اور میں رجسٹرڈ ہو گیا۔۔۔۔ مصنف: مجیداحمد جائی، ملتان

Print Friendly, PDF & Email

بہار رُت آتے ہی شہنائیاں بج اُٹھتی ہیں۔ہر شہر ،محلے ،گاؤں میں ڈھول پیٹنے کی آوازیں،شہنائیوں کی صدائیں گونجنے لگتی ہیں۔بلند آواز میں ڈیک پر سونگ چلائے جاتے ہیں۔زردی مائل چہروں پر جوبن آنے لگتاہے۔مرجھائے چہروں پر سُرخی پھیلنے لگتی ہے۔ٹنڈ منڈ درختوں پر نئی کونپلیں کھلنے لگتی ہیں۔کھیت ،گلشن ہریالی سے سجنے لگتے ہیں۔ایک طرف بہار رُت سے چرند،پرند ،پھول کھلکھلا اٹھتے ہیں تو دوسری طرف کنواروں کے من میں ہیچل سی مچل جاتی ہے۔
اے کاش !یہ بہار ہماری لیے کوئی حسین وجمیل مہ جبیں لے آئے۔ہم بھی شوہر کا درجہ حاصل کرلیں۔ہمیں بھی کوئی نک چڑھی،لمبی،موٹی ،چھوٹی،پتلی مل ہی جائے۔رانیں ٹپکنے لگتی ہیں،دل مچلنے لگتا ہے۔میں بھی کنوارہ تھا۔
ہر سال میں بھی ڈھول باجے بجتے دیکھتاتو من میں لڈو پھوٹنے لگتے۔خوابوں کے نگر آباد ہوتے اور میں اپنی ہونے والی بیوی سے ڈھیروں باتیں کرتا۔آخر میں بھی 26کا ہو چکا تھا۔عمر بیتی جاتی تھی اور کوئی میری بیگم بنے کا شرف حاصل کرنے پر آمادہ نہیں تھی۔کوئی الہڑ مٹیار بھولے سے لفٹ نہیں کراتی تھی۔میں اس جدوجہد میں تھا کہ کوئی بات کرے اور میں بات آگے بڑھاؤں۔روزسجی سنواری مرسیدیز میں دولہا دولہن کو دیکھتاتو من کے نگرمیں ہچل برپا ہو جاتی ۔
وہ دن،وہ گھڑی کب آئے گی جب میرے سرپر سہرا سجے گا۔خوابوں میں کئی سہر ے باندھے تھے،کئی طلاقیں دی تھیں۔مگر۔۔۔۔۔مزے کی بات تو یہ ہے کوئی بد صورت،کالی چڑیل بھی مجھ سے شادی کرنے پر رضامند نہیں تھی۔میں روز شیشے کے سامنے خود کو تیار کرتا۔جیسے الہڑ مٹیار خوابوں کے نگر میں اپنے راجے کے سپنے سجا کر گنگناتی ہیں۔میں نے لمبے بال رکھے،ٹنڈبھی کروائی۔موچھیں غائب ہوئی،ٹائی لگائی،آنکھوں پر چشمے سجائے مگر سب بیکار گیا۔سب محنت ضائع ہوئی۔نت نئے فیشن،نت نئے سوٹ مگر قسمت کی دیوی بڈھے شیروں پر مہربان کب ہوتی ہے۔مجھے بھی یہ دکھ کھائے جا رہا تھا کہ آخرلمحہ لمحہ بیت رہا تھا۔میں بھی بوڑھا ہورہا تھا۔
راہ چلتی خوبصورت،بدصورت لڑکی،بڈھی کو دیکھتا توسپنوں کے تاج محل بنانے لگتا ۔اے کاش!یہی میری بیوی بن جاتی ،قسمت سنوار جاتی۔میرے پاس کیا کچھ نہیں تھا۔چھوٹی سی جھونپڑی،ایک نل،جو عرصے سے پانی نہیں دیتا تھا۔ٹوٹی پھوٹی لیٹرین،گِرد سے اٹا ہو اصحن،بکھری کتابوں سے بگڑا ہوا کمرہ۔جہاں میں اور میرا ڈوگی سوتے تھے۔میلے ،پھٹے پرانے کپڑوں سے بھری ٹوٹی ہوئی الماڑی۔گھر میں چولہا تھا نہیں ،اس لئے کھانے پکانے کا سوال بھی پیدا نہیں ہوتا تھا۔کہیں سے مل گیا ،کھا لیا ورنہ آوارگی تو ہے ہی۔جس میں، میں کم عمر میں بہت سی ڈگریاں لے چکا تھا۔
کیا کچھ نہیں تھا میرے پاس۔سب کچھ تو تھا میرے پاس،بس من کے ارمان جل رہے تھے،بکھر رہے تھے۔آتی جاتی،پاس سے گزرتی لڑکیوں میں اپنی ڈھونڈتا رہتا تھا۔اتنا کچھ پاس ہونے کے باوجود میں خالی خالی سا تھا،نامکمل سا تھا۔
مجھے ایک عد بیوی چاہیے تھی۔جس کی تلاش عرصے سے جاری تھی۔یوں سمجھیں پیدا ہوتے ہی اس مہم میں سرگرداں ہو گیا تھا۔چوری شدہ کریمیں چہرے پر تھونپی۔رنگت گوری کرنے کا ہر نسخہ آزمایا۔تاکہ گوری چٹی چمڑی کو دیکھ کر کوئی الہڑ مٹیار مر مٹے۔مگر چمڑی روز بروز کالی ہی ہوتی گئی۔مجھ میں اور توے میں کوئی خاص فرق نہیں تھا۔نہ چمڑی گوری ہوئی نہ ہی کوئی فدا ہوئی ۔میں قسمت کو کڑاہتا ہی رہا۔
روز دوستوں ،رشتے دار وں سے طعنے سنتا توجو ش میں آکر رانجھے کی طرح گھر سے نکل پڑتا۔آج تو شہزادی ڈھونڈ کر ہی واپس لوٹا نا ہے۔بیوی تلاش مہم میں ،میں اکیلا سرگرداں تھا۔چوراہوں پر ڈیرے ڈالے،آتی جاتی کو چھڑا،محبت کے جال پھینکے،loveلیٹرلکھوا کر بھیجوائے۔کالج،یونی جاتی لڑکیوں پر فقرے کسے۔مجال ہے کوئی لفٹ دیتی۔بازاروں،بس اسٹاپوں کی خاک چھاننے کے بعد،کالج ،یونیورسٹی جا پہنچا۔پھر کیا کالج ،یونیورسٹی کے گیٹ ہوتے اور بیوی کا متلاشی ہوتا۔شہر بھر کے کالج ،یونیورسٹی چھان مارے۔مگر من کی رانی نہ مل سکی۔جس پر نظر رکھتا دوسرے دن وہ اپنے شوہر کی بانہوں میں بانہیں ڈالے خراما خراما چل رہی ہوتی تو دل کا قورمہ بن جاتا۔میں ان میں عیب تلاش کرتا،کراہتا،منہ بسورتا نئی کی تلاش میں نکل پڑتا۔بالوں میں چاندی قبضہ کرنے کو بے تاب تھی اور میں ابھی تک کنوارہ تھا۔تمام پلان ناکام ہو رہے تھے،تمام ترکبیں بے کار گئیں۔
ایک دن میں سڑک کے چوراہے پر گم سم اداس بیٹھا قسمت کو کوس رہا تھا کہ میرا دوست آٹپکا۔جس کی پچھلے دنوں شادی ہوئی تھی۔مجھ سے رہا نہ گیا فورا مشورہ مانگ لیا۔اس کی عقل دانی کی داد دیتا ہوں فورا ہی مشورہ دے ڈالا۔
ارے یار ادھر اُدھر جانے کی ضرورت نہیں ۔تم ایسا کرویونیورسٹی کے سامنے دہی بھلے،گول گپیوں کی دکان سجا لو۔پھر دیکھنا ایک نہیں بارہ بارہ لڑکیاں بیوی بننے کے لئے کھڑی ہو گی۔تم سوچتے رہ جاؤ گے کہ کس کو اپناؤں کس کو ریجکیٹ کروں۔میرے من میں پھول بغیر کانٹوں کے کھل اٹھے۔پھر کیا چوری کی،ڈاکے ڈالے،محلے میں کسی کی بھنیس چورائی،کسی کی بکر ی اٹھائی،محلے والوں کو رولا کرگول گپیوں کی دکان سجائی۔وی،آئی پی دکان سجی،محبت ظاہر کرتے بنیز دیواروں پر آویزاں کیے۔دل چھونے والے اشعار لکھوائے۔آپ باخوبی انذاہ لگا سکتے ہیں کتنی محنت کی ہوگی میں نے۔پھر کیا چند دنوں میں دہی بھلے ،گول گپے مشہور ہو گئے۔
لڑکیوں کے گروہ کے گروہ آتے،دہی بھلے ،گول گپے کھاتے،مسکراتی،آنکھیں مارتی اپنی راہ لیتی اور میں منہ بسورے ان کو جاتے دیکھتا رہتا۔کئی فیشن ایبل لڑکیا ں بھی آئی،جدید قسم کی بوسیدہ جین پہنے جس میں ان کا کچھ پوشیدہ نہیں تھامگربات نہ بن سکی۔۔کئی دن گزر گئے کوئی لائن پر نہ آئی تو میں نے ایک بوسیدہ جین پہنے لڑکی کے ہاتھ پکڑ لئے۔پھر کیا ایک قیامت برپا ہوئی۔پہلے تو اس کے ہزاروں چاہنے والوں نے چھترو کی پھر تھانے کی ہوا کھانے کے لئے بھیج دیا۔پولیس والوں نے خوب آؤ بھگت کی کہ دن میں تارے نظر آگئے۔بیوی کی چاہ میں جس کے ہاتھ پکڑے تھے ،بہن کہہ کر جان چھوٹی۔تمام جذبات زمین بوس ہو گئے۔بیوی کی تلاش مہم التوا میں ہوگئی،ہزاروں روپیوں میں دہی بھلوں کی سجنے والی دکان ختم ہو گئی۔پولیس والوں سے مرمت الگ ہوئی،ڈاکٹرکی خدمات الگ حاصل کیں۔مگر کہتے ہیں ناں عشق اندھا ہوتا ہے۔مجھے بھی عشق ہو چکا تھا ،بیوی کی تلاش کا،لوگوں کے طعنوں کاجواب دینا تھاسو پھر سے تمام تر توانائی یک جا کی اور بیوی مہم میں سر گرداں ہوگیا۔
مرسیڈیز میں سجی سنواری،خوبصورت لڑکیوں کو کھلے بالوں سفر کرتے دیکھتا تو من مچل اٹھتا۔میک اپ کی جال میں جکڑی ہوتی تو میرا دل کرتااڑ کے ان کے پاس جا پہنچوں اورفورا پرپوز کر دوں۔کاش!یہ مہ جبیں میرے جال میں پھنس جاتی۔موٹر بائیک پرچنچل سی دوشیزیں ،اپنے عاشقوں کے کندھوں پر سر رکھے معشقانہ انداز اپنائے ہوتی تو کئی ایسے چمٹی ہوتی کہ کیا کہنے۔ان کو دیکھ کر میرا دل بول ااٹھتا،
ارے کیسا بدبخت ہے تو،میں تیرے سینے میں آکر قید سا ہو گیا ہوں۔کوئی تجھے گھاس تک نہیں ڈالتی اور تو نکھٹوکچھ کر نہیں پاتا۔کاش میں تیری جگہ کسی چڑیا کے دل میں ہوتا ۔کم از کم محبت کے جام تو ملتے۔ایسا کر بیوٹی پارلر ہی کھول لے کم از کم کوئی چڑئل بننے سنوارنے کے لئے تیرے پاس آتو جائے گی۔
دل برداشتہ تھا،بجھا بجھا سا تھا،ایک دن چھپڑ ہوٹل پر اپنے جگری دوست سے ملاقات ہو گئی۔اس نے منہ لٹکے دیکھا تو وجہ جانی۔میں نے بھی تمام عرضی گوش گوار کی تو مشوارہ صادر فرمایا۔ارے یا ر گھبرانے کی کیا ضرورت ہے اخبار میں اشتہار دے دیتے ہیں۔پھر کیا میں بن سنوار کر فوٹو شاپ پر جا پہنچا،دل کش انداز میں تصویر بنوائی اور اخبار میں لڑکی چاہے کا اشتہار لگوادیا۔جس کا عنوان کچھ یوں تھا۔
اس خوبرو نوجوان کو ایک عدد ساتھی کی ضرورت ہے ،جس کی جنس عورت ہو یا عورت ذات سے مشابہ ہو نہ جہیز چاہے ،نہ دولت۔بس من کا آنگن بسانا جانتی ہو ۔شوہر کو زیر کرنا آتا ہو۔من کی پیا س بجھا دے،گلشن میں پھول کھلا دے۔اس کے بچوں کی ماں بن جائے۔جو بھی آئے گی عیش کرئے گی بلکہ عیش عیش کر اٹھے گی۔دیر نہ کیجئے ۔
اپنے آپ کو پڑاپرتی ہولڈز ثابت کیا،چاہے ایک گز کا ٹکڑاتک اپنا نہ تھا۔بنک بیلنس ظاہر کیا۔مرسڈیز،نوکرچاکرظاہر کئے۔اونچی اونچی دیواروں والا محل اپنا گنوایا۔خیال تھا کوئی دھن پہ نہ مرے تو دولت پہ تو ضرور مرے گی۔اشتہار تو لگ گیا ۔اپنے نام کا اشتہار خوو پڑھ کر فدا ہوتا رہا۔مگر کوئی رشتہ نہ آیا۔کسی باپ نے رابطہ کیا نہ کسی ماں نے بیٹی کے رشتے کے لئے رابطہ کیا۔خود غرض،خود مختیار لڑکیوں نے بھی دھتکار دیا۔ایسے ولولے سنتے رہتے ہیں کہ فلاں کی بیٹی گھر میں بیٹھی بوڑھی ہو گئی کوئی رشتہ نہیں آیا۔سب جھوٹ بولتے ہیں۔
میں رجسٹرڈ ہونے کے لئے بے تاب تھااور اسٹیٹ لائف والے میری زندگی کی رجسٹری مانگتے تھے۔گھر داماد یعنی گھر کا نوکر بننے تک آفر کی،مگر سارے شہر کو سانپ سونگھ گیا تھا۔کوئی کالی سے کالی بیٹی بھی مجھ سے منسوب نہیں کرنا چاہتا تھا۔
میں روز پوسٹ آفس کے چکر کاٹا،شاید کوئی میرے نام لیٹر آیا ہو،روز موبائل کی اسکرین پر نظریں ٹکتی،کسی بڈھی ،لولی لنگڑی ،کنواری ،بیوہ کا فون ہی آجائے کہ مجھے شوہر چاہے،مجھے میرا دولہا چاہے۔قسمت کی دیوی کو دیوتا اغوا کرگیا تھا بھولے سے رونگ کال تک نہ آئی۔میں منہ بسورے رہ گیا۔
رشتے کرانے والی ماسی کے منت تڑلے کیے۔اس کے بڈھے شوہر کے پاؤں پکڑے کہ تو ہی سفارش کر دے۔اس کے ہاتھوں میں سبز ،لال نوٹ تھمائے،مگر ماسی کی بھی دال نہ گلی اور کرکٹ ٹیم کی طرح ہمیشہ ناکام ٹھہری۔برادری کی سبھی لڑکیوں نے اپنے اپنے شہزادے چن رکھے تھے۔کسی کا شہزادہ تین بچوں کا باپ تھا تو کوئی تین بیویوں کا اکیلا شوہر تھا۔پھوٹی قسمت میری تھی کہ مجھے کوئی کانی،لنگڑی تک نہ مل سکی۔میں بس اسٹاپ پر لوفری کرتا رہتا ۔قسمت بدلتے دیر تھوڑٰ ی لگتی ہے ۔امید کے دیپ جلائے ہوئے تھا۔کوئی میری طرح دل پھینک ہی مل جائے ،کوئی بچوں والی ہی لفٹ دے دے۔من ہی من میں کہتا رہتا تھا۔
سوچا رانجھا بن جاؤں،لیکن آج کے دور میں کوئی ہیر تھی ہی نہیں،سبھی لڑکیاں تو ہیرؤئن پیتی تھیں ،یہ کوشش بھی من ہی من میں دفن ہو گئی۔رات تو سوتے ہوئے ترکیب سوجھی کہ جم کروں ،ڈولے بناؤں ہو سکتاہے کوئی باڈی بلڈر سمجھ کر شادی کے لئے رضا مند ہوجائے۔شہر کے بڑے جم میں جا پہنچا،ہزاروں لگائے ،باڈی بلڈربنا،اچھے خاصے ڈولے بن گئے مگر محلے کی بھینگن تک فدا نہ ہوئی۔۔محلے کی بڈھیاں بھی اب مذاق کرنے لگی تھیں۔دیکھو اس چھچھور ے کوکو ئی ملتی نہیں،یہ ماں ،باپ کے گھر بوڑھا ہو جائے گا۔اس کے والدین کو چاہے اے ہی بیاہ دیں،کسی معذور،کانی ،لنگڑی کے ساتھ ،اسے کوئی حور تھوڑی ملے گی۔ایسے ہزاروں فقرے گوشہ سماعت ہوتے اور کراہتا رہ جاتا۔
تمام تر کوشش بے کار گئیں۔کوئی الہڑ مٹیار،نہ کوئی مہ جبیں۔اناڑی ملی نہ کوئی ناڑی۔کنوارویوں سے لیکر بیوؤں تک کو پرپوز کیا مگر سبھی نے ریجیکٹ کیا۔اب تو حالت یہ تھی کہ میں گلوکار بن گیا اور میرے لبوں پر یہ سونگ وارد ہوتا رہتا۔مجھے لڑکی چاہے۔کنواری ہو یا اناڑی بس لڑکی چاہے ،مجھے لڑکی چاہے
پھرگردن پر رکھی کھونپڑی میں خیال آیا ۔یہ جو عامل فٹ پاتھوں پر ،سڑک کنارے بیٹھے ہوتے ہیں ۔بلند بالا دعوے کرتے ہیں کہ محبوب قدموں میں لا کر رکھ دیں گے۔شادی میں رکاوٹ دور کردیں گے ،لمحوں میں شادی کروا دیں گے۔ان سے رابطہ کروں۔مختلف عاملوں کے گھاٹ کا پانی پیا۔میرا محبوب ہوتا تو قدموں میں لاتے۔کوئی محبوب بنتا تو سہی چاہے مجھے اس کی جوتیاں ہی کیوں ناں اٹھانی پڑتی۔بیچارے عاملوں سے بھی کچھ بن نہ سکا۔میں ان کو مکمل گنکال چکا تھا۔ان کی اپنی بیویاں اپنے آشناؤں کے ساتھ فرار تھیں ۔بیچارے غم چھپانے کے لئے عامل بن بیٹھے تھے۔میرے لیے بیوی کہاں سے تلاش کر دیتے۔الٹا جیب سے بھی گئے،گھر سے بھی گئے۔دین رہا نہ دھر م رہا والی بات تھی۔اپنے لئے لڑکی نہ ڈھونڈپائے۔شہر شہر،گلی گلی،کوچے کوچے ایک ایک لڑکی کو پرپوز کیا۔سب نے ریجکیٹ کی ’’مہر‘‘تھوپ دی،نجانے ایسی بھی کیا کمی تھی مجھ میں جو لڑکیاں لفٹ نہیں دیتی تھیں۔
آخر اپنے آپ سے تنگ آکر میں نے محلے والوں کو الٹی مٹیم دیا کہ چار دن میں کسی بوڑھی،لنگڑی ،لولی،کانی اناڑی،ناڑی نے مجھ سے شادی کی حامی نہ بھری تو میں چوہے ما ر گولیاں کھاکر خودکشی کر لوں گا۔ایک دکان سے چوہے مار،گولیاں لے آیا۔ایک گھر سے رسی ادھار لایاتاکہ گولیوں نے کام نہ کیا تو کسی درخت سے لٹک کر خود کو ختم کرلوں گا۔ایسی زندگانی سے فنا ہی بہتر ہے۔اس دنیا میں رکھا ہی کیا ہے جہاں ہزاروں لڑکیاں ہیں مگر ایک کنوارے کو گھر بسانے کے لئے کوئی بھی نہیں ملتی۔بیوی نہ ملنے کے غم میں میں آدھ مرا ہوگیا۔منہ ایسا ہوگیا جیسے بچے کی چوسنی ہو۔
رب کی کرنی دیکھو چوتھے دن ،میں اپنے خاستہ گھر میں بان کی چارپائی پر الٹا لیٹا تھا۔ہاتھی جیسی موٹی تازی،عورت میرے پاس آئی کہنے لگی جانو۔او میرے جانو تو اتنا غم زدہ کیوں ہے۔اس کا جانو کہنا تھا کہ میری جان میں جان آئی۔لمحے بھر کے لئے سانسوں کو روکااور اس کی پوری بات بمع شرائط توجہ سے سنی۔جو کہہ رہی تھی میرے جانو ،میرے چودہ بچے ہیں۔ان کو باپ کی ضرورت ہے اور میں سچے پیار کو ترس رہی ہوں۔مجھے سچا پیار دے دو ۔مجھے پتہ ہے تم مجھے سچا پیار دے سکتے ہو
اندھے کو کیا چاہے تھا(دو آنکھیں)کے مصداق میں نے اسے سچا پیار دینے کی حامی بھر لی۔یوں اسے چودہ بچوں کے بعد سچا پیار مل گیا اورمجھے بیوی مل گئی۔
کہتے ہیں رب تعالیٰ کے گھر دیر ہے اندھیر ر نہیں۔بس رب کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا ،میری طرح آپ کو بیوی مل ہی جائے گی۔آج میں رجسٹرڈ ہوگیا ہوں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے میں اپنی بیوی کے ساتھ بہت خوش ہوں ۔آپ حسد نہ کیجئے ،میری طرح محنت کیجئے،آپ بھی رجسٹرڈ ہو ہی جائے گے۔

Short URL: http://tinyurl.com/j6aj3k8
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *