٭ مجید احمد جائی ٭

خود کش ۔۔اور۔۔خود کشی۔۔۔۔ تحریر: مجیداحمد جائی، ملتان

Majeed Ahmad Jai

ابھی کل کی بات ہے ،میں ڈیوٹی کرنے کے بعد گھر کو آرہا تھا،مین سڑک کے کنارے کافی رش تھا،شاید ایکسڈنٹ ہو گیا ہے،یہی سوچ کر میں رُک کر جائزہ لینے لگا،عورتوں ،مردوں کا کثیر ہجوم تھا۔زمین کے فرش پر

گائے گی دُنیا گیت میرے۔۔۔۔ تحریر: مجیداحمد جائی، ملتان

Majeed Ahmad Jai

برصغیر کی موسیقی کی تاریخ مرتب کرنے والے شاید کئی مقبول گلوکاروں کو نظر انداز کر دیں ،مگر ملکہ ترنم کا خطاب پانے والی میڈم نورجہاں کو نظر انداز کرنا کسی بھی مورخ کے لئے ممکن نہیں۔موسیقی کی اُس تاریخ

مودی!جاگتی آنکھوں سے خواب دیکھنا چھوڑ دے۔۔۔۔ تحریر: مجیداحمد جائی، ملتان

Majeed Ahmad Jai

انسانی رویوں میں جب شیطانیت عنود کر جائے تو دشمنی وجود میں آجاتی ہے۔پاک دھرتی کو ہمیشہ اندرونی بیرونی دشمنوں کا سامنے رہا ہے۔سب سے عیار،مکاردشمن بھارت ہے۔جس نے اپنے ہتھکنڈوں سے ہمیشہ پاکستان کو نشانہ بنایا ہے۔اپنی مکاری ،عیاری

شجاع کی شجاعت کو سلام۔۔۔۔تحریر۔مجیداحمد جائی،ملتان

Majeed Ahmad Jai

اتوار کی صبح ایک اور دل خراش سانحہ ہوا۔زمین ایک بار پھر لرز گئی،آسمان دیکھتا رہا۔فضا پھر سے آلودہ ہوئی اور خون نے دھرتی ماں کے سینے کو رنگین کر دیا۔پھر سے ماتم،سہاگ اجڑے گئے،سہاگنیں لٹ گئیں،بچے یتیم ہوئے،بیٹوں کے

یوم آزادی۔عہد ساز دن۔۔۔۔ تحریر: مجیداحمد جائی،ملتان

Majeed Ahmad Jai

اگست کے شروع ہوتے ہی خون کی گردش تیز ہوجاتی ہے۔جذبے ٹھاٹھیں مارنے لگتے ہیں۔جوانوں میں جوش امڈ آتا ،بچے خوشیوں کی تیاری میں لگ جاتے ہیں۔بوڑھے شکرانے کے نفل ادا کرتے ہیں۔اپنے پیاروں کو یاد کرکے ان کے قصے

اس بارکون عید منائے گا۔۔۔۔ تحریر: مجیداحمد جائی،ملتان

Majeed Ahmad Jai

اس بار بھی ماہ رمضان رخت سفر باندھ چکا۔تیسرا عشرہ الوداع ہونے کو ہے۔آئندہ سال نجانے کون زندہ رہے گا،کون نہیں۔عید کی آمد آمد ہے۔رب رحمان اپنے بندوں کو ماہ رمضان کا تحفہ عید کی صورت عطا کرتا ہے۔خوشیاں منانے

یہ بارشیں،رحمت سے زحمت کیوں بنتی جاتی ہیں۔۔۔۔ تحریر: مجیداحمد جائی، ملتان

Majeed Ahmad Jai

رب رحمان کا کیوں ناشکرانہ ادا کروں کہ دُنیا میں کوئی بھی چیز بے کار نہیں بنائی۔چھوٹی سی چھوٹی چیز جسے ہم اپنی ناقص عقل سے حقیر گردانتے ہیں کہیں نہ کہیں فائدہ دے جاتی ہے۔رب رحمان ہزاروں پتھروں کے

شادی مشکل ،زنا آسان،واہ رے آج کے مسلمان۔۔۔۔ تحریر: مجیداحمد جائی،ملتان

Majeed Ahmad Jai

کہتے ہیں دُنیا میں دو قسم کے آسان پائے جاتے ہیں۔ایک وہ جو رب رحمان کے بتائے ہوئے راستے پر چل کر فلاح پاتے ہیں اور دوسرے وہ جو رب رحمان کی بجائے شیطان کے پیروکار بن جاتے ہیں۔دوسری قسم

سائیکل اسٹینڈ۔۔۔۔ تحریر: مجیداحمد جائی، ملتان

Majeed Ahmad Jai

آپ نے سائیکل اسٹینڈ کا نام تو سنا ہی ہوگا۔ہاں ہر روز نہیں تو کبھی کبھی یہ نام سننے کو ملتا ہے کہ فلاں پیر کے عرس پر سائیکل اسٹینڈ لگا ہوا ہے۔لوگوں کی تفریح کے لئے دیہاتوں،میلوں ٹھیلوں پر

مائیں بین کر رہی ہیں۔۔۔۔ تحریر: مجیداحمد جائی، ملتان

Majeed Ahmad Jai

صُبح صُبح اپنے پیارے دوست کو کال کی تودوسری طرف سسکیاں ہی سسکیاں تھیں۔آواز جیسے دُور بہت دُور گہرائی سے آرہی ہو۔ صُبح صبُح کیا ہوا ؟میرا دوست غمگین کیو ں ہے۔روہانسی لہجے میں جواب ملا،کیا بتاؤں دوست؟کلجہ کٹ گیا