یوم اقبال ۔۔۔۔ تحریر: امجد ملک

Print Friendly, PDF & Email

فرد قائم , ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں

علامہ اقبال کی زندگی , تعلیم , محنت اور خدمت کے اعتراف کے ساتھ ساتھ نئی نسل کو انکے خیالات افکار اور تعلیمات سے روشناس کرانا وقت کی شدید ضرورت ہے. بدقسمتی سے حکومت وقت نے 9 نومبر ” اقبال ڈے ” کی چھٹی کو ہی ” ہوگی ? نہیں ہوگی ? ” میں مشکوک بنا ڈالا۔
عجیب بدقسمتی ہے کہ سیاسی مقاصد ,سیاسی مستقبل , سیاسی فوائد کے لئے تو پٹواری سے لے کے , سربراہان مملکت تک کمر کس لیتے ہیں , بیانات سے لے کر , فنڈنگ تک کا مطمع نظر , سیاسی مفادات کے گرد گھومتا ہے. قومی مشاہیر کو نظر اندازکر کے آج کا نوجوان کو بھی سیاسی چمک دمک پہ لگا دیا گیا ہے. گلی گلی , دیوار دیوار لگے پوسٹرز , نفرتوں , عداوتوں میں لتھڑی تقریریں , 9 نومبر , ایک عظیم مفکر کا یوم پیدائش بھی خاموشی سے گزار دینگی. یہ احسان فراموشی کی انتہا ہے ہماری ضرورت بھی اس وقت یہی ہے , کہ گلی گلی , محلہ محلہ , اسکول , کالج , یونیورسٹیز , پیغام اقبال کو عام کیا جائے. ملک تو ہم نے حاصل کر لیا. لیکن ایک قوم بننے کی ضرورت , پہلے سے بھی کہیں زیادہ ہے. جب قیادت نہ ہو , لیڈر شپ کی کمی ہو , خودی اور خودداری کا درس دینے والا کوئی نہ ہو , تو نوجوانوں کو مغرب کی تقلید سے کون روک سکتا ہے. آج کے نوجوان کو اسلامی تعلیمات , اسلام کی طاقت , اسلامی تاریخ اور ورثہ سے روشناس نہ کرایا جائے , ان میں ہمت , خود اعتمادی اور اپنے آپ پہ بھروسہ کا ایندھن نہ ڈالا جائے تو انکا غیروں سے متاثر ہونا , اغیار کی تقلید کرنا قدرتی امر ہے. بہت کم لوگ اس المیہ کا احساس کر پارہے ہیں , کہ آج کے نوجوان کے دل و دماغ پہ , روز مرہ کے میڈیا پہ آئے سنسنی خیز سکینڈلز , کرپشن , قتل و غارت , بے انصافیوں کے قصے. بہت منفی اثرات چھوڑ رہے ہیں. ایسے وقت میں شدید ضرورت ہے کہ مفکر اسلام علامہ اقبال کی تعلیمات اور فکر کو عام کیا جائے. نوجوانوں میں وہ انقلابی روح پھونکنے کی ضرورت ہے جسکا خواب علامہ اقبال نے دیکھا تھا. آج کے جوان میں ” ربط ملت ” پیداکرنے کی اشد ضرورت ہے. ورنہ جو ملکی حالات ہیں , وطن عزیز کے خلاف اندرونی و بیرونی سازشیں ہیں. خدا نہ کرے کہ “ہماری داستان تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں ”
علامہ اقبال کی تعلیمات کو ,آسان و سلیس ترجمے , واضح مفہوم کے ساتھ , بچے بچے کے ہاتھ میں ہونا چائیے. علامہ اقبال کی زندگی , تعلیم , انکی تاریخی خدمات , کہ جب مغلوں کے زوال کے بھد انگریز بر صغیر میں آئے تو مسلمانوں کی شناخت اور تنزلی بڑھتی گئی. مسلمان ذہنی طور پر مفلوج و بے بس تھے. اپنی شناخت تک کھو رہے تھے. ایسے میں اللّہ نے مسلمانان ہند پر رحم کیا. علامہ اقبال نے قوم میں بیداری کی روح پھونکی , انکی خودداری اور جوان مردی کو اجاگر کیا. 9 نومبر , 1877 کو پیدا ہونے والی اس عظیم شخصیت نے , اپنی تعلیم مکمل کی. اپنی تعلیم و قدرتی صلاحیتوں سے , ذلت و مایوسی میں ڈوبی قوم کی کشتی کو کنارے لگایا. پاکستان , ایک الگ خطہ کا تصور , اور اقبال کی مردم شناسی نے محمد علی جناح جیسے لیڈر کو قیادت کے قابل سمجھا. منزل کی نشاندھی , منزل کے حصول کی تیاری اور زاد راہ کے عظیم سامان سے قوم کو لیس کیا. ورنہ یہ وہ وقت تھا جب ہندو اپنی ہوشیاری سے سرکاری ملازمتوں , عہدوں و وسائل پہ قابض ہو چکا تھا. مسلمان کم تر ملازمتوں تک محدود ہو کر ذلت و رسوائی میں گرتے جا رہے تھے. یہ علامہ اقبال ہی تھے جنہوں نے بیداری کی روح پھینک کر , قوم میں ولولہ , جذبہ اور جدوجہد کی تحریک پیدا کی. آج ایک آزاد وطن کا حصول ہمارا نصیب ہے. لیکن بدقسمتی سے ہم ایک قوم نہ بن سکے.آج ہمیں کہیں زیادہ علامہ اقبال کے افکار نوجوان نسل تک پنچانے کی ضرورت ہے. ہمیں اس ” نور بصیرت “, ان ” بال و پر ” کی آج شدید ضرورت ہے جو اقبال کا خواب تھے۔

 1,294 total views,  2 views today

Short URL: http://tinyurl.com/hpfuewg
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *