گلگت کورونا لاک ڈون

Print Friendly, PDF & Email

آج کسی عزیز کی وفات پر تعزیت کرنے گلگت شہر کا چکر لگا  چکر کیا لگا بلکہ مجھے چکر آنے لگے  لیکن یہ چکر کسی بیماری  کی وجہ سے نہیں بلکہ یہ سوچ کر کہ شہر کی رونقیں ختم  سنسان اور ہُو کا  عالم اور یہ ہو کا عالم کسی فساد یا گڑ بڑ یا کسی فرقہ ورانہ رنجش کی وجہ سے بھی نہیں تھا بلکہ  یہ سب اس لئے کہ ایک چھوٹا سا جراثیم  یہاں نہ جانے کہاں سے نمودار ہوا ۔پہلے پہل تو یہ چین میں پیدا ہوا  چین  نے امریکہ پر الزام لگا دیا کہ یہ امریکہ میں پہلے پھیلا بعد میں امریکیوں کی وجہ سے ہی یہ چین میں داخل ہوا  گلگت بلتستان کے حوالے سے بات کی جائے تو  کچھ مذہبی جنونیوں نے اسے ایرانی اور عربی بنانے کی کوشش کی پر جی بی کے عوام کو اب عقل آگئی ہے کہ وہ ان باتوں کا اثر نہیں لیتے۔وبا کوئی بھی ہو اچھی تو ہو نہیں سکتی پر اس کی بُرائی بیان نہیں کرنی چاہئے بلکہ اس سے بچننے کے لیئے احتیاطی تدابیر ااور اس کے علاج کا سامان پیدا کرکے انسانیت کو بچانا  ہی سب سے عظیم کام سمجھا جاتا ہے۔ کورونا ایک وبا ہے جو اب تک ایک سو چھیانوے ملکوں میں پھیل چکا ہے اس وبا سے اب تک بہت ساری انسانی جانیں جان سے گئی ہیں  یہاں تعداد بتانا مقصود نہیں  جی بی کے حوالے اس کورونا جراثیم کی روک تھام اور صوبائی حکومت کی حکمت عملی سے متعلق  کچھ حرف لکھنا مقصود ہے  جی حرف بھیجنا نہیں بلکہ  آج دل کرتا ہے کہ صوبائی حکومت اور انتظامیہ کی موثر حکمت عملی سے متعلق  داد تحسین کے چند الفاظ قرطاس میں بکھیر دئے جائیں ۔اس سے یہ بھی نہ سمجھا جائے کہ  میں  صوبائی حکومت کے سب اقدامات سے مطمعن ہوں یا جی بی کے عوام سب  صوبائی حکومت کی واہ واہ کر رہے ہیں ۔میں اگر اس حوالے سے بات چھیڑونگا تو بہت دور تک چلی جائیگی جیسے بجلی اپریل کا مہنہ ہو چلا ہے اور اب تک غائب ہے مطلب یہ کہ اب تک لوڈ شیڈنگ  مسلط ہے۔بات ہو رہی تھی کورونا کہ  کورونا یہ سمجھ کر یہاں داخل ہوا تھا یا تفتان میں کسی کی نا اہلی سے  لیکن صوبائی حکومت کے بروقت اقدامات سے  اس کے مزید پھیلائو  کو روکنے کی صوبائی انتظامیہ کی کوشش بڑی موثر ثابت ہوئی ۔آج شہر کی  سنسان حالت پر جتنا دُکھ ہوا وہاں ڈپٹی کمشنر گلگت جناب نوید صاحب  کی انتظامی صلاحیت کا اندازہ بھی ہوا  کہ اس کی محنت اور کاو ش سے تحصلدار گلگت خالد انور اور دیگر مجسٹریٹ  اور عملہ 24 گھبٹے  اپنے فرائض  بڑے ہی  احسن طریقے سے نبھا رہے ہیں  اس سلسلے میں گلگت شہر کی صفائی ستھرائی کا تو جواب ہی نہیں  انتظامیہ کی دوسری  بڑی کامیاب حکمت عملی  اس سلسلے میں  لوگوں کے لئے   کورونا سے متعلق آگاہی مہم ہے  جو کمشنر گلگت ڈویژن  عثمان صاحب   بڑی خوبی سے نبھا رہے ہیں  ویڈیو پیغامات کے ذریعے لوگوں کو اس موذی وبا سے بچننے  اور احتیاط  برتنے کی ہدایات قومی اور علاقائی  زبانوں میں دی جا رہی ہیں ۔اس کا بڑا فائدہ یہ ہوا ہے کہ لوگوں نے بھی صوبائی حکومت  کے ساتھ تعاون کیا جس کے باعث کورونا لاک ڈون کی حکمت عملی کارگر ثابت ہوئی۔ہر کام میں کیڑے نہیں نکالنے چاہئے جو کام اچھے ہیں اس کی تعریف نہ کرنا بھی بدنیاتی ہے ۔گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت نے 22 مارچ سے گلگت میں لاک ڈون کا آغاز کیا تھا  آج لاک ڈون کو 21 دن ہوئے ہیں  جمعرات اور جمعہ کو مکمل دو دن مکمل لاک ڈون ہوا ۔ کورونا  ایک وبا ہے اس سے اب تک  بہت ساری جانیں  اپنی جان کھو چکی ہیں ابھی تک یہ جراثیم  196 ملکوں میں اپنے قدم جما چکا ہے  ہمیں یہ بھی  معلوم  ہے کہ اس کے آنے میں کورونا کی مرضی نہیں  بلکہ رب کے اذن سے ہی آیا ہے۔ڈر ور سے تو کورونا جائیگا نہیں اس لیئے ڈر اور خوف کو دلوں سے بھگانا ہوگا  اس کو اللہ کی طرف سے ایک آزمائش سمجھ کر  اللہ کی دی ہوئی عقل سے ہروقت  احتیاظ کا دامن تھامے رکھنا ہے صوبائی حکومت کے اقدمات کو سراہاتے ہوئے مکمل تعاون کرنا چاہئے ایسا کرکے کے ہی ہم اس وبا کے  مزید پھیلائو  کی روک تھام میں مدد گار  بن سکتے ہیں۔ نہیں تو ہماری ذرا سی بے احتیاطی  بہت بڑی مصیبت اور مُشکل کا باعث بن سکتی ہے ۔اب تک کی اطلاعات کے مطابق کورونا کی روک تھام میں صوبائی حکومت جی بی کے وزیر اعلیٰ کی کارکردگی سب سے اچھی ہے ۔بہت خوب وزیر اعلیٰ قاری حفیظ الرحمنٰ  اللہ آپ کو مزید اچھے اقدامات اٹھاانے اور کرنے کی توفیق دے ۔

 1,722 total views,  3 views today

Short URL: http://tinyurl.com/vcf5ato
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *