٭ رقیہ غزل ٭

بلاول ویل پلیڈ ؟

Roqiya Ghazal

تحریر : رقیہ غزل اکثریتی عوام کی رائے ہے کہ بھٹو وہ واحد انسان تھے جو عوام کے حقوق کی بات کرتے تھے درحقیقت یہ بات درست بھی ہے کیونکہ روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ پہلی مرتبہ بھٹو نے

پاکستان کے حالات اور ہماری حکمت عملی !۔

Roqiya Ghazal

تحریر:رقیہ غزل اگر پاکستان کو درپیش خطرات کے تناظر میں بات کی جائے تو پاکستان کو صرف بھارت ہی سے نہیں بلکہ افغانستان اور ایران سے بھی کسی حد تک خطرہ لاحق ہے بھارتی عزائم تو کسی سے بھی چھپے

میرٹ کی دھجیاں اور حوصلہ شکنیاں

Roqiya Ghazal

تحریر: رقیہ غزل علم ایک ایسا نور اورروشنی ہے کہ جس کی لو سے انسان کی زندگی کو ترویج ملتی ہے اور کائنات کی وسعتوں سے آگاہی ہوتی ہے سب سے بڑی بات یہ کہ ایک انسان کودنیا میں اپنے

تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں ! ۔۔۔۔ تحریر: رقیہ غزل

Roqiya Ghazal

۔6 ستمبر پاکستان کی تاریخ کا وہ یادگاردن ہے جس دن پاکستانیوں کے باہمی اتحاد اور افواج پاکستان کی بے مثل جرات و بہادری نے دل دہلا دینے والی یادگار داستانیں رقم کر کے پاکستان کا اقوام عالم میں سر

حساب تو طے ہے !۔۔۔۔ تحریر: رقیہ غزل

Roqiya Ghazal

پانامہ لفافہ جونہی کھلا تو ہم نے لکھ دیا تھا کہ ’’اے پیڑا وی جر جاؤو‘‘ اور وقت شاہد ہے ویسا ہی نظر آرہا ہے یہاں تک کہ جو صحافی حضرات پاکستا ن کی سیاسی تاریخ میں کسی بہت بڑی

نریندر مودی خطے کیلئے خطرہ ہے !۔۔۔۔ تحریر: رقیہ غزل

Roqiya Ghazal

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی جنگل میں ایک بھیڑیا رہتا تھا ایک دن بھیڑیا شکاری کے جال میں پھنس گیا۔بہت زور لگایا ہاتھ پاؤں مارے مگر شکاری کے جال سے نہ نکل سکااسی اثنا میں قریب سے ایک

کیا ہم واقعی آزاد جمہوری معاشرے کے آزاد شہری ہیں ؟۔۔۔۔ تحریر: رقیہ غزل

Roqiya Ghazal

پاکستان کو وجود میں آئے ایک عرصہ بیت چکا ہے اور اگر ان بیتے ہوئے سالوں کا غیر جانبداری سے جائزہ لیا جائے تو ہم پر آشکار ہوگا کہ پاکستان میں بالا دست طبقات اور ہمارے سیاستدانوں کے ذہن جمہوری

سانحہ کوئٹہ! پاکستان پر حملہ ۔۔۔۔ تحریر: رقیہ غزل

Roqiya Ghazal

ہمارا المیہ یہ ہے کہ اداروں کی کوتاہیوں اور حکمرانوں کی مفاد پرستیوں کی وجہ سے ملکی معاملات حوادث اورسانحات میں بدل چکے ہیں۔اگر معاملات کو معمولی سمجھا جائے تو حادثات رونما ہوتے ہیں اور اگر یہ سمجھا جائے کہ

صوبائی دارلحکومت میں بچوں کا اغوا ۔۔۔۔ تحریر:رقیہ غزل

Roqiya Ghazal

نوے کی دہائی میں جب بچوں کا اغوایک معمہ بن چکا تھاتو ایسے میں ایک روز30دسمبر 1999 میں جاوید اقبال نامی ایک شخص نے اردو اخبار کے دفتر میں جا کر کہا کہ ’’میں جاوید اقبال ہوں ،سو بچوں کا

خادم اعلیٰ ایک نظر ادھر بھی ! ۔۔۔۔ تحریر: رقیہ غزل

Roqiya Ghazal

نوے کی دہائی میں جب بچوں کا اغوایک معمہ بن چکا تھاتو ایسے میں ایک روز30دسمبر 1999 میں جاوید اقبال نامی ایک شخص نے اردو اخبار کے دفتر میں جا کر کہا کہ ’’میں جاوید اقبال ہوں ،سو بچوں کا