تحریر: پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی میں نے اپنا موبائل فون کھولا تو بلو چستان کے دور افتادہ علاقے بارڈر کے پاس سے کریم نظامی کا فون مسلسل آرہا تھا میں نے فون آن کیا تو نظامی صاحب کے مٹھاس بھرے
میں مختصر قافلہ شوق کے ساتھ تاریخ انسانی کے سب سے بڑے اور آسمان تصوف کے سب سے روشن ستارے حضرت سید علی ہجویری ؒ کے سالانہ عرس مبارک پر حاضر تھا پروانوں دیوانوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر مزار
میں برصغیر پاک و ہند کے سب سے بڑے چشمہ معرفت سے اپنی روحانی پیاس بجھا رہا تھا دنیا بھر سے آئے ہو ئے پروانوں کے اذھان و قلوب اِسی چشمہ معرفت کی ایمان و افروز شبنمی پھوار سے معطر
تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی 80کے عشرے میں حضرت علی ہجویری (المعروف داتا صاحب)کی پرانی مسجد کو شہید کر کے بڑی مسجد اور کھلے صحن کی تعمیر کا کام زور و شور سے جاری تھا دوران کھدائی بنیادوں میں بہت ساری
تحریر: رشید احمد نعیم،پتوکی بر صغیر پاک و ہند میں تصوف دسویں صدی عیسوی میں متعارف ہوا۔بزرگانِ دینؒ اور صوفیا کرامؒ غیر مسلموں کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دیتے اور ذات پات کی تفریق سے منع کرتے۔ اُنھوں نے
تحریر: حافظ کریم اللہ چشتی، پائی خیل گنج بخشِ فیض عالم مظہرِنورِخدا ناقِصاں راپیرِکامِل کاملاں رارہنما خالق کائنات اللہ رب العالمین نے اشرف المخلوقات بنی نوع انسان کی رشدوہدایت اورمقصدتخلیق انسان سے آگاہی کے لئے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء