’’2014‘‘کھیل کے میدان میں کیا کھویا کیا پایا۔۔۔۔ تحریر: عقیل خان

Print Friendly, PDF & Email
سال 2014اختتام تقریباً ہوچکا ہے۔ اس سال میں جہاں ہم نے بہت کچھ پایا وہاں ہم نے بہت کچھ کھویا بھی ہے۔ زندگی کے اتارچڑھاؤ کی طرح ہمارے کھیل کے میدانوں میں بھی کچھ اسی طرح کی کیفیت رہی۔ کبھی خوشی کبھی غم میں ڈھلتے ہوئے لمحات میں یہ سال بھی پورا ہوگیا۔اب نئے سال میں نئی امیدوں کے ساتھ ہم قدم رکھیں گے۔ 2014میں ہمارے کھیل کے میدانوں میں کیا ہوا اس پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔2014 پاکستان کے کھیل کے میدانوں میں کافی ہنگامہ خیز ثابت ہوا۔سورج کے نکلنے اور غروب ہونے کی طرح پاکستان کے کھیل کے میدانوں میں پاکستان کی کارکردگی میں اتارچڑھاؤ دیکھنے میں آیا لیکن اس کے ساتھ ساتھ تنازعات بھی پیچھا کرتے رہے۔
پاکستانی کرکٹ چونکا دینے والی خبروں کے اعتبار سے شہ سرخیوں میں رہی۔پی سی بی کی چیئرمین شپ کو حاصل کرنے کی کوشش میں اس عہدے کو پانے والے فریقین اس کیس کو عدالت میں لے گئے اور اس تنازعے کا ڈراپ سین کچھ اس طرح ہوا کہ ذکا اشرف کو چیئرمین کے عہدے سے محروم ہونا پڑااورنجم سیٹھی نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی چیئرمین شپ سنبھال لی۔ نجم سیٹھی کے بعد شہر یار خان کو پاکستان کرکٹ بورڈ کا چیئرمین بنا دیا گیا۔نجم سیٹھی پی سی بی کی چیئرمین شپ کو چھوڑ کر آئی سی سی کی صدارت تک جا پہنچے۔پی سی بی کی صدارت کی طرح پاکستانی کرکٹ ٹیم کی کپتانی بھی ایسی ہی ہے کہ اچھے اچھے کے منہ میں پانی آجاتا ہے۔اس کپتانی کے چکر میں شاہد آفریدی کے دل میں خواہش نے جنم لیا مگر کرکٹ بورڈ کی ہلکی پھلکی ڈانٹ ڈپٹ نے اس خواہش کا وہی دم توڑ دیاکیونکہ کرکٹ بورڈ نے مصباح الحق کو ورلڈ کپ تک کپتان بنانے کا فیصلہ کر دیا۔2014میں ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کے سب سے کامیاب بیٹسمین یونس خان کو جب ون ڈے ٹیم سے ڈراپ کردیا گیا تو پھر انہوں نے بھی اپنے دل کی خوب بھڑاس نکالی جس کے نتیجے میں ان کو نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے ٹیم کا حصہ بنا دیے گیا۔یہ سال اس اعتبار سے بھی کافی کٹھن رہا کہ پہلے سعید اجمل اور پھر محمد حفیظ کو مشکوک بولنگ ایکشن کے باعث بین الاقوامی کرکٹ میں بولنگ کرنے سے روک دیے گئے۔ سعید اجمل کا معاملہ خاصا پیچیدہ رہا اور آخر کارآئی سی سی کی مہربانی اور بورڈ کے تعاون سے وہ ورلڈ کپ سے باہر ہوگئے۔جہاں پاکستانی کرکٹ میں اتنا اتارچڑھاؤ ہوا ادھر ٹیم مینجمنٹ میں بھی دھینگا مشتی ہوئی اورپاکستان کرکٹ بورڈ نے وقار یونس کو ایک بار پھر کوچ کی ذمہ داری سونپ دی گئی۔دودو عہدے رکھنے والے معین خان کوبھی ایک عہدے سے ہاتھ دھونا پڑا اور یہ سال جاتے جاتے معین کو چیف سلیکٹر کے عہدے تک محدود کرگیااور ان کی جگہ بیوروکریٹ نوید اکرم چیمہ کو ٹیم منیجر بنادیا گیا۔
ہاکی جو پاکستان کا قومی کھیل ہے۔ کبھی اس کھیل میں پاکستان کا بول بالا تھا مگر ہمارے اس قومی کھیل کو بے جا سیاسی مداخلت اور سفارش نے تباہی کے دہانے پر کھڑا کردیا ہے۔ قومی کھیل میں بھی پاکستان ہاکی فیڈریشن کی جانب سے آئی او سی کی منظور شدہ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کو تسلیم نہ کرنے کے نتیجے میں پاکستانی ٹیم کو کامن ویلتھ گیمزجیسے مین ایونٹ سے محروم ہونا پڑا مگراس کے باوجود 2014 پاکستان ہاکی کے لیے پھر بھی خوش نصیب رہا کیونکہ پاکستان ہاکی ٹیم نے ایشین گیمز اور چیمپیئنز ٹرافی کے فائنل کے لیے کوالیفائی کیامگر بدقسمتی سے دونوں کے فائنل میں شکست ہوئی۔ افسوسناک بات یہ کہ پاکستان ورلڈ کپ کی تاریخ میں پہلی بار عالمی مقابلے کے لیے کوالیفائی نہ کرسکا۔
پاکستان سنوکر میں اس سال ساری کامیابیاں تو نہ سمیٹ سکا مگر پھر بھی یہ سال اچھا رہا ۔۔اس میدان میں پاکستان کا نام محمد آصف اور محمد یوسف سنہرے لفظوں میں لکھواچکے ہیں۔ حکومت کی بدنیتی کی وجہ سے اس کھیل کو وہ مقام نہیں مل رہا جو اس کو ملنا چاہیے کیونکہ حکومت کی طرف سے اعلان کی گئی رقم ابھی تک ان کھلاڑیوں کو نہیں مل سکی۔اس سال محمد سجاد نے بنگلور میں کھیلی گئی ورلڈ امیچر اسنوکر چیمپئن شپ کا فائنل کھیلا مگر بدقسمتی سے وہ جیت نہ سکا۔
سکوائش کے میدان میں برسوں حکمرانی کرنے والا پاکستان اب ایک ایک خوشی کو تر س رہا ہے۔ کسی زمانے میں پاکستانی اسپورٹس کی شہ سرخی جہانگیرخان اور جان شیر خان کی جیت سے بنتی تھی لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ رواں برس پاکستانی کھلاڑی کسی بھی بین الاقوامی مقابلے میں کوئی قابل ذکر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرسکا، یہاں تک کہ ایشین گیمز میں پاکستان کا کوئی بھی کھلاڑی سیمی فائنل میں بھی نہ پہنچ سکا۔
کبڈی کے کھیل میں پاکستان کا ستارہ ہمیشہ اونچا رہا ۔ پاکستان نے کبڈی کے کھیل میں ہمیشہ اپنے دشمنوں کو مات دی اور اس سال بھی پاکستان کبڈی ورلڈکپ کے فائنل میں پہنچا مگر بھارت کی جانبداری اور بے ایمانی سے فائنل میں شکست ہوئی ۔ انٹرنیشنل کبڈی نے بھی بھارت کو ورلڈچمپئین ماننے سے انکار کردیا۔
2014میں سابق اسکواش پلیئر ہاشم خان اس جہاں سے کوچ کرگئے۔انہوں نے 100 برس کی عمر میں انتقال کیا۔ ہاکی مقابلوں میں کمنٹری کرنے والے ایس ایم نقی طویل علالت کے بعد خالق حقیقی سے جا ملے۔ایس ایم نقی نے ہاکی کے علاوہ دیگر کھیلوں کی بھی کمنٹری کی لیکن انھیں ملک گیر شہرت ہاکی کمنٹری سے ملی۔

 1,379 total views,  3 views today

Short URL: http://tinyurl.com/gtageyv
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *