٭ رقیہ غزل ٭

سیاستدانوں کی منافقت اور ذمہ داران کی بے حسی !۔۔۔۔ تحریر: رقیہ غزل

Roqiya Ghazal

سیاستدانوں کی منافقت اور ذمہ داران کی بے حسی کے برے اثرات اسلام پر کیوں !۔ یہ مقدس ماہ رمضان کا آخری عشرہ ہے اور عید الفطر کی آمد آمد ہے یہ ماہ مقدس جس میں بعض مفتی حضرات تک

گرمیوں میں سیاسی سرگرمیاں !۔۔۔۔ تحریر: رقیہ غزل

Roqiya Ghazal

وزیراعظم پاکستان کی ہارٹ سرجری نے ملک میں غیر معمولی سکوت طاری کر رکھا ہے اس بارے کئی قسم کی چہ مہ گوئیاں بھی گردش کر رہی ہیں یہ تو طے ہے کہ میاں صاحب کا آپریشن تاحال سوالیہ نشان

ہنگامہ ہے کیوں برپا۔۔۔۔ تحریر: رقیہ غزل

Roqiya Ghazal

پانامہ لیکس ہنگامے کو برپا ہوئے تقریباً تین ماہ ہونے کو ہیں مگر تاحال کوئی نتیجہ خیزصورت نظر نہیں آرہی ہے پہلے پہل اس میں نامزد سرمایہ دار یہ ماننے کو تیارہی نہ تھے کہ وہ آف شور کمپنیوں کے

اقتدار بچاؤ مہم ۔۔۔۔ تحریر: رقیہ غزل

Roqiya Ghazal

موسم کا درجہ حرارت بڑھنے کے ساتھ ہی سیاسی درجہ حرارت بھی بڑھنا شروع ہوگیا ہے ایسے میں شعلہ بیانیاں اور موشگافیاں عروج پر ہیں کہیں پی پی قائدین گرج رہے ہیں تو کہیں تحریک انصا ف کے قائدین سراپا

اے پیڑا وی جَر جاؤو!۔۔۔۔ تحریر: رقیہ غزل

Roqiya Ghazal

فتح مصر کے موقع پر مسلم سپہ سالار نے حضرت عمرؓ کومال غنیمت کے ساتھ ایک رقعہ بیجھا جس میں درج تھا کہ میرے سپاہی اس قدر دیانتدار ہیں کہ اگر کسی کوکبھی کہیں سے سونے کی ایک اینٹ بھی

قانون اور انصاف کا سہولت کار ! اقرارالحسن ۔۔۔۔ تحریر: رقیہ غزل

Roqiya Ghazal

اقرارالحسن قانون اور انصاف کا سہولت کار ہے اس نے سندھ حکومت کی غفلت ،لاپرواہی اور بد مستی کی حالت میں حکومتی اداروں پر موثر گرفت نہ ہونے کا عملی ثبوت دینے کیلئے سندھ اسمبلی جیسے اہم ترین ایوان کی

عوام کو اب بیدار ہونا ہوگا!۔۔۔۔ تحریر: رقیہ غزل

Roqiya Ghazal

آج سیاست ’’ڈیلی سوپ ‘‘ بن چکی ہے جہاں ہر روزعجیب و غریب کہانیاں اور نت نئے قصے سننے کو ملتے ہیں ہر نئے معاملہ بارے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ جیسے ہمارے ملک کا حقیقی مسئلہ ہی یہی ہے

کس نے سجائے مقتل ننھے فرشتوں کے لیے ؟۔۔۔۔ تحریر: رقیہ غزل

Roqiya Ghazal

دل بضد ہے کہ لال آندھی نہیں چلی پھر یہ زمین کیسے لہولہوہو گئی ،طائروں کے جھرمٹ بلند نہیں ہوئے تو پھر یہ طوفان کیسے آ گیااور گل رنگ فضاؤں پر یہ کیسا ماتم چھا گیا،کس نے گلشن کو شعلوں

حقوق نسواںیا تحفظ خواتین بل۔۔۔۔ تحریر: رقیہ غزل

Roqiya Ghazal

پنجاب اسمبلی سے منظور ہونے والا بل’’ حقوق نسواں ‘‘تمام با شعور اور آگاہی رکھنے والے خواص و عوام میں زیر بحث ہے جبکہ اکثریت کو بل کی تفصیلات کا علم تک نہیں ہے اور بیشتر کا تو یہ کہنا

پولیس کی عزت و وقار داؤ پر کیوں ؟۔۔۔۔ تحریر:رقیہ غزل

Roqiya Ghazal

آج ہمیں بیرونی طور پر اگر دہشت گردی کا سامنا ہے تو اندرونی طور پر کہیں نہ کہیں پولیس گردی سنگین صورتحال اختیار کرتی جا رہی ہے پولیس گردی بلاشبہ اگر ایک طرف انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے