بونا نہیں بے وقوف۔۔۔۔ تبصرہ نگار: اختر سردار چودھری ،کسووال

Print Friendly, PDF & Email

۔’’بونا نہیں بے وقوف ‘‘جناب حافظ مظفر محسن کی کتاب ہے۔جسے حسن عباسی صاحب نے مرتب کیا ہے ۔اس میں کل 68مضامین ہیں۔ جو 368 صفحات پر پھیلے ہوئے ہیں ۔بلکہ کہنا چاہئے کہ محسن صاحب نے زبردستی پھیلائے ہیں ۔کتاب کے اوپر طنز و مزاح لکھا ہوا ہے ۔
لیکن یہ صرف طنز و مزاح کی کتاب نہیں ہے ۔بعض مضامین میں صرف طنز ہے ۔بعض میں صرف مزاح ہے ۔اور اکثر مضامین ایسے ہیں جن میں طنز ہے نہ مزاح بلکہ رلا دینے والی سچائیاں ہیں ۔کچھ میں کڑوے سچ ہیں، جن کو ملفوف بھی نہیں کیا گیا ۔ چند ایسے مضامین بھی ہیں جن میں کچھ بھی نہیں ہے ۔ صرف لفاظی ہے صرف چند ایک مضامین ایسے ہیں جو طنز و مزاح کے معیار پر پورے اترتے ہیں ۔
اس طرح یہ ایک وکھری ٹائپ کی کتاب ہے ۔جس کو میری اس بات پر یقین نہ ہو وہ ان کی کتاب ’’بونا نہیں بے و قوف‘‘ پڑھ کر دیکھ لے ۔ان کی کتاب پڑھتے ہوئے مجھے خیال رہا۔ ایسا مزاح لکھا گیا ہے جس پربچے مسکرا سکتے ہیں ۔ وہی اسٹائل ،واقعات ،فقرات میں تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ بڑوں کے لیے لکھ دئیے گئے ہیں۔شائد اس کی وجہ ان کا بنیادی طور پر بچوں کا ادیب ہونا ہے ۔کیونکہ سنا ہے حافظ صاحب شاعربھی ہیں اور انہوں نے بچوں کے ادب میں خوب نام کمایا ہے ۔
muhammad muzaffar mohsin' book sمزاح اور طنز کا مطلب کیا ہے ۔ دانشور وں کی اس بارے کوئی ایک رائے نہیں ہے۔خیر سب کی رائے کا احترام کرتے ہوئے میری رائے ہے کہ جس طرح ان کے الگ الگ معنی ہیں اسی طرح ان کی جداگانہ خصوصیات ہیں ۔بلکہ یہ الفاظ ایک دوسرے کے متضاد ہیں ۔انگریزی ادب کے علاوہ دیگر زبانوں کے ادب میں بھی ان کو الگ الگ صنف سمجھا جاتا ہے۔ یہ اعزاز صرف اردو زبان کو حاصل ہے کہ ان الفاظ کو یکجا لکھاہی نہیں برتا بھی جاتا ہے۔اور یہ کم اعزاز کی بات نہیں ہے۔ہمیں اس پر فخر ہے ۔اصل میں مزاح ، کسی عمل، تقریر یا تحریر کے ذریعے تفریح فراہم کرنا، جسے دیکھ ،سن یا پڑھ کر مسکراہٹ ،ہنسی کے چہرے پر رنگ بکھر جائیں۔اور طنزمیں کسی فرد، گروہ یا قوم و ملک کی کم زوریوں ، برائیوں اور بد اخلاقیوں کو تضحیک اور تحقیر کا نشانہ بنایا جاتاہے ۔دونوں مل کرایک الگ ہی ذائقہ دیتے ہیں ۔کہ پڑھتے جائیں مسکراتے جائیں ساتھ ہی دل میں ٹیس بھی اٹھتی رہے ۔مسائل سے آگاہی بھی ہوتی رہے ان کے حل بھی سامنے آتے رہیں ۔ہماری خامیاں ،کوتاہیاں ایسے انداز میں بیان ہوں کہ بیان کرنے والے کی بات تلخ نہ لگے۔ جیسے کڑوی گولی شہد میں ڈبو کر دی جائے ۔
محترم جناب عطاء الحق قاسمی نے حافظ مظفرمحسن کی اس کتاب بارے جو کہا اس کے بعد ہمارے کہنے کے لیے کیا بچا ہے ۔انہوں نے فرمایا ہے کہ ’’ آثاربتارہے ہیں کہ یہ نوجوان کچھ کرکے ضرور دکھائے گا۔ ملاقات سے پہلے اخبارات کی ورق گردانی کرتے ہوئے کبھی کبھار مظفر کی کوئی تحریر نظر سے گزر جاتی۔ وہ تحریر نہ تومکمل طنزیہ مزاح کے زمرے میںآ تی اور نہ ہی سنجیدہ نثر کے زمرے میں شمار ہوتی بلکہ ان دونوں کے مابین 148وکھری ٹائپ147 کی کوئی تحریر ہوتی۔‘‘(بالکل ایسی ہی یہ کتاب ہے )چند مضامین سے جو موتی میں نے چنے ہیں وہ اس کتاب سے ایسے ہی سمجھیں جیسے دیگ میں سے چند چاول جن سے آپ کو پوری دیگ کے ذائقہ کا علم ہو جائے گا ۔’’غوں غوں ،غاں غاں ‘‘میں طنز کے تیر دیکھیں ۔’’ویسے آپ کو پتہ ہے اس قوم کا غصہ بڑے بڑے ظلم سہہ کر کچھ عرصہ بعد ٹھنڈا پڑ جاتا ہے ۔‘‘’’میں ڈر گیا جس طرح ہماری پوری قوم ہر وقت ڈرتی رہتی ہے سیاست دانوں سے ۔ہر دور کے سیاست دانوں نے اس قوم کو خوب ڈرایا ۔ہمیشہ ڈرایا اور جتنا دل چاہا ڈرایا ۔‘‘۔
muhammad muzaffar mohsin''mujeeb ul rehman shami ''atta ul haq qasmi۔’’خود کشی کی تقریب ‘‘اب تو ہر ہاتھ میں موبائل فون اور ہر زبان پر واپڈا والوں کے لیے گالیاں ہیں ۔حالانکہ قصور کسی’’ اور‘‘ کا ہے ۔‘‘۔
۔’’میں خود کشی کرنے جا رہی ہوں ‘‘میں نے ایس ۔ایم ۔ایس پڑھا تو دل باغ باغ ہو گیا ‘‘۔
۔’’پڑھے لکھے علم دوست لوگوں سے تعلق واسطے کایہ فائدہ ہوتا ہے مرتے مرتے بھی نظم سننے سے اکتاتے نہیں ۔‘‘۔
اس مضمون کے آخرمیں جب پتہ چلتا ہے کہ خود کشی کے ،محبت کے،پردیس جانے کے میسج کرنے ’’والی ‘‘نہیں’’ والا ‘‘ہوتا ہے ۔ تو ہلکی سے مسکراہٹ کا پھول کھل جاتا ہے ۔’’نسوار‘‘پوری کتاب میں یہ واحد ،یک لفظی عنوان ہے کسی بھی مضمون کا ۔اپنی تحریر کے طویل ترین عنوانات رکھنے میں محسن صاحب کمال مہارت رکھتے ہیں ۔ان کا بس چلے تو عنوان میں سارا مضمون لکھ دیں ۔اور مضمون کی جگہ عنوان ۔
’’میں نسوار کی ڈبیہ میں اپنے دانت دیکھتا ہوں ۔۔۔غصہ آتا ہے کہ مہنگی سے مہنگی ٹوتھ پیسٹ خریدی جس میں انہوں نے خوبصورت سے خوبصورت لڑکی اشتہار میں دکھائی مگر کوئی بھی ٹوتھ پیسٹ میرے دانتوں میں مثبت تبدیلی نہ لا سکی ۔‘‘۔
syed badar saeed ''shoaib mirza ''muhammad muzaffar mohsin'' akhtar sardar ch۔’’ساٹھ کا دلہا ،بیس کی دلہن ۔۔اس بارات سے ڈر لگتا ہے ‘‘ایک زبردست مزاحیہ اور طنزیہ مضمون ہے ۔لیکن کیا یہ مضمون ہے یا دو آزاد نظموں کا مکسچر اور ان کی مختصر تلخیص۔ میں تو فیصلہ نہیں کر سکا ۔شائد کوئی اور کر سکے۔دو نظمیں جن کی یہ تشریح ہے ۔وہ ہیں ’’سوچ رہا ہوں‘‘ اور’’ ڈر لگتا ہے‘‘ ۔خاص بات یہ کہ نظموں کی ساتھ ساتھ بریکٹوں کے اندروضاحت اور معنی بیان کر کے اپنا مطمح نظر کی وضاحت کر دی گئی ہے ۔ دونوں نظمیں اپنی مثال آپ ہیں ۔اس مضمون میں ان دو نظموں سے الگ ہی ۔موضوع سے ہٹ کر لکھے گئے یہ شعر مجھے کافی پسند آئے ۔

بھوکا بچہ اداس پھرتا ہے
ہائے۔۔وہ بے لباس پھرتا ہے
جو نہ پوری کبھی بھی ہو شاید
لے کے اک ایسی آس پھرتا ہے

۔’’ایکٹومزاح نگار اور بیویوں کے لطیفے ‘‘حافظ مظفر محسن نے اس مضمون میں عطاء الحق قاسمی صاحب کو خراج تحسین پیش کیا ہے ۔اور فراز کے نام سے مشہور ہونے والی شاعری پر بات کرتے ہوئے دو چار ایسے شعر سناتے ہیں پھربیویوں کے لطیفوں کی طرف رخ کرتے ہوئے کہتے ہیں ۔’’میرے پاس بیویوں کے حوالے سے پانچ سو سے زیادہ لطیفے ہیں مگر میں آپ کو اس وقت ایک بھی سنانے کی پوزیشن میں نہیں ہوں کہ بیوی سامنے بیٹھی ہے ‘‘’’بیلی میٹر ۔۔گدھے گدھوں کے بھائی ؟‘‘ اور ’’غصے میں گالی کا استعمال ‘‘دو ایسے مضامین ہیں جن میں مجھے مزاح تو دور تک نظر نہیں آیا ۔طنز کے دو چار جملے ضرور تھے ۔دو تین بار پڑھ کر یہ فقرہ چنا ہے آپ کے لیے وہ بھی ملکہ ترنم نورجہاں کا گانا ہے ۔

ویریا نہ ہوئی تینوں آن دی توفیق وے
مک گئے نے ہنجو نئی او مکدی اڈیک وے

۔’’کروڑ پتی ہونا ایک ککھ پتی کا ‘‘ایک غریب انسان کی ’’کہانی ‘‘ہے جسے فیک انعام کی ای میل موصول ہوتی ہے ۔اور وہ خود کو لکھ پتی سمجھ کر غریب رشتے ٹھکرا دیتا ہے ۔

ہر آنکھ نے پوچھا کیا ہے یہ
دل بولا موت کا رقص ہے دیکھ

۔’’مس این کے ادھورے خواب ‘‘ میں ’’سویٹ ہارٹ ‘‘ کے الفاظ کا بار بار مناسب استعمال مسکرانے پر مجبور کر دیتا ہے ۔
’’شادیاں عام ۔طلاقیں بھی عام ‘‘پڑھنے لائق مضمون ہے اس کے آخر میں ایک شعر ہے ۔نذرقارئین ۔

پتھر کی طرح ہم نے تیرا سوگ منایا
دامن نہ کیا چاک کبھی بال نہ کھولے

۔’’پلاسٹک سرجری ،ڈپلیکیٹ چہرے اور سیاسی چھینا جھپٹی ‘‘’’بھڑک مقابلہ وڈی بھڑک ‘‘’’احمد فراز کے اصلی اشعار اور نقلی حسن کے تزکرے ‘‘پچاس سالہ ماڈل ‘‘’’بینک ۔۔جس کی دنیا میں صرف ایک برانچ ہے ‘‘’’چودھری مائیکل جیکسن ،ملنگوں کی دھمال اور کالا جادو‘‘’’اجڑتے میلے ۔۔لڑائی کے لڈو‘‘’’میں تے چپ کر کے نکل گیا سی ‘‘’’واقعی بڑا شوارمہ‘‘’’حجامت سے سیاست تک ‘‘ ’’اضافی کوالیفکیشن‘‘’’عوامی صدر،عوامی ادیب اور عوامی چور‘‘’’بچ برے دی یاری توں ‘‘جیسے اور دیگر سب مضامین جن کے صرف نام ہی لکھ دیں تو کالم بھر جائے ۔اس لیے ان کے نام نہیں لکھ رہا سب ایسے مضامین ہیں جو پڑھتے ہوئے آپ کے چہرے پر مسکراہٹ ہوگی اورآپ کو ایسے محسوس ہو گا جیسے یہ سب آپ کے آس پاس ہو رہا ہے ۔ان مضامین کے کردار ہمارے آس پاس سانس لیتے محسوس ہوتے ہیں ۔شائد ان میں سے کوئی آپ بھی ہوں ۔سبھی مضامین میں واقعاتی مزاح پیدا کیا گیا ہے ۔واقعاتی مزاح میں جب وضاحت یا وجہ کی تشریح کر دی جائے تو مزاح کہاں رہتا ہے؟ ۔اس لیے معذرت کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے ۔یہ خامی پوری کتاب میں پڑھنے کو ملی ۔اور کوئی خاص تاثر نہیں چھوڑا اس نے ۔ ایسا مزاح لکھتے ہوئے وجہ بتا کر نتیجہ قارئین پر چھوڑ دینا چاہئے ۔’’بے شک ڈرامے باز تھے‘‘ کو پڑھ کر دل بھر آتا ہے ۔آپ یادوں میں کھو جاتے ہیں اپنے کھو جانے والے دوستو کی ۔سارا مضمون اس شعر کے ارد گرد گھومتا ہے ۔

دوستو سے بچھڑ کے یہ حقیقت کھلی فراز
بے شک ڈرامے باز تھے مگر رونق انہی سے تھی

مذکورہ کتاب کا جس مضمون پر نام رکھا گیا ۔ٹائٹل بنایا گیا ’’یعنی بونا نہیں بے وقوف‘‘ یہ مضمون میں نے دو ،تین بار پڑھا ۔اس میں سے طنز یا مزاح ڈھونڈ سکوں لیکن میں یکسر ناکام رہا ۔خیرجیسے تیسے کتاب کا مکمل مطالعہ کرنے کے بعد یہ مضمون لکھا ہے ۔لکھا کہاں ہے کھینچ کھانچ کر پورا کیا ہے ۔جس میں کام کی بات صرف یہ ہے کہ میر ا اپنے دوست جناب مظفر محسن کو مشورہ ہے کہ اپنی تحریر کو لکھنے کے بعد پڑھ ضرور لیا کریں۔تاکہ دوسرے پڑھنے کی زحمت سے بچ سکیں ۔

 1,942 total views,  2 views today

Short URL: http://tinyurl.com/zn2ldb5
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

One Response to بونا نہیں بے وقوف۔۔۔۔ تبصرہ نگار: اختر سردار چودھری ،کسووال

  1. Hafiz Muzaffar Mohsin says:

    Wa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *