عذاب مسلسل

Print Friendly, PDF & Email

افسانہ نگار: مجیداحمد جائی، ملتان


تنہائی مجھے ڈسنے کو آتی ہے ۔کال کوٹھری کے درودیوار وحشت زدہ کسی درندے کی طرح کانٹنے کو تیار کھڑے ہیں ۔تاریکی میں خوف کے سائے اور بڑھ جاتے ہیں ۔میں سنٹرل جیل کی بیرک نمبر چار میں مقید ہوں۔یہاں کی روداد سُنانے بیٹھ جاؤں تو سر شرم سے جُھک جائے ۔عورت ذات کے ساتھ بہمانہ سلوک ذہنی ،جسمانی تشدد ۔۔۔۔اُف !جیسے میں درندوں میں پھنس گئی ہوں۔۔۔ہر طرف وحشی درندے ہی درندے ہیں۔جسموں کو نوچنے والے ۔۔لمحوں کی تسکین کے لیے عمر بھر کا روگ پالنے والے ۔۔۔عمر بھر کا روگ ۔۔۔۔۔؟ایک ایسا ہی روگ میں نے بھی پا ل لیا تھا۔۔۔۔
میرا نام سمرین ہے ۔۔میں دھڑیالہ پنڈ کی رہائشی ہوں۔۔۔میں جیل کوٹھری میں کیسے آئی۔بڑی لمبی کہانی ہے ۔۔۔لیکن مختصر سُناتی ہوں ۔اِس اذیت ناک زندگی سے بہتر تھا مجھے چوراہے پر لٹکا کر پتھر مار مار کر ہلاک کر دیا جاتا۔۔۔۔شاید ایسی تکلیف پھر بھی نہ ہوتی۔۔۔ایسی زندگی سے مر جانا ہی بہتر ہے۔۔۔اِنسا ن خطا کا پُتلا ہے ۔۔۔۔خطائیاں سر زد ہوجاتی ہیں۔میں نے بھی ایک غلطی کرکے عمر بھر روگ پا ل لیا۔۔۔میں انسان ہو کر انسانوں سے ڈسی ہوں۔۔۔۔کیسے۔۔۔۔؟
دھڑیالہ پنڈ میں ہم نئے نئے آئے تھے۔میرے ابو کاٹرانسفر راول پنڈی سے یہاں ہوا تھا۔۔۔ابو سرکاری ملازم تھے اوراُن کا ایک شہر سے دوسرے شہر تبادلہ ہوتا رہتا تھا۔۔۔۔جونہی ابوّ کا تبادلہ دھڑیالہ پنڈ ہوا تو ہم ضروریا ت زندگی کا سامان اُٹھائے یہاں چلے آئے۔پہلے سرکاری کالونی میں مکان ملے لیکن اسکول قریب نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں سرکاری کالونی چھوڑنی پڑی ۔۔کیونکہ میں اور تنویر پڑھ رہے تھے۔جس علاقے میں کرائے پر مکان لیا تھا ۔اُس کے قریب ہی لڑکیوں کا ہائی سیکنڈری اسکول تھا ۔
ہم دو بہن بھائی ہیں۔بڑی میں ہوں اور مجھ سے چھ سال چھوٹا میرا بھائی۔میری پیدائش کے چھ سال بعد اللہ تعالیٰ نے بڑی منتوں ۔مرادوں کے بعد تنویر کی صورت میں پیارا سا بھائی عطاکیا۔تنویر کے بعد میرا کوئی بہن بھائی اِس دُنیا میں نہیں آیا۔۔۔شاید اللہ تعالیٰ کو یہی منظور تھا۔۔۔
ہمارا خاندان چار افراد پر مشتمل تھا ۔رشتے داروں میں کوئی پوچھتا نہیں تھا ۔یہی وجہ تھی کہ ہم بھی اُن سے دُور ہو گئے۔امی بتاتی ہیں کہ غربت کی وجہ سے سبھی رشتے دار چھوڑ چھاڑ گئے ہیں ۔جب اُنہوں نے نہیں پوچھا تو ہم نے بھی کنارہ کر لیا اور پھر تمھارے ابّو کی نوکری لگ گئی۔۔۔
میں ایف اے کرکے گھر بیٹھ گئی تھی۔پڑھائی سے دِل اُچاٹ ہو ا تو مڑ کر کتابوں کی طرف نہ دیکھا ۔کتابوں سے الرجی ہونے لگی اور میں نے پڑھائی کو خیرآباد کہہ دیا۔اب تنویر چوتھی میں پڑھ رہا تھا۔امی بیما ر رہنے لگی تھی اور میں گھرکے کاموں میں لگی رہتی۔پڑھائی سے آزادی مل گئی اور شروع شروع میں اُمی ابونے مجھے پڑھنے کے لیے بہت زور دیا لیکن میری ہٹ دھرمی کی وجہ سے خاموش ہو گئے ۔
ابو شریف اِنسان تھے ۔۔۔بے حد پیار کرتے تھے ۔۔۔مجھ پہ جان چھڑکتے تھے ۔۔۔اُن کی بے پناہ محبت کو میں نے داغ دار کر دیا۔۔کیسی بدبخت بیٹی ہوں ۔۔۔مجھے بیٹی کہلوانے کا حق بھی نہیں ہے۔میں عورت ذات پر بدنما داغ ہوں۔۔۔
یہ اُن دِنوں کی بات ہے جب تنویر پانچویں کے سالانہ پیپرز دے رہا تھا۔پانچویں کے بورڈ کے پیپرزہوتے ہیں ۔تنویر جی جان سے محنت کر رہا تھا۔۔۔ذہین بھی بہت تھا اور پڑھنے کا جنون کی حد تک شو ق تھا۔اسکول کے ساتھ ساتھ مدرسے بھی جاتا تھا۔قرآن مجید ناظرہ پڑھ رہا تھا۔مدرسے کے اُستاد بھی اُسے بہت پیار کرتے تھے اور تنویر کو اکثرمحفلوں میں لے جایا کرتے تھے۔اُس رات بھی تنویر مدرسے میں گیا تھا اور ابھی واپس نہیں آیا تھا۔میں نے کھانے میں نیند آور گولیاں ملا دی تھیں۔
یہ میرا پرانا طریقہ تھا۔کھانے میں نیند آور گولیاں ملا دیتی اور امی ،ابو اور تنویر کھانا کھاتے بستر پر گہری نیند سو جاتے اور پھر میں ہوتی اور میرا محبوب ہوتا۔۔۔دلاور ڈاکٹر تھا۔دھڑیالہ پنڈ میں اُس کا کلینک تھا ۔یہاں ہم رہتے تھے۔۔۔اِس گاؤں میں اور کوئی ڈاکٹر نہ تھا ۔۔۔امی اکثر بیمار رہتی تھی او ر اپنی دوائی اِسی کے کلینک سے لیتی تھی۔میں بھی ساتھ جاتی اور واپسی پر بازار سے سودا سلف بھی لانا ہوتا تھا۔ظاہر ی سی بات سامان اُٹھانے کے لئے مجھ ساتھ جانا پڑتا تھا۔
امی کو شوگر تھا اور گاؤں میں واحد ڈاکٹر دلاور ہی تھا۔جس سے امی کا علاج ہو رہا تھا۔اِسی لئے کلینک پر رَش بھی رہتا تھا ۔میرے گھر کے کسی بھی فرد کو تکلیف ہوتی تو ہم ڈاکٹر دلاور سے دوائی لیتے تھے۔اور تندرست بھی ہو جاتے تھے۔ابو ڈیوٹی پر جاتے تھے ، شہر لے جانے کے لئے اُنہیں وقت ہی نہیں ملتا تھا ۔
ڈاکٹر دلاور خوبصورت نین نقش کا مالک تھا۔ہیند سم ،پُرکشش شخصیت ۔کلین شیو میں اور بھی اچھا لگتا تھا ۔اُس کے سرخ لال گال چمکتے تھے اور قد کاٹھ کا بھی اچھا تھا۔ایسی جسامت کا شخص ہر لڑکی کا آئیڈیل بن جاتا ہے۔میں امی کے ساتھ کلینک پر جاتی تو اُس کی نگاہیں میری جاسوسی کرتیں تھیں۔میں بھی چڑھتی جوانی میں بلا کی خوبصورت تھی۔جسامت کے بدلتے رنگوں نے اور بھی حسین بنا دیا تھا۔سینے کے ابھاروں نے کشش پیدا کر دی تھی اور ادائیوں میں مستی بھی آگئی تھی۔نگاہوں میں شرم،لبوں پہ مسکراہٹ ،شرمیلا پن امڈ آیا تھا۔ڈوپٹے کا پلو شرماتے ہوئے دانتوں میں دباتی تو انگ انگ سر ور میں کھل اُٹھتا۔
دلاور جانے کب سے میری تاک میں تھا۔میں بھی دِل ہی دِ ل میں اُسے چاہنے لگی تھی۔امی زیادہ بیمار ہوئی تو چلنے پھرنے سے رہ گئی تب میں اکیلی دوائی لینے چلی جاتی۔یہی سے دلاور میرے اور میں اُسکے قریب ہو گئی۔وہ مجھے جان بوجھ کر بیٹھائے رکھتا ۔اور میں بھی رَش زیادہ کا بہانہ بنا دیتی تھی ۔دونوں طرف آگ برابر لگی تھی۔اُس نے اظہار محبت کیا اور میں نے بھی اقرار کر لیا۔
امی کی طبیعت زیادہ خراب رہنے لگی تو دلاور کو گھر بلوایا جانے لگا۔۔۔ابو ڈیوٹی پر چلے جاتے تھے اور تنویر اسکول ۔۔۔پیچھے میری حکومت ہوتی ۔۔۔نگاہوں سے آغاز ہوا اور اب خفیہ ملاقاتیں ہونے لگیں۔میں بھی کسی بہانے دلاور کے پا س چلی جاتی جب اُس کے کلینک پر رَش نہ ہونے کے برابر ہوتا۔اکثر دوپہر کو وہ فارغ ہوتا تو مجھے اُسی وقت ملنے آنے کا کہتا ۔لیکن یہ جگہ محفوظ نہیں تھی۔کوئی بھی ۔۔کسی بھی پل آسکتا تھا۔ہمیں محفوظ ٹھکانہ چاہیے تھا۔جہاں ہم دُنیا سے بے نیاز ہو کر عشق کی پتنگیں اُڑاتے۔اور وہ ٹھکانہ میرے گھر کے علاوہ کوئی نہیں ہو سکتا تھا۔۔۔ڈاکٹر مجھے نشہ آور گولیاں دے دیتا جو میں کھانے میں ملا کر گھر والوں کو کھلا دیتی ۔ رات کی تاریکی میں ڈاکٹر میرے گھر آجاتا اور خدمت خلق،مسیحائی لبادہ اُتار کر ہوس پرستی کی چادر اوڑھ لیتا اور میں عورت کی شرم و حیا کی چادر دُور پھینک کر بھوکی چڑیل بن جاتی۔۔۔جسموں کا کھیل شروع ہوتا اور رات گزرتی رہتی۔رات بھر دُنیا سے بے نیاز ہم حرام فعل میں مگن رہتے ۔ایسا فعل جس کی اجازت دین اسلام نہیں دیتا۔۔۔شیطانی طاقتیں حاوی تھیں اور ہم عقل و شعور رکھتے ہوئے بھی شیطانی کام سر انجام دے رہے تھے۔جب بھی ہمارے ملنے کا پروگرام ہوتا ۔۔۔یہی کاروائی ہوتی اور یہ تقریباًایک سال سے چل رہا تھا۔۔۔ہم بلاخوف وخطرہ اِس فعل میں مگن تھے۔
جب بھی میں دلاور کو کہتی ۔۔۔۔دلاور آخر کب تک ہم یونہی چھپ چھپ کر ملتے رہیں گے۔۔۔اپنے امی ابو کو میرے گھر بھیجو۔
دلاور کہتا سمرین !فکر نہ کرو بہت جلد میرے گھر والے تیرے گھر آئیں گے اور تجھے میرے لئے مانگ لیں گے۔۔۔اگر دلاورکے والدین میرے گھر آجاتے تو باخوشی یہ رشتہ قبول بھی کر لیا جاتا ۔۔۔مگر۔۔۔۔مگر انہونی ہو گئی۔۔۔۔
اُس رات ہمارا ملنے کا پروگرام تھا ۔میں نے حسب سابق کھانے میں نشہ آور گولیاں ملا دی تھیں ۔مغر ب ہوئی ۔۔اندھیراپھیلا اور پھر عشاء بھی ہو گئی ۔۔۔امی ابو کو کھانا دے چکی تھی لیکن تنویر ابھی تک گھر نہیں آیا تھا۔اِن دِنوں تنویر کے پیپرز ہو رہے تھے۔وہ کھانا کھانے کے بعد دیر تک تیاری میں لگا رہتا تھا۔۔۔آج بھی میں نے اُس کے لئے کھانا رکھا ہوا تھا ۔۔مجھے پریشانی یہ تھی کہ اُدھر دلاور کے آنے کا وقت ہو رہا تھا اور ابھی تک تنویر گھر نہیں لوٹا تھا۔۔۔ہمارے گھر والی گلی میں مسجد تھی جہاں تنویر قرآن مجید پڑھ رہا تھا۔۔۔میں شش وپنچ میں تھی کہ تنویر آگیا۔۔۔
تنویر کہاں رہ گئے تھے؟اتنی دیر کر دی ۔۔۔میں تمھارے انتظار میں جاگ رہی ہوں ۔دیکھو تو امی ابو کب کے سو گئے ہیں۔۔میں نے ایک ہی سانس میں کئی سوال داغ دئیے تھے۔۔۔۔
باجی !محفل میلاد تھی ۔اس لیے لیٹ ہو گیا۔
اچھا!منہ ہا تھ دھو کر کھانا کھا لو ۔۔۔مجھے سونا بھی ہے۔۔۔
مجھے بھوک نہیں ہے۔۔۔
کیوں نہیں ہے بھوک۔۔۔بھوک نہیں ہے کا بچہ ۔۔۔میں زیر لب بڑبڑائی۔۔۔
تمھاری پسند کی ڈش خاص تمھارے لیے بنائی ہے ۔۔۔۔اچھا ۔۔۔میں کھانا تمھارے کمرے میں لے آتی ہوں اور خود اپنے ہاتھوں سے کھلاتی ہوں۔۔۔
مجھے ڈر تھا کہ اِسی لمحے دلاور نہ آجائے۔موبائل میرے پاس تھا نہیں جو دلاور کو کہتی کہ تھوڑی دیر کرکے آنا۔۔۔ابھی موبائل اتنے متعارف نہیں ہوئے تھے۔۔۔میں کھانا لے کر تنویر کے کمرے گئی ۔۔۔۔
باجی !کھانا رکھ دو ۔۔۔میں کپڑے بدل کر کھاتا ہوں۔۔۔۔
میں کھانا رکھ کر کمرے سے نکل آئی ۔تاکہ تنویر کپڑے بدل لے تو میں خود جا کر کھانا کھلاؤں گی ۔۔۔لیکن یہ نوبت ہی نہ آئی۔۔۔میں کمرے سے نکلی تو دلاور دیوار پھلانگ رہا تھا۔۔۔مخصو ص راستا واش روم کے ساتھ والی دیوار تھی ۔۔۔۔جو دلاور پھلانگ کر اندر آجاتا تھا۔۔۔۔ہمارے واش روم کے پیچھے کوئی مکان نہیں تھے اور گلی کے آخر میں ہمار ا گھر تھا۔۔۔۔ہمارے گھر کے پیچھے کھیت شروع ہو جاتے ہیں۔۔۔۔دلاور کو دیوار پھلانگتے دیکھ کر میں اُس کی طرف چلی گئی۔۔۔اور ۔۔۔۔اور پھر اُسے خاموشی سے اپنے کمرے میں لے آئی۔۔۔اِس سے پہلے کہ میں دلاور کو کہتی کہ تنویر ابھی آیا ہے اور کھانا نہیں کھایا۔۔۔میں اُسے کھانا کھلا کر آجاؤں گی ۔۔۔۔کمرے میں داخل ہوتے ہی دلاور نے بانہوں میں بھر لیا ۔۔۔اور پھر ہم پہ حیوانی نشہ چھا گیا۔۔۔۔خیال ہی نہ رہا کہ تنویر کمرے میں جاگ رہا ہے۔۔۔کہتے ہیں کھاتا چور ایک نہ ایک پکڑا ضرور جاتا ہے ۔۔۔ عشق اور مُشک چھپائے نہیں چھپتے۔۔۔رات کے بارہ بجے تھے ۔۔۔جب ہماری قسمت ہاری اور سب منظر بدل گیا۔۔۔
تنویر کمرے سے باہر آیا ۔شاید واش روم جا رہا تھا ۔۔۔واش روم جاتے ہوئے پہلے میرا کمرہ آتا ہے۔۔۔میرے کمرے کازیرو کا بلب جل رہا تھا اور ونڈو سے چھوٹا سا سوراخ تھا۔جس سے باہر والا اند ر کا منظر دیکھ سکتا تھا۔۔۔اِسی سوراخ سے تنویر نے اندر کا منظر دیکھ لیا۔۔۔ہم تو بے لباس اپنی خرمستیوں میں گم تھے۔۔۔اور ہلکی ہلکی ہنسی ہنس رہے تھے۔۔۔شاید ہماری ہنسی نے تنویر کے قدم روک لیے تھے۔۔۔۔تنویر ابھی تک جاگ رہا تھا ۔اِس کا مطلب یہی تھا کہ اُس نے کھانا نہیں کھایا تھا۔۔۔۔
تنویر نے مجھے آواز دی۔۔۔۔آپی۔۔۔!تنویر کی آواز سنتے ہی ہمارے طوطے اُڑ گئے۔۔۔ہم جو ایک دوسرے سے چمٹے تھے الگ ہوئے۔۔۔دلاور پھرتی سے اُٹھا ۔۔۔دروازہ کھولتے ہی تنویر کو دُبوچ لیا۔۔۔۔جیسے بھوکا شیر اپنے شکارکو دُبوچ لیتا ہے۔۔۔میں برہنہ جسم کو کپڑوں سے ڈھانپنے لگی۔۔۔امی ابو گہری نیند سو رہے تھے۔۔۔لیکن تنویر کا شور سُن کر یقیناہمسائے آجاتے او رہماری بدنامی ہو تی۔۔۔۔دلاور نے تنویر کے منہ پر فوراًہا تھ رکھ دیا تاکہ وہ شورنہ کر سکے اور اُسے کمرے میں لے آیا۔۔۔وہ قیدی پرندے کی طرح پھڑپھڑارہا تھا۔۔۔ننھی سی جان تھی کتنی مذمت کرتا۔۔۔آخر تھک گیا۔۔۔۔تنویر مذمت کرتے کرتے تھک گیا تھا ۔۔۔اُس کی مذمت میں کمی ہوتی جارہی تھی اور پھر تھوڑی ہی دیر میں اُس نے حرکت کرنا بند کر دی۔۔۔شاید اُس کا دم گھٹ گیا تھا۔۔۔دلاور نے تنویر کی حرکت رُکتی دیکھی تو اپنی گرفت ڈھیلی کر دی لیکن تنویر بے جان جسم کی طرح ایک طرف لڑھک گیا۔۔۔۔اُس کا سانس بند ہونے کی وجہ سے موت واقع ہو گئی تھی۔۔۔۔۔یوں انہونی ہی ہو گئی۔۔۔ہم تو تنویر کو چُپ کراکر سمجھنا چاہتے تھے لیکن یہ وہ لمحے تھے جب دماغ کا استعمال کرنا تھا مگر ہمارے دماغ تو ماوف ہو چکے تھے۔کوئی راستہ نظر نہیں آرہا تھا ۔۔۔۔اور پھر یہ انہونی ہو گئی۔۔۔
میرا ایک ہی بھائی تھااور وہی میرے کرتوں کی بھینٹ چڑھ گیا ۔دلاور اور میں ہوس پرستی کی آگ میں جل کر انسانی رُوپ میں درندے بن گئے۔اب اپنا گناہ چُھپانے کے لئے تنویر کے مردہ جسم کو ٹھکانے لگا ناضروری تھا۔۔۔ہم دونوں نے تنویر کے مرد ہ جسم کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کیے اور ایک پلاسٹک کے گٹو میں ڈال لیے۔۔کیونکہ تنویر کا بغیر ٹکڑوں کے جسم باہر لے جانا کسی خطرے سے خالی نہیں تھا۔۔۔پلاسٹک کے گٹومیں آسانی سے باہر لے جایا جا سکتا تھا۔۔۔۔تھوڑی ہی دیر میں ہم نے ٹکڑے کر لیے اور دلاور اُسے لے کر گھر سے باہر چلا گیا۔۔۔اب دلاور کا کام تھا کہ وہ اِس گٹو کو کہاں غایب کرتا ہے۔۔۔میں نے کمرے سے خون صاف کیا۔۔۔رات کافی گزر چکی تھی۔۔۔۔سونے کی تیاری کی مگر نیند نہیں آرہی تھی۔پھر میں نے بھی نیند آور گولیاں کھالی اور تھوڑی ہی دیر میں نیند کی وادی میں گھو گئی۔۔۔
صبح ابو نے جھنجوڑکر اُٹھایا۔۔۔ابو صبح سویرے اُٹھ جایا کرتے تھے۔۔۔ناشتہ میں ہی بناتی تھی اور امی تو چلنے پھرنے سے رہ گئی تھیں۔۔۔میں ہڑبڑا کر اُٹھ بیٹھی ۔۔۔اور پھٹی پھٹی نظروں سے اِدھر اُدھر دیکھ رہی تھی۔۔۔امی رو رہی تھی اور ابو کی آنکھیں خون برسا رہی تھیں۔۔۔ابو نے تنویر کا پوچھا ۔۔۔میں نے لاعلمی کا اظہار کیا۔۔پھر تو واویلا مچ گیا۔۔۔تنویر کہاں گیا۔۔۔تنویر کہاں گیا۔؟اُس کا پیپر تھا اور تنویر کاکوئی اتاپتا نہیں تھا۔۔۔۔پورے محلے میں شور مچ گیا ۔۔۔پُراسرا اغواء یا ۔۔۔۔۔؟ہر کوئی چہ مگوائیاں کر رہا تھا۔۔۔۔ہماری کسی سے کوئی دُشمنی نہیں تھی ۔کس پہ شک کیا جاتا۔۔۔۔چُور تو گھر میں موجود تھا ۔۔۔اور ہم باہر ڈھونڈ رہے تھے۔۔۔۔کئی دن گزر گئے ۔تنویر کا سُراغ نہ مل سکا۔۔۔۔امی کا رو رو کر بُرا حال تھا ۔۔۔ابو الگ پریشان تھے۔۔۔۔معاملہ پولیس تک پہنچ گیا۔۔۔جانے کس بد بخت نے تھانے جانے کا مشورہ دیا تھا۔۔۔۔پولیس آئی ۔۔۔تفتیش شروع ہوئی۔۔۔پوچھ گچھ ہونے لگی۔۔۔گاؤں میں جتنے بھی جواری تھے سبھی کو اندر کیا گیا ۔۔۔مگر کوئی سُراغ نہ ملا۔۔۔۔
