اسماء طارق جان کی اب کوئی مانگ نہیں جان کی اب کوئی مانگ نہیں ہتھیلی پہ رکھ کہ جلتا ہوں کیا خبر کب چھین لی جائے اسی ڈر سے زور... 20 January 2019
اسماء طارق جاناں تم سے محبت بھی ضروری ہے جاناں تم سے محبت بھی ضروری ہے مگر یہ شرط بھی ضروری ہے تمہیں اپنا بنانا بھی ضروری ہے مگر یہ بتانا... 17 January 2019
اسماء طارق یہ دنیا نے بھی عجیب رسم باندھی ہے یہ دنیا نے بھی عجیب رسم باندھی ہے مار کے کہتی ہے کاش اور جی لیتا جو زندہ ہیں تو قدم... 7 January 2019
اسماء طارق اسے کرنا ہی نہیں تھا اعتبار مجھ پہ اسے کرنا ہی نہیں تھا اعتبار مجھ پہ میرے خلوص میں وگرنہ کمی تو نہ تھی وہ لوٹ گیا مجھے... 30 December 2018
اسماء طارق حاکم کے سر پہ تاج ہے حاکم کے سر پہ تاج ہے محکوم پاؤں کی خاک ہے تو نے دیکھی ہو گی جسموں کی غلامی، یہاں... 23 December 2018
اسماء طارق پہلے پل پل کی خبر رکھتے تھے جنکی پہلے پل پل کی خبر رکھتے تھے جنکی اب زمانہ گزر گیا ہے ان کی خبر لیے ہوئے ... 23 December 2018
اسماء طارق کسی خواب کی تعبیر ہوں میں کسی عزم کی تکمیل ہوں میں کسی داستان کا مرکزی خیال ہوں میں کسی کردار کا مکمل حوالہ ہوں میں کہیں آغاز کہیں ... 23 December 2018
اسماء طارق راستے گہرے الجھے ہیں راستے گہرے الجھے ہیں چلو گھر چلتے ہیں قدم اٹھتے نہیں اب چلو گھر چلتے ہے لاحاصل کی جستجو نہیں... 15 December 2018
شاعری غزل: روٹھی ہوئی اس سے زندگانی دیکھی نہیں جاتی روٹھی ہوئی اس سے زندگانی دیکھی نہیں جاتیآنکھوں میں ٹہری ہجر کی کہانی دیکھی نہیں جاتی سہمی سی رہتی ہے... 26 October 2018
اسماء طارق کوڑا کرکٹ شاعرہ: اسماء طارق شہر شہر بن رہا ہے کوڑا کرکٹ کی آماجگاہسڑکوں پر جگہ جگہ ہے جس کا راج وہ ہے... 9 September 2018