٭ ہدایت اللہ اختر ٭

ٹوپی اور شانٹی ڈے

دنیا کے تین بڑے پہاڑی سلسلوں  قراقرم، ہمالیہ اور ہندوکش کے درمیان واقع سرسبز وشاداب خطہ گلگت بلتستان   آبی اور معدنی وسائل سے مالامال ہونے کے علاوہ اپنے سینے میں دنیا کے قدیم تہذیبوں کوبھی سمیٹےہوئےہے۔ اگرچہ اس خطے کی

شکریہ وزیر اعلیٰ۔۔صفائی سب سے اعلیٰ

سوچ رہا ہوں کہ بات کہاں سے شروع کروں۔سوشل میڈیا میں تو جنگ کےبادل منڈھلا رہے ہیں۔بلکہ یوں سمجھیں کہ انڈیا اور پاکستان کے فیس بکی جوان جنگ شروع کر چکے ہیں ۔ہم بھی حالت جنگ میں ہی ہیں۔کس جنگ

سی پیک اور ٹوپی

اس میں کوئی شک نہیں کہ اپنے کلچر سے سب کو پیار ہوتا ہے لیکن بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم کلچر کی رٹ تو لگاتے ہیں لیکن کلچر کی ترویج پہ جب بات آتی ہے تو کہا

جھنڈے سے بیر کاہے کا

وہ بڑے جوش سے کہہ رہا تھا ہم کیوں منائیں جشن آزادی پاکستان۔ہم تو پاکستانی ہی نہیں۔میں نے پوچھا کیوں آپ ہندوستان سے آئے ہیں۔اس نے نفی میں جواب دیتے ہوئے کہا۔۔ہندوستان اور پاکستان دو الگ ملک ہیں اور ہم

آٹھواں عجوبہ (قسط ۱)۔

دنیا کے سات عجوبوں سے سبھی واقف ہیں نام گننے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا آٹھواں عجوبہ جس کا ذکر نہیں بس کہا جاتا ہے کہ یہی دنیا کا آٹھواں عجوبہ ہے وہ بھی اگر قرار دیا جائے تو ابھی

شندور میلہ

آج کی دنیا میں پولو جو اپنی اصلی حالت میں کھیلی جاتی ہے  اس کا مسکن گلگت بلتستان اور چترال ہے۔ماضی قریب تک ان علاقوں میں  ہر گھر میں کم از کم ایک گھوڑا  پالنے اور رکھنا ضرور ی خیال

دردستان

کونسا دردستان یہی کہہ رہے ہیں ہیں نا آپ؟۔ارے آپ دردستان سے آشنا نہیں   تعجب ہے،تو پھر کیسا دعویٰ ہے  آپ کا شندور کی آراضی پر؟۔۔ جی ہاں   جہاں میں اور آپ اس وقت رہ رہے ہیں  یہی تو دردستان

سدپارہ جھیل

سکردو کو دیکھے ہوئے بڑا عرصہ بیت گیا تھا۔دل چاہ رہا تھا کہ ایک بار پھر سکردو ہو آئوں۔ سکردو سے میری وابستگی  کئی حوالوں سے تو نہیں  البتہ لڑکپن اور  ملازمتی حوالے سے میں یہ دعویٰ کر سکتا ہوں

قصور کس کا؟

قصور کی ایک کہانی ہے اور قصور ملک پاکستان کا ایک شہر ہے   قصور کی بات ہورہی ہے تو قصور کس کا ہے  ۔اس کا جس نے شہر کا نام قصور رکھا ہے یا شہر قصور کا کہ قصور میں