معصوم کا قتل زیادہ دن چُھپ نہ سکا اور راز افشاں ہو گیا۔۔۔تھانے دار نے جب تفتیش کا سلسلہ بڑھا تو مجھ سے بات کی گئی اور پھر میں بوکھلا گئی۔۔۔آخر سچ میری زبان پر آہی گیا۔۔۔۔کیونکہ عورت زیادہ دیر راز نہیں چھپا سکتی۔۔میں نے اپنے تئیں کوشش تو بہت کی تھی مگر کامیاب نہ رہ سکی۔۔۔اور پھر سبھی حیرت کدہ تھے۔۔۔میرے ساتھ دلاور کوبھی جلد گرفتار کر لیا گیا۔۔۔دلاور نے تنویر کی ٹکڑے شدہ لاش برآمد کرائی۔۔۔اُ س نے پلاسٹک کے گٹو کو گاؤں کے سردار جی کے باڑے کے باہر گوبر کے ڈھیر میں چُھپا دیا تھا۔۔۔۔جب دلاور نے وہاں سے گٹو برآمد کرایا تو گاؤں والے مشتعل ہو گئے اور دلاور کو مارنے کے لئے آگے بڑھے لیکن تھانے نے جرات مندانہ طریقے سے دلاور کو وہاں سے بچایا اور تھانے لے آئے۔۔۔۔
ہمیں عدالت میں پیش کیا گیا اور اقرار جُرم کے بعد ہمیں جیل بھیج دیا گیا۔۔۔میری امی صدمے سے فوت ہوگئی اور ابو پاگل خانے چلے گئے۔۔۔وہ دیواروں میں سر مارتے مارتے پاگل ہو گئے تھے اور لوگوں نے پاگل خانے بھیجوا دیا تھا۔۔۔۔ہمارے گناہوں کی سزا اُن کو بھی مل گئی اور ہمیں تو سزائے موت سنائی گئی۔۔۔لیکن میں آج کال کوٹھری میں اُس پل کو کوس رہی ہوں جب دلاور سے آنکھیں چا ر ہو ئی تھیں۔۔۔سزائے موت کی سزا سُنا کر احسان کیا گیا ہے ۔۔۔ہمیں تو اذیت دے دے کر مار دینا چاہیے تھا ۔۔۔جس طرح ہم نے تنویر کے ٹکڑے کیے تھے ہمارے بھی ٹکڑے کیے جاتے ۔ہماری بوٹی بوٹی کی جاتی۔۔یا چوراہے پہ لٹکا کر پتھر مار مار کر ہلا ک کر دیا جاتا۔۔۔۔پھر بھی ہماری سزا کم تھی۔۔۔
میں چند دِنوں کی اِس دُنیا میں مہمان ہوں۔لیکن جیل میں جو سلوک میرے ساتھ ہو رہا ہے ۔کسی دُشمن کی بیٹی سے بھی نہ ہو۔مجھے روز جسمانی اذیت سہنی پڑتی ہے ۔روز میرے جسم کو نوچا جاتا ہے۔ بڑے بڑے آفسر میرے ساتھ اپنی راتیں رنگین کرتے ہیں۔اِس دُنیا میں میرا کوئی نہیں رہا۔جب اپنے تھے تو میں نے اپنے ہاتھوں سے ہی اُن کے گلے دبا دئیے۔اب کس سے اُمید بہار رکھوں۔اپنی داستان اِس لیے لکھ کر ارسال کر رہی ہوتاکہ میری طرح کوئی اور لڑکی اِس کھیل میں نہ پھنس جائے اور اپنے مستقبل کے ساتھ ساتھ اپنے خاندان کو برباد کرانا کا سبب نہ بن جائے۔

555 total views, 2 views today

Short URL: //tinyurl.com/zfenxfx
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *