ہم کس طرف جا رہے ہیں۔۔۔۔تحریر: سحرش فرحان، اٹک

Sehrash Farhan
Print Friendly, PDF & Email

عجب نہیں کہ خدا تک تری رسائی ہو
تری نگہ سے ہے پوشیدہ آدمی کا مقام
تری نماز میں باقی جلال ہے ،نہ جمال
تری اذان میں نہیں ہے مری سحر کا پیام
امتِ مسلمہ جسے اللّہ پاک نے عظیم الشان منصب پہ فائز کیا تھا اور جسے پچھلی تمام امتوں پر برتری عطا کی تھی آج نا واقفِ راہ بھٹک کر دنیا کی تاریکیوں سے روشنی کی بھیک مانگ رہی ہے۔کیونکہ یہ امت ایک طویل عرصے سے اپنے مقصدِ تخلیق سے ہٹ کر گمراہی کی راہ اختیار کر چکی ہے۔عالمِ ارواح میں اللّہ کی ربوبیت کا اقرار کرنے والی یہ امت دنیا میں آکر سرے سے اس عہدِازل کو ہی فراموش کر چکی ہے جس کی بنیاد پر ان کی تخلیق ہوئی تھی۔نہایت رنج و افسوس کا مقام ہے کہ اس امت نے اپنی خداداد عقل و بصیرت اور فطری قوتوں کو ان کے اصلی کام میں نہ لگایا اور ضائع کر دیا۔امتِ محمدیہ کی دوسری امتوں پر فضیلت اور فوقیت کی یہی وجہ تھی کہ یہ امت حق پرستی کی قائل تھی اور انھوں نے اپنی پوری زندگی کوحق کے تابع بنایا تھا ۔اپنی ذاتی خواہشات کو کبھی بھی حق کی راہ میں حائل نہ ہونے دیا۔اور باہمی نزاعات میں بھی ہمیشہ حق کے سامنے گردن جھکا دی۔رسولِ پاک ﷺ کے جانثار صحابہ کرام کی پوری زندگی اس بات کی ایک بہترین مثال ہے۔پر جب سے اس قوم کے اندر حق پرستی میں خلل اور نقصان آیا اسی وقت سے اس قوم کی تنزلی کا آغاز ہو گیا تھا۔بہت ہی افسوس کا مقام ہے کہ کل تک جو قوم حق پرستی کی وجہ سے پوری دنیا پر چھائی ہوئی تھی آج ہوا پرستی کا شکار ہو کر اپنے مقصدِعظیم سے ہٹ گئی ہے۔دنیاوی خواہشات اور نفسانی اغراض کے ہاتھوں مغلوب ہو کر یہ قوم بری طرح ذلیل و خوار ہو رہی ہے۔وجہ اس تنزلی کی یہی ہے ہم نے چھوٹے سے چھوٹے معاملات سے لے کر بڑے سے بڑے معاملاتک حکمِ خدا وندی اور اسوہّ رسول کو فراموش کر دیا ہے۔ہمارے لباس،بول چال،وضع قطع حتیٰ کہ ہمارے پر عمل سے بوغی پن جھلک رہا ہے۔ہمیں مغرب کی اندھی تقلید کی اتنی عادت پڑ گئی ہے کہ ان کے طور طریقے ہمیں مانوس ہی لگنے لگے ہیں۔تاریکی کو روشنی سمجھ کر ہم اندھا دھند اس کی طرف لپک رہے ہیں۔تجربہ شاہد ہے کہ جو قومیں اپنے اصل سے ہٹ کر اندھی تقلید کا شکار ہوئیں،ان کے اقتدار کو سورج جلد ہی غروب ہو گیا۔مگر قرونِ اولیٰ کی غلطیوں سے عبرت حاصل کرنے والی صفت ہی شاید ہم میں مفقود ہو گئی ہے جبھی دن بدن تنزلی کا شکار ہونے والی اپنی قوم کے حالات بھی ہماری آنکھیں کھولنے میں ناکام ہیں۔اپنے حالات کی خرابی کے ذمہ دار خود ہم ہی ہیں اور ہمارے علاوہ اس میں کوئی بہتری نہیں لا سکتا مگر یہ بات نجانے ہماری سمجھ میں کیوں نہیں آتی۔اپنی ترقی اور حالت سنورنے کے لیے نجانے ہم کون سے آسمانی معجزے کے منتظر ہیں۔ہماری کامیابی اور فلاح کا رستہ تو چودہ سو سال پہلے ہی اللّہ نے ہمیں قرآن پاک کے ذریعے دکھا دیا تھا۔مگر ہم خود ہی اس عظیم طاقت کو چھوڑ کر تفرقے میں پڑ گئے اور اس عظیم ا لشان کلام کے احکام سے روگردانی کرلی ایسے میں ہم اپنے تدریجی زوال کا ذمہ دار کس کو ٹھہرائیں۔اپنے اعمال کا جائزہ لینے کے بجائے ہم دوسروں پر تنقید کو اپنا فرض سمجھتے ہیں۔کبھی ہم حکومتوں کو موردِالزام ٹھہراتے ہیں تو کبھی اپنے جیسے عام شہریوں کو،کبھی آرمی ہماری تنقید کا نشانہ بنتی ہے تو کبھی غیر ملکی ایجنسیاں۔مگر اپنی زوال پزیری کے لیے ہم کبھی بھی اپنے آپ کو قصوروار نہیں سمجھتے۔ہم میں سے کوئی بھی اپنا محاسبہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے تو ہمارے حالات میں بہتری کیسے آئے گی؟؟ کہاں سے آئے گی؟؟
ہم خود اپنی ذات سے اصلاح کا عمل شروع کرنے کے لیے ہرگز تیار نہیں ہیں کیونکہ اپنے حالات کے انحطاط کا ذمہ دار ہم خود کو نہیں سمجھتے۔ہمیں بارش کا پہلا قطرہ بننے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ہمارا نہیں،مذہبی رہنماؤں اور اقتدارِاعلیٰ کا دردِسر ہے۔
قرآنِ پاک میں اللّہ تعالیٰ کا ارشاد ہے،
’’اور تم ہی غالب رہوگے اگر تم مومن بنے رہے۔‘‘ (سورۃ آل عمران) اس آیت سے واضح طور پہ ظاہر ہو رہا ہے کہ مسلمانوں کا عروج کامل ایمان کے ساتھ اللّہ تعالیٰ نے مشروط کر رکھا تھا۔آج جو ہم پوری دنیا میں ذلیل و خوار ہو رہے ہیں اس کی وجہ ہمارا ناقص ایمان ہی ہے۔اگر ہم سچے مومن ہوتے تو اللّہ تعالیٰ ہمیں ضرور اس دنیا میں عزتوں سے نوازتا۔ہمارے اسلاف اپنے کامل ایمان کی بدولت عزت کے منتہا کو پہنچے ہوئے تھے اور ہم انتہائی ذلت و خواری میں مبتلا ہیں۔اور اس کی وجہ یہی ہے کہ ہم کامل ایمان کی نعمتِ عظمیٰ سے محروم ہیں۔دنیا کی عارضی چکاچوند نے ہماری آنکھیں اس حد تک اندھی کر دی ہیں کہ ہم اچھے برے،حرام و حلال اور کھرے و کھوٹے کی تمیز ہی بھول گئے ہیں۔کافر قومیں ہم پر بری طرح مسلّط ہو رہی ہیں۔ان کی طاقتوں کا رعب ہمارے دلوں پر خطرناک حدتک چھا گیا ہے جس کی وجہ سے ہم ہاتھ پیر چھوڑ کر ان کے گن گانے پر مجبور ہوگئے ہیں۔
اگر ہم نے اپنے دین اور ملک کو بچانا ہے اور اپنے ملک کو باقی اسلامی ممالک کے لیے نمونہ بنانا ہے تو ہمیں اپنے ملک میں قرآن کا قانون نافذ کرنا ہوگا اور اس کے لیے قربانی دینی ہوگی،عیش و آرام کو قربان کرنا ہوگا،اگر ہم نے آج دینِ حق کے نفاذ کے لیے قربانی نہ دی تو کل اللّہ کے نزدیک ہم بہت بڑے مجرم ہوں گے۔لیکن اسلامی قانون کے نفاذ کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ ہم حضرت محمدﷺ کے پاکیزہ طریقوں کو اپنا لیں،آپ کے اسوہّ حسنہ کو اپنی پوری زندگی پر لاگو کر کے ہمیں پہلے خود کو اسلام پر عمل کرنے کے لیے تیار کرناہوگا،قول و عمل کا تضاد ختم کرنا ہوگا،اور اپنے آپ کو دوسروں کے لیے مثال بنا کر پیش کرنا ہوگا۔ہمارے اس عمل سے اسلامی قانون کا نفاذ ہوگا تو ہمارے دین کا بھی بول بالا ہوگا اور ہمارا ملک بھی ترقی کرے گا۔اسلامی قانون کے نفاذ سے ملک میں بے روزگاری و مہنگائی کا خاتمہ ہوگا،خواص و عوام کو یکساں تحفظ ملے گا،ظلم ختم ہوگا،چوری،ڈاکہ،راہزنی کا ختم ہوں گی،بیماریاں ختم ہوں گی،سکون،امن و آفیت نصیب ہوگی،مصیبتیں،تکلیفیں اور تعصّب ختم ہوگا تو ایک بے مثال معاشرہ قائم ہوگا۔غیر قوموں کا رعب و تسلّط ختم ہوگا تو آسمان سے بھی ہمارے لیے رحمتوں اور برکتوں کے دروازے کھل جائیں گے۔ ۔
ْممکن ہے کہ تو جس کو سمجھتا ہے بہا راں
اوروں کی نگاہوں میں وہ موسم ہو خزاں کا
شاید کہ زمیں ہو یہ کسی او ر جہاں کی
تو جس کو سمجھتا ہے فلک اپنے جہاں کا
Short URL: http://tinyurl.com/zfbpay5
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *