٭ احمد نثار، انڈیا ٭

غزل: وہ چمن کا رزداں ہے، یہ چمن ہے رازداں کا

شاعر : احمد نثارؔ وہ چمن کا رزداں ہے، یہ چمن ہے رازداں کا یہ چمن کا راز کھولے، کوئی رازداں نہیں ہے میں سفیرِ کارواں ہوں، وہ ہے کارواں سفر کا مجھے لے چلے جو منزل، کوئی کارواں نہیں

غزل: ظلمتیں بدنام ہونے دیجئے

ظلمتیں بدنام ہونے دیجئے روشنی کو عام ہونے دیجئے کام ہوتا ہے کسی انسان کا شوق سے وہ کام ہونے دیجئے ابتدا کرنا تمہارا کام ہے جو بھی ہو انجام ہونے دیجئے الفتوں کو چار سو پھیلائیے نفرتیں ناکام ہونے

جبیں

شاعر : احمد نثارؔ تو ایک در پہ جھکایا تو معتبر ہے جبیں یہ دربدر ترے سجدوں سے منتشر ہے جبیں تلاش ختم نہ ہو پائی سجدہ گاہی کی یہ کیسے در کے لیے تیری منتظر ہے جبیں ہر ایک

نعتِ شریف: خدا رسولؐ کی نسبت کا فاصلہ دیکھا

شاعر : احمد نثارؔ ، شہر پونہ، مہاراشٹر، انڈیا خدا رسولؐ کی نسبت کا فاصلہ دیکھا خدا کے بعد محمدؐ کا مرتبہ دیکھا میں کیا بتاؤں مدینے میں میں نے کیا دیکھا بڑے ادب سے فرشتوں کا جھومنا دیکھا جہاں

غزل: دیارِ عشق میں تنہا کھڑا، کھڑا ہی رہا

شاعر : احمد نثارؔ ، شہر پونہ، مہاراشٹر، انڈیا۔ دیارِ عشق میں تنہا کھڑا، کھڑا ہی رہا محبتوں کے نگر میں پڑا، پڑا ہی رہا ثمر خلوص و محبت کے تازہ تر ہی رہے کدورتوں کا ثمر تھا سڑا، سڑا

بلکتا دیا (نظم)۔

شاعر : احمد نثارؔ (سید نثار احمد)۔ شہر پونہ، مہاراشٹر، انڈیا یوں ہی اُمیدِ زندگی دے کر، کون مجھ کو تباہ کرتاہے یوں تو سب خیر باد کہتے ہیں، کون غم سے نباہ کرتا ہے جانے گذری ہے اُس کے

غزل: مِثل گھٹاؤں کی پائی جب جن کے کالے بالوں نے

شاعر : احمد نثارؔ ، شہر پونہ، مہاراشٹر، انڈیا Email : ahmadnisarsayeedi@yahoo.co.in مِثل گھٹاؤں کی پائی جب جن کے کالے بالوں نے عمر گذاری پیاسے وہ کر اُن کے چاہنے والوں نے وہ بھی خاصر ہم بھی خاصر ساری دنیا

غزل: تِرا خیال مِرا مسکنِ خیال بنا

شاعر : احمد نثارؔ تِرا خیال مِرا مسکنِ خیال بنا تِرا جمال مِرا گلشنِ خیال بنا خیالِ یار سے معراج ہوگئی میری خیالِ شوق تِرا خرمنِ خیال بنا سمٹ کے رہ گئے تیرے تخیلات جہاں میرے خیال میں تو چلمنِ

غزل: نہ حاکمی کے لئے اور نہ ہی شاں کے لئے

شاعر: احمد نثارؔ  شہر پونہ، مہاراشٹر، بھارت Email : ahmadnisarsayeedi@yahoo.co.in نہ حاکمی کے لئے اور نہ ہی شاں کے لئے جہاں میں آیا ہے تو صرف امتحاں کے لئے کسک ہے سوز ہے آہ و فغاں کی سیلانی تمام درد

غزل: اُس دشمنِ جاناں کو نہ پھر یاد کروں گا

شاعر : سید نثار احمد (احمد نثارؔ )۔ اُس دشمنِ جاناں کو نہ پھر یاد کروں گا ہر گز نہ غمِ دل کو کبھی شاد کروں گا جب میرے دلِ زار کی سنتا نہیں تو بھی نہ زار کروں گا