٭ کالمز و آرٹیکلز ٭

فین کلب

Prof. M. Abdullah Bhatti

تحریر: پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی دوپہر کا وقت مئی کا مہینہ آسمان پر بادلوں کا ایک بھی ٹکڑا نہیں تھا سورج صبح سے ہی سوا نیزے پر آگیا تھا سورج کے تیور بتا رہے تھے کہ آج وہ زمین کو

غربت اور مہنگاہی کی ماری عوام کا آخری سہارا سپریم کورٹ

Mir Afsar Aman

تحریر: میر افسر امان غربت اور مہنگاہی میں سسکتے عوام نے جب اہم نوعیت کے حامل یعنی ہائی پروفائل کرپشن کیسز میں حکومتی ذمہ داروں کی مداخلت کے خلاف سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کا سنا تو بے ساختہ

ڈالر کی اونچی پرواز کیا رنگ دکھائے گی؟

M. Riaz

تحریر: محمد ریاض سابق وزیراعظم عمران خان حکومت خاتمہ کے وقت معاشی طور پر بدحال مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان کی اکثریت نے سکھ کا سانس لیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان کی تجربہ کار سیاسی جماعتوں بشمول

بیوروکریسی میں ”ورکرز کریسی“ کے فروغ کی ضرورت

تحریر: محمد نور الہدیٰ بیوروکریٹ ہوتے ہوئے ”ڈاؤن ٹو ارتھ“ رہنا کسی کسی کو ہی آتا ہے۔ ہمیں بہت کم ایسے سرکاری افسران ملتے ہیں جو اگلے کو متاثر کر پاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بیوروکریسی کے

کیا ایسا بھی ہوسکتا ہے؟۔۔۔۔ تحریر: شیخ خالد زاہد

Sheikh Khalid Zahid

وقت کسی بپھرے ہوئے سمندر کا رویہ اختیار کر چکا ہے جس کی وجہ سے ساری دنیا کے حالات غیر یقینی کی صورتحال سے دوچار ہیں ۔ جیسا سوچا تھا ویسا تو ہوا نہیں اور ویسا ہوگیا جس کا خیال

آسمان تیری لحد پر شبنم افشانی کرے

Prof. M. Abdullah Bhatti

تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی ایک سوال مجھ سے ملنے والے اکثر تواتر کے ساتھ پوچھتے ہیں کہ سر آپ روزانہ سینکڑوں لوگوں سے دس سے پندرہ گھنٹے لگاتا ر ملتے ہیں یہ مختلف مزاجوں اور علاقوں کے کھردرے لوگ جو

کپتان کاکوئی علاج نہیں

Umer Khan Jozvi

تحریر: عمرخان جوزوی نادان کہتے ہیں کہ فوری یاجلدانتخابات کپتان کابہترین علاج ہے لیکن ہم دعوے سے کہہ سکتے ہیں کہ کپتان کاکوئی علاج نہیں۔کپتان جسم میں سرسے پاؤں تک پھیلنے والی اس کینسراورناسورکی طرح ایک ایسی خطرناک اور لاعلاج

سید علی گیلانی: کتاب ولر کنارے

Mir Afsar Aman

تحریر: میر افسر امان کل مورخہ 15 /مئی کو شیر کشمیرِ سید علی گیلانیؒ کی کتاب“ ولر کنارے“جو2010ء سے قبل اُردو میں لکھی گئی تھی، اب اس کتاب کا انگریزی ترجمہ منصور نقشبندی نے کیا ہے۔ اس کتاب کی تقریب

میرا دیر سے گھر آنا

Prof. M. Abdullah Bhatti

تحریر: پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی ماں جی کے جانے کے بعد یہ میر ی پہلی عید تھی میری ماں محبتوں شفقتوں کے سارے رشتے توڑ کر وہاں چلی گئیں جہاں ساری مائیں چلی جایا کرتی ہیں ماں کے جانے کے

عقدہ اورعقیدہ

تحریر: محمد ناصر اقبال خان اِسلام پراستقامت کا”عقدہ” درست “عقیدہ “میں پنہاں ہے۔ مسلمان مرداورعورت آپس میں “عقد “کیلئے ایک دوسرے کا”عقیدہ “ضروردیکھتے ہیں۔یادرکھیں “استعداد” کا”تعداد” سے کوئی موازنہ نہیں،جس انسان کاکوئی نظریہ نہیں وہ نظر ہوتے ہوئے بھی بینائی