کیپٹن (ر) سید احمد مبین شہید

M. Tahir Tubassam Durrani
Print Friendly, PDF & Email

تحریر: محمد طاہر تبسم درانی
قوم خیراج عقیدت پیش کرتی ہے ایسے بہادر ں نڈر سپوتوں کو جو موت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر بھی نہیں گھبراتے اور وطن عزیز کی سالمیت پر اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دیتے ہیں۔سلام پیش کرتے ہیں ان ماؤں کو جو اپنے لخت جگر اس ملکِ پاک کی حفاظت کی خاطر قربان کر دیتی ہے۔سلام عقیدت پیش کرتے ہیں ایسے بہادر با پ کو جو اپنے بڑھاپے کی فکر سے آزاد اپنے بیٹے کو وطن عزیز کی خاطر مر مٹنے پر اللہ کے حضور سجدہ شکر پیش کرتے ہیں ، سلام پیش کرتے ہیں ایسی بیویوں کو جو وطن عزیز کی خاطر اپنے سر کے تاج کو قربان کر دیتی ہیں، سلام پیش کرتے ہیں اُن بیٹیوں کو کو جو گڑیا کا تقاضا نہیں کرتی اور اپنے باپ کی شفقت سے محروم ہو جاتی ہیں لیکن کسی کے لبوں پر شکوہ نہیں ہوتا۔
پاکستان کی تاریخ بے شمار قربانیوں سے بھری پڑی ہے ۔ دشمن نقصان پہنچانے کے لیے طرح طرح کے حربے استعمال کر رہا ہے ، جب ایک جگہ سے ناکام ہوتا ہے تو دوسرا حربہ لگاتا ہے جب وہاں سے بھی منہ کی کھانا پڑتی ہے تو بے گناہ شہریوں پر خود کُش حملے کروا کر ملک کو اندرونی طور پر غیر مستحکم کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے لیکن ہمارے جوان ، عظیم سپوت اپنی جان پر کھیل کر دشمن کی سازشوں کو ناکام بنا دیتے ہیں۔ہماری قوم کے یہ بیٹے ہمیشہ زندہ و جاوید بن جاتے ہیں ،دھوپ ، چھاؤں ، گرمی سردی کی پروہ کیے بغیر وہ اپنے مشن کی جانب کامیابی سے روا ں دواں ہیں۔
پاکستان کی تاریخ میں ایک بہادر نوجوان اور نڈر انسان بھی آیا جوآج تاریخ کا حصہ بن چکا ہے جس نے موت کو اپنی آنکھوں سے اپنی طرف آتے دیکھا لیکن اپنی جگہ سے ذراہ برابر نہ ہلا دیکھتے ہی دیکھتے زمین نے سرخ چادر لپیٹ لی اور کئی جانیں ، اپنے پیاروں کی آنکھوں میں آنسو دے کے ہمیشہ کے لیے جان آفرین کے پاس چلی گئیں ۔ لاہو ر کو پاکستان کا دل کہا جاتا ہے ، سب اس شہر میں رہنا پسند کرتے ہیں میں بڑے وثوق سے کہتا ہے کہ اس شہر کی اپنی ایک الگ ہی مثال ہے اس جیسا شہر پوری دنیا میں کہیں نہیں، یہ زندہ دلوں کا شہر ہے لیکن حادثہ والے دن فضا سوگوار تھی ۔ہر آنکھ اشک بار تھی، چہروں پر خوف طاری تھا،لب خشک اور دھڑکنیں تیز تھیں، سب اپنے اپنے پیاروں کی تلاش میں نکلے پڑے لیکن قربان جاؤں میں اپنے ملک کے عظیم لوگوں پر جو مصیبت یا بُرا وقت آنے پر ایک دوسرے کا سہارہ بنتے ہیں ، اتفاق و اتحاد کی ایک تاریخ رقم کر دیتے ہیں۔
’’کافر ہوں۔ سر پھرا ہوں مار دیجیے‘‘ قارئین یہ اُس نظم کا عنوان ہے جو کیپٹن سید احمد مبین نے آخری بار سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر پوسٹ کی۔اُن کی اس نظم سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کیپٹن (ر)مبین احمد کو شاعری سے کتنا لگاؤ تھا اور وہ کتنے محب وطن شہری بھی تھے اُن کی اس نظم کو اگر بغور مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ان کو انسانیت سے کتنا گہرہ لگاؤ تھا، وہ دشمن کے لیے کتنی بہادری سے لڑنا جانتے تھے وہ کس قدر نڈر اور بہادر تھے ، وہ دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی جُرت رکھتے تھے ، وہ ایک عظیم انسان تھے۔ وہ ظلم کی خلاف آواز اٹھانے اور اسے ختم کرنے کا جذبہ رکھنے والے بہادر سپوت تھے۔وہ مذہب سے محبت کرنے والے انسان تھے۔ اُن کی نظم کا ایک ایک لفظ اپنی اہمیت رکھتا ہے، اُن کا جزبہ بتاتا ہے کہ وہ کیسے انسان تھے، اکثر ہمارے معاشرے میں خاص طور پر برصغیر میں پولیس کے ساتھ عوام اورعوام کے ساتھ پولیس احترام کا رشتہ نہیں مانا جاتا ، اکثر اوقات پولیس والوں کولوگ محبت اور ایمانداری کی منصب پر بھی تصور نہیں کرتے ۔ لوگوں کی رائے لی جائے تو زیادہ کا جواب نفی میں ہی ہو گا۔لیکن کہاوت مشہور ہے ’’ پانچوں اُنگلیاں برابر نہیں ہوتیں‘‘ جی بالکل یہ کہاوت بالکل درست سمت جاتی ہے اس میں کوئی شک نہیں سرکاری ادارے ہوں یا نجی ادارے، کالی بھیڑیں موجود ہوتی ہیں جو اداروں / ڈیپارٹمنٹس کی بدنامی کا باعث بنتی ہیں لیکن اس کا ہر گز ہرگز مطلب نہیں کہ پورے کا پورا ادارہ ہی غلط ہے ، وہاں کے تمام لوگ بُرے ہیں۔
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں ڈاکٹر قرار زیدی ماہر امراض اطفال کے گھر کیپٹن (ر)سید مبین کی پیدائش 1973ء میں ہوئی انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم مستونگ کیڈت سکول سے مکمل کی ۔ آپ کی پیدا ئش ایک پڑھے لکھے گھرانے میں ہوئی ،پاک آرمی کی خدما ت سر انجام دینے کے بعد انہوں نے 1996ء میں پولیس میں شمولیت اختیار کی، اُن کا تعلق پاکستان کے 24 (چوبیسویں) سول سروسز گروپ سے تھا ان کی پہلی پوسٹ لاہور میں اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس کنیٹ لاہو ر میں ہوئی۔
گھر کیپٹن (ر)سید مبین ایک خوش اخلاق، ملن سار اور محبت کرنے والے انسان تھے ، وہ فرض شناس اور ملک سے انتہائی عقیدت رکھنے والے انسان تھے،وہ اپنے ڈیپارٹمنٹ میں سینئرز کے درمیان با اخلاق اور جونئیرز کے ساتھ انتہائی شفقت کرنے والے سپوت تھے۔ وہ بہادر اور قابل احترم آفیسرتھے ، تمام لوگ ان کے عزت اور عقیدت کا رشتہ نبھاتے تھے۔ کیپٹن (ر)سید مبین نے پنجاب اور بلوچستان میں دہشتگردی کے خاتنے میں اہم کردار ادا کیا وہ بہادر اندان موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر زندہ رہنے کا ہنر جانتے تھے۔ اس لیے مختلف آپریشنز میں انہوں نے کئی ملک دشمن دہشتگروں کو جہنم واصل کرنے میں اپنا کلیدی کردار ادا کیا،شہید احمد مبین سید نے 1990ء میں پاک آرمی سروس کے دوران کراچی آپریشن میں بطور آفیسر شمولیت کی۔ابتدائی دور میں انہوں نے فیلڈ انٹیلی جنس ٹیم سندھ رینجر (ٖFIT ) میں اپنی خدمات پیش کیں۔اس کے بعد انہون نے سندھ رینجرز فورس ’’فیلڈ سکیورٹی‘‘ شمولیت اختیار کی۔ وہ اتنے بہادر تھے کہ ایک بار آپریشن کے دوران ان کو دشمن کی ایک گولی آن لگی جس سے وہ بری طرح زخمی ہو گئے لیکن ہمت نہ ہاری اور اپنے مشن کو جاری رکھا، اُن کی نظر میں پاکستان کی عوام کو امن فراہم کرنا ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ کرنا اولین ترجیحات میں شامل تھا۔وہ ایک بہادر آفیسر تھے ، ان کے شاندار کیریئر میں ڈی پی او قصور، ڈی آئی جی انکوئریشن کوئٹہ،ایس پی ماڈل ٹاؤن، ایس ایس پی تحقیقات لاہور،ڈی آئی جی انوسٹمنٹ بلوچستان اور سی ٹی اور لاہور جیسی اہم پوزیشنز شامل ہیں ، وہ ایک ایماندار اور نہ جھکنے والے آفیسر تھے، وہ ایک ہر دل عزیز شخصیت تھے، کرکٹ کھیلنا پسند کرتے تھے۔وہ اپنے کام کے ساتھ اتنے مخلص تھے کہ ایک دفعہ ایک کیس کی انکوائر ی کر رہے تھے کہ اُن کو 103ڈگری پر شدید بخار تھا لیکن انہوں نے آرام کرنے کو ترجیح نہ دی بلکہ اپنے کام پر فوکس کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی۔انہوں نے کئی خودکش حملوں کی تحقیقات کیں اور دہشتگروں کو گرفتار بھی کیا۔13 فروری 2017 کا ایک بھیا نک دن جب لاہور کے مال روڈ پر ایک خوفناک خود کش دھماکہ ہوا ، جس نے کئی زندگیوں کوگُل کر دیا کئی گھروں کو چراغ بجھاد یے کئی ماؤں کی گود اجاڑ دی اور ایسے میں ایک بہادر پولیس آفیسر اپنے فرائض سر انجام دیتے ہوئے اس حادثہ کا شکار ہو گیا اور اس دار فانی سے کوچ کر گیا ۔ انا للہ وانا الہ راجعون۔
یہ عظیم انسان تین بیٹیوں ، ایک بیٹے اور بیوی کا اللہ کے سہارے چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے چلا گیا۔اُن کی آخری آرام گاہ لاہور کی کیولیری گراؤنڈ قبرستان میں ہے جہاں ان کو پولیس ڈیپارٹمنٹ کے مکمل اعزاز کے ساتھ دفن کیا گیا۔ اللہ ان کے درجات بلند فرمائے۔آمین

Short URL: http://tinyurl.com/y455ywpp
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *