٭ ملک شفقت اللہ ٭

پنکچر کہانی

تحریر: شفقت اللہ ہمارے ایک بزرگ بتاتے ہیں کہ اپنے دور میں وسائل نہ ہونے کی وجہ سے بہت مشکل گزارا کیا ۔تعلیم حاصل کرنے میں سب سے بڑی مشکل یہ تھی کہ آپکو میلوں سفر کرنا پڑتا تب جا

​خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی

تحریر:۔ شفقت اللہ کل شب میں نے ایک خواب دیکھا ۔خواب میں محمد بن قاسم مجھ سے مخاطب تھا اور کہنے لگا، ارے تم سوئے ہوئے ہو! میں نے کہا جی حضور شام ڈھل چکی ہے سونے کا ہی وقت

عادل حکمران وقت کی اہم ضرورت

تحریر: شفقت اللہصدیوں سے چلی آ رہیں حکایات ،قصے اور تواریخ سے کوئی نہ کوئی اخلاقی اسباق، تربیت اور عقلمندی کا درس ملتا ہے لیکن موجودہ دور میں پاکستان کے جو حالا ت ہیں انہیں دیکھ کر عقل شش و

ہیں دلیلیں تیرے خلاف مگر

تحریر: شفقت اللہمصر کے بازا ر میں ایک بھکاری ہاتھ پر روٹی کا چھوٹا سا ٹکڑا لئے کھانے ہی والا تھا کہ اچانک ایک گلی کا بد قماش کتا جھپٹا اور روٹی کا ٹکڑا اڑا لے گیا بجائے اس کے

کشمیر اور کتنی شہادتیں دینا ہوں گی

تحریر: شفقت اللہسپریم کورٹ آف انڈیا کے سابق جج ،پریس کونسل آف انڈیا کے سابق چئیرمین قانون اور عدل کی دنیا کا جانا پہچانا نام جسٹس مارکنڈے کاٹجو کا تعلق کشمیری پنڈت گھرانے سے ہے مگر ان کے والد بہت

یہودی اور مسجد اقصیٰ

تحریر: شفقت اللہ قرآنی آیات کا مفہوم ہے کہ ’’پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کوایک ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ لے گئی جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے اس لئے کہ

تاریخی فیصلہ

تحریر: شفقت اللہکرپشن کا رونا کوئی نیا نہیں ہے یہ ہر دور میں رہا ہے تاریخ رقم کرنے والوں کے قرطاس پر سنہرے حروف میں حکمرانوں کے استحصال کی کہانیاں رقم ہیں مسلمانوں نے آٹھ سو سا ل تک پوری

کل بھوشن کا مستقبل کیا ہے؟

تحریر: شفقت اللہ حال ہی میں بھارتی فلم انڈسٹری نے ایک کہانی فلمائی جس کا آغاز انہوں نے ایک راء ایجنٹ کے ٹیلیفون سے کیا ۔وہ ٹیلی فون پر اپنے دس سالہ بیٹے کے ساتھ بات کر رہا تھا اور اس

ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور؟

تحریر: شفقت اللہقرآن کریم میں ویسے تو ہر قسم کے جرائم کے خاتمے کیلئے سزا بیان کی گئی ہے اور ایک بہترین اور مکمل امن و اخلاقی اقدار سے لبریز معاشرہ قائم کرنے کی بھی تعلیمات موجود ہیں لیکن سب

چوروں کی تاج پوشی

تحریر: شفقت اللہ قرآنی آیات کا مفہوم ہے کہ’’ وہ لوگ کانوں سے بہرے ،آنکھوں سے اندھے ،زبان سے گونگے ہیں اور پس یہ صحیح راستے پر آنے والے نہیں ‘‘کیسے لوگ ؟ جن کا ذکر میں اپنی اس تحریر