گلگت بن گیا سائبیریا

Print Friendly, PDF & Email


ارے آپ لوگ حیران ہوگئے گلگت کو تو سارگن گلیت کہتے ہیں یہ ایک دم سے گلگت سائبیریا کیسے بن گیا۔آپ کو کس نے کہا کہ گلگت کا نام سارگن گلیت تھا نہیں بابا ہاتون ضلع غذر سے دریافت سنگی کتبے کے مطابق گلگت کا نام گلگتا تھا جو بگڑ کر گلیت بن گیا ۔ نام میں کیا رکھا ہے گلاب کو جس نام سے بھی پکارو گلاب ہی ہے ۔گلیت کہو، گلگتا کہو یا گلگت لیکن آجکل گلگت سائبیریا بن چکا ہے۔کونوداس سکارکوئی اور جوٹیال والے بھی کہنا شروع ہوگئے ہیں کہ سردی بہت زیادہ ہوگئی ہے۔ایسے میں نگرل کلچنوٹ نوپورہ اور بسین میں رہنے والے کیا سردی کو کڑاکے کی سردی کہنے میں حق بجانب نہ ہونگے؟جب یہ لوگ کڑاکے کی سردی کی بات کرینگے تو لازمی بات ہے کہ استور کے باسی یا گلگت بلتستان کےبالائی علاقوں میں رہائش پذیر تو کڑاکے کی اس سردی کا رونا روتے ہوئے گوجال کے بھائی کی طرح یہ کہنے پہ مجبور ہونگے کہ “خُدا ایسی سردی کسی دشمن کو بھی نہ دیکھائے”اپنے گوجالی بھائی کی ا اس بات پر شینا میں داد دینا چاہونگا بِٹھےگا یار بِٹھے گا ۔ اب اس کو بیٹھنے کے زمرے میں نہ لیں اس کا مطلب ہے دل کی بات یا پتے کی بات۔ اب اس بھائی کو کون سمجھائے کہ بھائی اللہ کے ہاں تفاوت تھوڑی ہے ۔اس وقت دوست دشمن سارے ایک ہی موسم کے مزے لے رہے ہیں ۔یقین نہیں تو سیاچن کی طرف ذرا دھیان دیں تو بات واضح ہو جائیگی ۔سردی کی بات ہو اور سائبیریا جہاں درجہ حرارت کے گرنے کی انتہا ہوتی ہے ذکر نہ آجائے کیسے ممکن ہے کہا جاتا ہے کہ سائبریا میں منفی 50 ڈگری سنٹی گریڈ میں بھی بچے سکول جاتے ہیں یہ بھی کوئی خبر ہے اس میں تو ہمیں کوئی فٹ سے وائو کہنے یا حیرانی کی کوئی بات نہیں لگتی ۔مجھے تو گلگت بلتستان سب سے امیزنگ لگتا ہے امیزنگ کیا بھائی سرپرائز ہے یہ بلکل بھی سائبریا سے کم نہیں اور یہاں کے لوگ بھی اتنے کم ہمت نہیں کہ سردی سے ہار مان جائیں ۔سائبریا کے بچے اگر سکول جاتے ہیں تو لازمی بات ہے وہاں ان کو سہولیات بھی میئسر ہونگی ان کا کیا کمال ہے امیزنگ اور سرپرائز تو یہ ہے کہ ہمارے بچے تمام بنیادی سہولتوں سےمحروم منفی10تا50سنٹی گریڈ تک گرجانے والے درجہ حرارت (۔گلگت،سکردو،استور،گوجال اور برکولتی) میں نہ صرف سکول جاتے ہیں بلکہ منجمد برف کو کھیل کے گرونڈ میں تبدیل کرکے مزے بھی لوٹتے ہیں بچے تو چھوڑؑیں جی ہمارے بزرگوں اور ان مرد مومن لوگوں کی بات کریں جو فجر کو اٹھ جاتے ہیں اور پھر ٹھنڈے پانی کی جگہ برف سے وضو کرکے اپنے رب کے حضور پیش ہو جاتے ہیں اوراس سے بھی آگے بات مزے کی ایک یہ بھی ہے فجر نماز میں برف توڑ کر نہانے والوں کی حوصلہ افزائی کے لئے ہمارے پاس نوجوانوں کی ایک ایسی فوج بھی ہے جو اس کڑاکے کی سردی میں اپنے فرائض سے غافل نہیں کمبلوں اورلحافوں کے مورچوں سےاچھی حدیثین اور قرانی آیات کے میزائل مسنجر اور سٹیٹس کے روپ میں داغنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔امیزنگ بھائی امیزنگ۔یہ تو آپ سبھی جانتے ہیں کہ شاہراہ قراقرم کو اٹھواں عجوبہ کہا جاتا ہے ارے بھائی اب یہاں شاہراہ قراقرم ایک اٹھواں عجوبہ اور گوپس کی خلتی جھیل منجمد ہونے کا اپنا منفرد مقام کھو گئے ہیں اب تو گلگت بلتستان پورا ایک عجوبہ ہے ۔بے آئین اور اپنے مرضی چلانے والے حکمرنوں کے اس عجوبے میں ندیاں ہوں یا نہریں جھلیں ہوں یا تالاب ہر جگہ سب ہی منجمد دکھائی دیتی ہیں ۔یہاں تک کہ مہنگائی نے سب کی جیبوں کو بھی منجمد کر دیا ہے بلکل اسی طرح جس طرح پانی کے نل بند بجلی کا پوچھیں ہی نہیں ۔چلتے چلتے ایک اور امیزنگ بات بھی بتاتا چلوں کہ گلگت بلتستان میں ایک ایسا گائوں بھی ہے جہاں کے باسی سردیوں میں اپنے مردے دفن کرنے سے قاصر رہتے ہیں اور وہاں گرمی کے موسم تک لاشوں کو منجمد کیا جاتا ہے ۔آپ گائوں کا نام تلاش کریں یا بوجھیں بس آپ سے یہ کہنا ہے کہ بے شک سب چیزیں منجمد ہو جائیں مگر دل سب کے محبتوں سے ڈھڑکتے رہنے چاہئیں جیسے ماضی میں ڈھڑکتے تھے اس وقت بھی ہم بنیادی سہولتوں سے محروم تھے اور آج اکیسویں صدی میں بھی ہماری حالت میں بدلائو نہیں آیا ہے اب بولو کمال کس کا ہے۔سائبیریا کا یا گلگت بلتستان کا؟
ہے کوئی ہم سا
ہم سا ہو تو سامنے آئے

114 total views, 6 views today

Short URL: //tinyurl.com/qoua2ms
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *