یا لہ بُوئیل(زلزلہ

Print Friendly, PDF & Email


یا لہ بُوئل (زلزلہ) کی آواز سنتے ہی سب باہر کی طرف دوڑنے لگے۔کسی کو اتنا ہوش بھی نہیں کہ بچے سوئے ہوئے ہیں ان کا کیا بنے گا ۔گھر کے افراد ایک دوسرے کو آوازیں دے رہے ہیں باہر نکلو باہر نکلو زلزلہ آیا ہے۔باہر کڑاکے کی سردی کسی کو اتنا ہوش بھی نہین کہ ان کے پائوں میں چپل ہے یا سر پر ٹوپی سب کی زبان پہ ایک آواز یا اللہ خیر اللہ اکبر۔میں بھی ان ہی میں سے ایک فیس بک پہ لمبی چوڑی دُعائیں لوگوں سے شیئر اور بتانے والا خود سے اب اس موقع پر ایک بھی دُعا زبان پہ آنے کا نام نہیں لیتی یہاں تک کہ نماز میں روز پڑھنے والی دُعا الحمد شریف بھی سرے سے ذہن سے غائب بس ایک ہی جملہ یا اللہ خیر یا اللہ خیر۔وقفے وقفے سے آنے والے زلزلے نے زمین کے ساتھ سب کے دل بھی ہلا کر رکھ دئے ۔میں جب باہر نکلا تو ٹانگیں میری کانپ رہی تھی جانے سردی سے یا ڈر سے اب میں کوئی شیر تو نہیں آپ سے یہ کہوں کہ نہیں بھائی میری یہ ٹانگیں ڈر سے نہیں بلکہ سردی سے کانپ رہی تھیں۔ جب زلزلہ تھما تو اندر کمرے میں آیا بچے سارے جاگے ہوئے اور بڑے افراد کی طبعتوں میں بھی ایک دم بدلائو دیکھا سب ہی اچانک پورے کے پورے اسلام میں داخل ہوگئے تھے میں بھی ان میں شامل تھا ۔نہ سردی لگنے کی فکر اور نہ ہی سمارٹ فون کی طلب اور نہ ہی سونے کی فکر اب آپ ہی بتائیں وقفے وقفے سے جب زمین ہل رہی ہو تو ایسے میں نیند کہاں سے آئیگی بس اس فکر میں کہ اگر سوگئے تو ایسا نہ ہو کہ ہمیشہ والی نیند کی آغوش میں چلے جائیں ۔چلو اچھا ہوا اس زلزلے کا ایک فائدہ تو ہوا کہ خدا تو یاد آیا اس کی عظمت اور بڑائی کا پتہ تو چل گیا اس کی جباریت کا اندازہ تو ہوا ۔اس کی قہاریت کا ایک نمونہ تو دیکھا اور دل پکار اٹھا ۔ اللہ ہی مشکل کشا۔۔۔ایسے میں دور و نزدیک سے اللہ اکبر کی صدائوں نے تھوڑی دیر کے لئے ہی سہی عجیب پُر سکون ماحول پیدا کر کے اس بات سے بیگانہ کر دیا تھا کہ دنیا نام کی کوئی شے بھی ہے جس میں ہم رہتے ہیں اس تھوڑی دیر میں جو سکون اور راحت میئسر ائی اس کو الفاظ میں بیان کرنے سے قاصر ہوں۔سکون و راحت کے ان چند لحموں کے بارے بس اتنا کہونگا یا اللہ ہم سب کے دلوں میں ایسی راحت اور سکون جو ہمیں زلزلہ کے جھٹکوں میں تجھے یاد کرنے سے ملی بغیر کسی آفت اور مصیبت کے ہمارے دلوں میں انڈیل کہ ہم تجھے صرف خوف اور ڈر یا کسی مصیبت کے بنا یاد نہیں بلکہ آرام و آسائیش کے وقت بھی تجھے یاد کرکے حاصل کریں ۔

180 total views, 3 views today

Short URL: //tinyurl.com/qrsan5n
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *