۔16دسمبر! سانحہ پشاور

Print Friendly, PDF & Email

( حناء پرویز، لاہور)


یہ قاتل کون ہوتے ہیں !۔
یہ ظالم کون ہوتے ہیں !۔

جوننھوں کو جدا کر دیں لڑکپن کے بکھیڑوں سے
جو جنت کو رہا کر دیں کسی ممتا کے پیہروں سے

یہ باطل کون ہوتے ہیں !۔
یہ عاقل کون ہوتے ہیں !۔

بہت سوچا بہت سمجھا
نہ سوجھا کچھ نہ کچھ سمجھا

بس اک لرزش سی اٹھتی ہے طرف ننھی سی آنکھوں میں
فقط تلخی سی رہتی ہے طرف معصوم ذہنوں میں

کیا جذبے ان کے سینوں میں کہیں ٹھیلے نہیں ہوتے
وہ بھی میری طرح کسی کے بیٹے نہیں ہوتے !۔

یہ جاہل کون ہوتے ہیں !۔
یہ نااہل کون ہوتے ہیں !۔

یہ سب سمجھ کر بھی مجھے کچھ سوجھ نہ پایا
نازک اس ذہن پر جب ذرا سا بوجھ سا پا یا

یہ عاقل کون ہوتے ہیں!۔
یہ آخر کون ہوتے ہیں! ۔

پس اب دئے روشن ہیں میری اس شہادت پر یہاں
ہے سہارا جن کی کرنوں سے میرے ڈر کو یہاں

پل پل ڈھلے جاتی ہے جن کی آتش زنمبر فشاں
یک دم دھیان آیا تو ڈھیری تھی اک آنسو کی عیاں

لاکھوں دئے جن سے میری اب یہ قبر روشن ہے نا!۔
ٹک گل ہوئے جاتے ہیں جب جب تم روتی ہو ماں

ہر ظلم سہہ سکتا ہوں میں
پس خوش رہ سکتا ہوں میں

گولی کھائے ٹانگ پہ بھی، قمیض منہ میں لئے
کہ آئے پاس نہ گماں ہو مجھے زندوں میں لئے

پھر بھی قدموں کی آہٹ کے رخ دیکھ لئے
سرمایہ قوم پر عداوت کے پہر دیکھ لئے

نکل گئی تھی چیخ سر بسر میں اسی خوف کے لئے
موت کا ڈر،کلمہ پڑھ، اٹھ شہادت کے لیے

تکلیف و غم ،رنج و خوف، گرنا ، سنبھلنا تری انگلی پکڑ چلنا
سب کچھ سہن کر سکتا تھا جب پاس تو ہوتی تھی ماں

فقط اب چند دئے ہیں گوشہ اے جنت میں یہاں
جو گھپ اندیھرے میں میرے خوف کے ہیں ساماں

گو ہیں تمہارے آنسو کے رحم و کرم پہ عیاں
بس اب تم رونا نہ ماں بس اب تم رونا نہ ماں !۔

Short URL: http://tinyurl.com/hptusc8
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *