتی تو آج ھم دونوں میں جھگڑا نہ ھوا ھوتاایک آخری بات جو تمسے کہنی ھے ‘
‘کیا؟‘‘ ماہن نے سر اٹھا کر اسے دیکھا
سوری
اس کی ضرورت نہیں ھے
مجھے پتا ھے مگر ایک چیز کی ضرورت ھے
کس چیزکی؟
ماہن نے سوال کیا
I love you
کی
ماہن اس کی بات سن کر ہنسنے لگ گیء بڑی چاہ اور مان سے شاہ زین کے شانے پر سر رکھ دیا شاہ زین نے مسکرا تے ھوئے اسکے گرد اپنے بازو حمائل کردیئے ،کہ یہی زندگی کی خوبصورتی ھے کے اگر ایک غصہ کر ریا ھے تو جواب میں غصہ کرنے کی بجائے بات کو سہولت سے سمجھتے ھوئے سمجھداری سے کیا جائے تو زندگی کا حسن اور رشتوں دونوں کا مان برقرار رہتا ھے اور زندگی محبتوں کی راہگزر پر چلتے ھوئے سہل انداز میں گزر جاتی ھے۔

(ازقلم: فاطمہ حسینی)

 849 total views,  2 views today

Short URL: http://tinyurl.com/jadtwtf
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *