گیارھویں کی رسم

Print Friendly, PDF & Email

تحریر: مفتی شمس الحق،فاضل دارالعلوم کراچی
ماہ ربیع الثانی اسلامی سال کا چوتھا مہینہ ہے اس مہینے میں کئی اہم واقعات پیش آئے۔ ان میں سے چند واقعات مختصراً درج ذیل ہیں۔۱۔ نماز کی رکعات میں اضافہ ربیع الثانی کے مہینے میں ہوا۔۲۔ حضرت عبداللہ بن سلامؓ نے اس مہینے اسلام قبول کیا۔۳۔ مہاجرینؓ و انصارؓ میں بھائی چارے کا عظیم الشان و تاریخی واقعہ اسی مہینے میں پیش آیا۔۴۔ واقعہ یر موک اسی مہینے میں پیش آیا۔۵۔ سریہ حضرت اسامہؓ اس مہینے میں پیش آیا۔۶۔ حضرت امام مالکؒ کا انتقال اس مہینے میں ہوا۔۷۔ حضرت امام قاضی ابو یوسفؒ کا انتقال اس مہینے میں ہوا ۔۸۔ پیران پیر حضرت شاہ عبدالقادر جیلانیؒ کا انتقال اس مہینے میں ہوا۔( وغیرہ وغیرہ)اسی مناسبت سے ہر قمری مہینہ کی گیارہویں تاریخ کو حضرت محبوب سجانی شیخ المشائخ شاہ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ کے نام پر جو کھانا تیار کیا جاتا ہے وہ گیارہویں شریف کے نام سے مشہور ہے۔ خاص کر ربیع الثانی کی گیارہویں شب کو اس کا زیادہ اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس سلسلہ میں چند امور لائق توجہ ہیں۔
اس بارے میں صرف اتنی بات معلوم ہوسکی ہے کہ سیدنا شاہ عبدالقادر جیلانیؒ ، جن کے نام کی گیارہویں دی جاتی ہے، ان کی ولادت ۴۷۰ھ میں ہوئی اور نوے سال کی عمر میں ان کا وصال ۵۶۱ھ ؁ میں ہوا۔ ظاہر ہے یہ رواج ان کے وصال کے بعد ہی کسی وقت شروع ہوا ہوگا۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺصحابہ کرامؓ اور خود پیران پیرؒ اپنی گیارہویں نہیں دیتے ہوں گے۔ اس بنیاد پر یہ کہنا درست ہوگا کہ اسے اہم ترین عبادت کا درجہ دینا صحیح نہیں ہے۔اگر گیارہویں دینے سے مقصود حضرت شیخ جیلانیؒ کی پاک روح کو ثواب پہنچانا ہو تو بلاشبہ یہ نہایت مبارک مقصد ہے، لیکن مروّجہ طریقے سے ایصال ثواب کرنے میں چند خرابیاں ہیں۔
1۔ شریعت اسلامی میں ایصال ثواب جب بھی کیا جائے وہ ہوجاتا ہے مگر مروجہ طریقے میں گیارہویں رات کی پابندی کو کچھ یوں ضروری خیال کیا جاتا ہے گویا یہی خدائی شریعت ہے۔ یا یہ ایک ایسی عبادت ہے جو صرف اسی تاریخ کو ادا کی جاسکتی ہے۔ یہ خدا اور رسول کے مقابلے میں اپنی شریعت بنانے کے مترادف ہے۔
2۔ اس رسم میں کھیر یا کھانے پکائے جاتے ہیں حالانکہ اگر ایصال ثواب کرنا ہوتو اتنی ہی رقم چپکے سے صدقہ کی جاسکتی ہے تاکہ ریا کا احتمال کم سے کم ہو۔ کھیر یا کھانے پکانے کو ایصال ثواب کے لیے ضروری قرار دینا ایک مستقل شریعت سازی ہے۔
3۔ اس کھانے کو بہت سے لوگ متبرک سمجھتے ہیں اور بڑے بڑے مالدار اس کو شوق سے کھاتے ہیں حالانکہ ثواب صرف اُس حصہ کا پہنچے گا جو غرباء و مساکین کو کھلایا جائے، گیارہویں شریف کے کھانے کو متبرک سمجھنا کسی شرعی اصول سے ثابت نہیں ہے۔
4۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ گیارہویں نہ دینے سے ان کے جان ومال کو خطرات لاحق ہوتے ہیں یا مال میں بے برکتی ہو جاتی ہے، گویا نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ جیسے قطعی فرائض میں کوتاہی سے کوئی نقصان نہیں ہوتا، مگر گیارہویں نہ دینے سے جان ومال کو خطرات پیش آتے ہیں، اگر انصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو فرائض شرعیہ سے کسی چیز کا بڑھ کر التزام کرنا اور اُس بارے میں ایسا اعتقاد رکھنا جو فرائض کے ساتھ اعتقاد کو کمزور کر دیتا ہو، ایک نئی شریعت سازی ہے۔
سوم: حضرت شیخ کی کتاب ’’غنیۃ الطالبین‘‘ اور مواعظ شریفہ ’’فتوح الغیب‘‘ کا مطالعہ کرنے والا جانتا ہے کہ آپ حضرت امام احمد بن حنبلؒ کے فقہ کے پیرو کار تھے۔ گویا حضرت شیخؒ کا فقہی مسلک بالکل وہی تھا جو آج کل سعودی حضرات کا ہے، حضرت شیخؒ اگر آج زندہ ہوتے تو یقیناًاس بدعت سے براء ت کا اعلان کرتے اور شیخ سے اعتقاد رکھنے والے یہ حضرات نجدیوں کی طرح حضرت شیخؒ پر بھی وہابی ہونے کا فتویٰ لگا دیتے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ حضرت پیران پیرؒ یا دوسرے اکابر کے لئے ایصال ثواب کرنا سعادت مندی ہے مگر مروّجہ طریقے سے گیارہویں شریف کے نام سے جو کچھ کیا جاتا ہے وہ مذکورہ بالا وجوہ سے صحیح نہیں، وقت کی تخصیص کے بغیر جو کچھ میسر آئے اس کا صدقہ کرکے بزرگوں کو ایصال ثواب کریں۔ انشاء اللہ اس طریقے سے ضرور نفع پہنچے گا۔
فقہی مسائل
مسئلہ: کسی بھی نیک عمل (صدقہ خیرات، دعاء واستغفار وغیرہ) کرکے اس کا ثواب مسلمان مُردوں کو بخشنا جائز اور کارِ ثواب ہے۔ (فتاویٰ رحیمیہ ج نمبر ۷ ص ۹۶)
مسئلہ: شریعت اسلام میں نیک اعمال (صدقہ و خیرات وغیرہ) کی ہر وقت اجازت ہے۔ اپنی طرف سے کسی دن کو خاص کرکے اس میں یہ اُمور انجام دینا اور نہ کرنے والوں کو طعنہ زنی کا نشانہ بنانا بدعت ہے۔ (فتاویٰ رحیمیہ ج نمبر ۲ ص ۷۷)
مسئلہ: ماہ ربیع الثانی کی گیارہویں تاریخ کو صدقہ و خیرات ضروری سمجھنا، اپنی طرف سے تخصیص ہے جو کہ بدعت اور اس سے بچنا ضروری ہے۔ (فتاویٰ رحیمیہ ج نمبر ۲ ص ۷۷)
مسئلہ: یہ گمان رکھنا کہ ماہ ربیع الثانی کی گیارہویں تاریخ میں صدقہ و خیرات نہ کرنے سے مصائب و آفات نازل ہوتے ہیں، یہ ایک غلط نظریہ ہے۔ اس سے توبہ کرنا ضروری ہے۔ (اختلاف امت و صراط مستقیم)

Short URL: http://tinyurl.com/y4uzm2cp
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *