مجھے تلاش ہے متاعِ عز یز کی۔۔۔۔تحریر: سفینہ نعیم

Print Friendly, PDF & Email

ایک بچہ جس کی عمر تقریبًاا ڑ سٹھ سال ہے۔اس کا رنگ گورا ہے نا کالا، گندمی ہے ۔امریکہ کی گندم کھا کھا کربچے پر ایک سیاہ داغ پڑ گیا۔یہ داغ اسے ایک حادثے کے وقت لگا، جب اس کا جڑواں بھائی ۱۹۷۱ء میں قتل ہوگیا تھا۔اس بچے کی پیدائش ۱۴۔اگست ۱۹۴۷ء ہے۔اپنا نام پاکستان بتاتاہے۔توتلی زبان میں باتیں کرتاہے۔اور بیک وقت چار زبانیں بولتا ہے۔سندھی، بلوچی، پنجابی اور پشتو ۔ گمشدہ بچے کی شہ رگ جسے کشمیر کہتے ہیں پر مسلسل تشدد کیا جاتا ہے ۔جس کی وجہ سے اس پر کافی زیادہ برے اثرات دیکھنے میں آ ئے ہیں۔ما ہرین نفسیا ت کے مطابق بچے کا دماغی توازن ٹھیک نہیں ہے ۔اور اکثر اوقات زند ہ باد اور مردہ باد کے نعرے لگاتاہے ۔جو کوئی اس کے ساتھ چکنی چپڑی اور جوشیلی باتیں کرتا ہے، بچہ اس کے پیچھے چل پڑتا ہے اور اس کوہی اپنا رہبروراہنمااور غمگسار تصور کرتے ہوئے اس کے حق میں زندہ باد کے نعرے لگانے لگتا ہے ۔پھر جب وہ آدمی اس بچے کو ہاتھ دکھاتا ہے تو یہ اس کو مردہ باد اور کسی اور کو زندو باد کہنے لگتاہے ۔ یہ بچہ جلسے جلوسوں کا نشئی ہو گیا ہے۔اور انھی جلسے جلوسوں میں کہیں کھو گیا ہے۔یہ بھی شک ہے کہ اسے کسی اپنے نے ہی ور غلایا ہے۔گزشتہ چند سا لو ں سے اسے فوجی کیمپ میں دیکھا جا رہا ہے۔اس سے پہلے سیاست کے اکھاڑے میں تماشا ئیوں کے ہجوم میں دیکھا جا رہاتھا۔کسی نے اسے روٹی کپڑ ے اور مکان کے ہجوم کے گرد بھی دیکھا۔ پھراسلام کے بازار میں پایا گیا،کبھی جمہوریت کی دلدل میں پھنسا ہوا دیکھائی دیا۔ایک شخص نے بتایا ہے کہ بچے کومہنگا ئی ،رشوت ، بے انصافی ،اور کرپشن کے چنگل میں پھنسے ہوئے دیکھا جو آ سمان کی طرف منہ کر کے مدد کے لیے پکار رہاتھاسردیوں میں لنڈے کے کپڑے پہنتا ہے ۔اور گرمیوں میں شلوار قمیض اور پینٹ شرٹ میں دیکھا جاتا ہے۔پولیس کو رپورٹ دی گئی تھی کہ ایک بچہ جس کا نام پاکستان ہے،کہیں بھٹک گیا ہے۔اسے تلاش کیا جائے مگرپولیس والے فارغ نہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ انھیں حکمرانوں کی حفاظت کا حکم ہے ۔فرصت ملے گی تو تمہارے پاکستان کی طرف توجہ دیں گے۔ بڑے بڑے حکمرانوں کو بھی کئی درخواستں لکھی ہیں۔درخواست میں بتایا ہے کہ بچہ یتیم ہے ،ابھی شیر خوار ہی تھاکہ اس کاباپ وفات پا گیا ۔اس کی ماں نے ہمت کی تھی کہ اسے پال سکے مگر اس کی ماں کو موقع نہ مل سکا اور وہ بھی جلد وفات پا گئی اگرچہ ماں اور باپ دونوں ہی اپنے اس لخت جگر کو اپنے پیاروں کے حوالے کر کے خالق حقیقی سے جا ملے ،مگر اب تلک اس کے چاہنے والے اس سے پیار کرنے والے اس کی عصمت و حرمت پر مر مٹنے والے اس کی بے بسی کی حالت پر گر یہ کناں ہیں اور اسے اسکی اصلی حالت پر پا لینے کے لیے بے تاب ہیں ۔شک ہے کہ بچے کو اپنوں نے ہی غائب کیا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ بچہ ہونہار ہے ۔اس میں اور بھی بہت سے اوصاف ہیں ۔اس کے نام زمین اور جائیداد ہے اور اس کے پاس بے شمار دولت ہے بہت سی معدنیات اور کانیں اس کی ملکیت ہیں اس لیے کوئی مکار اسے اپنی ملکیت میں لینے کی کوشش کر رہا ہے۔کیونکہ ایسے حاسد ہی کسی کی ترقی برداشت نہیں کر سکتے اور یہ اپنے ہی خاندان کے شر پسند عناصر کے لالچ کی بھینٹ چڑھ گیا ہے ۔اور ان لوگوں نے مو قع پا کراس کی جائداد پر غاصبانہ قبضہ جما لیا ہے وہ نہیں چاہتے کہ اس کی واپسی ہوبلکہ وہ چاہتے ہیں کے دربدر کی ٹھوکریں کھاناہی اس کا مقدر ہوہمیشہ کشکول اس کے ہاتھ میں رہے اور اپنی دولت و خزانوں سے محروم رہے اور اس کے چاہنے والے بھی اس سے مستفید نہ ہو سکیں۔ اور یہ تا حیات اس دنیا میں دولے شاہ کا چوہا بن کر گونگااور بہرہ ہی رہے اس کے حواس گم ہی رہیں اگر یہ اپنی شناخت بنانے کے لیے آہ وبقا بھی کرے تو کوئی اسے حقیر سمجھ کر اس کی حالت سدھارنے پر آمادہ نہ ہو اور یہ ٹھو کریں کھاتے کھاتے اس صفحہ ہستی سے مٹ جائے اور خود غرض کمینے مفاد پرست اور لالچی رشتہ دار جن پر اس نے بچپن میں یتیمی کی حالت میں بھروسا کر لیا تھا کہ یہی میرے خیر خواہ ہیں میری حفاظت میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے اور میری حرمت اور میری آن کی خا طر دن رات پہرہ دیں گے مگر افسوس صد افسوس آج اس کے یہی نام نہاد خیر خواہ اور اس کے اپنے ہی اس کی جان کے دشمن بنے ہوئے ہیں آپس میں ہی دست و گریبان ہیں ہر کوئی چاہتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ حصہ میں وصول کر لوں اندیشہ ہے کہ اس کھینچا تانی میں اس کے ٹکڑے ٹکڑے نہ کر دیں ہماری التجا ہے کہ ا س گمشدہ بچے کو تلاش کیا جائے۔جس کا نام پاکستان ہے۔ اور اسے ٹوٹنے اور بکھرنے سے بچایا جائے بچے کو تلاش کر کے اس کے اصل ورثاء اور خیر خواہ (عوام)کے سپرد کر دیا جائے تا کہ وہ اس کی خوشحالی اور بہتری کی طرف توجہ دے سکیں۔

759 total views, 2 views today

Short URL: //tinyurl.com/zb4j5df
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *