٭ مجید احمد جائی ٭

بہار آئی ۔۔۔۔کیا رنگ لائی۔۔۔۔ تحریر: مجیداحمد جائی، ملتان

Majeed Ahmad Jai

سردیاں آخر رخت سفر باندھ ہی گئیں۔مارچ کا آغاز ہو چلا۔ٹنڈ منڈ درختوں پر نئی کونپلیں ناچنے لگیں۔فصلیں لہلہانے لگی۔باغوں میں فاختائیں گنگانے لگی۔گلشن پھولوں سے لد گئے۔اُجڑے زردی مائل چہروں پر لالی آنے لگی۔ہر طرف سبزہ ہی سبزہ دلوں

بڑے نایاب ہیں ہم۔۔۔۔ تحریر: مجید احمد جائی

Majeed Ahmad Jai

آپ روز اخبار نہیں تو ٹی ،وی ضرور دیکھتے ہوں گے کس طرح سیاستدان ایک دوسرے کے قصدے پڑھ رہے ہوتے ہیں۔ایسی خوبیاں صر ف اور صرف پاکستانی سیاستدانوں میں پائی جاتی ہیں۔آپ پوری دنیا گھوم پھر لیں ایسے سیاستدان

گدا گری کی لعنت سے نجات دلائیں۔۔۔۔ تحریر: مجیداحمدجائی، ملتان

Majeed Ahmad Jai

میں اپنی بہن کو اسکول سے واپس لے کر آرہا تھا۔مین چوک پر گنے کا جوس پینے کے لئے ابھی رکے ہی تھے کہ دو بوڑھی عورت سامنے آن کھڑی ہوئیں۔اللہ!کے نام پہ دے جاپتر،مولا جوڑی سلامت رکھے۔ایک لمحے کے

چائلڈ لیبر قوانین، لمحہ فکریہ۔۔۔۔ تحریر: مجید احمد جائی

Majeed Ahmad Jai

یہ اتوار کا دن تھا۔سرکاری اداروں،سکول ،کالج،یونیورسٹی میں ہفتہ وار چھٹی ٹھی۔مگر دس سالہ ارسلان کو آج بھی چھٹی نہیں تھی۔کیونکہ ارسلان نہ ہی سرکاری آفیسر تھا نہ ہی سٹوڈنٹ۔وہ تو ملازم تھا،غلام تھا،غربت کے ہاتھوں بک گیا تھا۔ارسلان سے

سب سے پہلے پاکستان۔۔۔۔ تحریر: مجید احمد جائی، ملتان

Majeed Ahmad Jai

انسان ترقی کی منزلیں طے کرتے کرتے مریخ سے آگے کمنڈیں ڈال چکا ہے۔جوں جوں انسان ترقی کرتا گیا ہے شیطانی خیالات بھی عروج پکڑتے چلے گئے ہیں۔انسان اور شیطان کا روز اول سے وئیر ہے۔آج کا انسان اپنے ہی